فکاہیہ

’منٹو اِی‘ میں’کفن پوش الومنائی ایسوسی ایشن‘ کا ایک جلسہ

نعمان بدر فلاحی(ریسرچ اسکالر، شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بدلتے حالات اور مستقبل کی توقعات کا جائزہ لیتی ہوئی تحریر
  دنیا بھر میں پھیلی ہوئی علیگ برادری اور ابنائے قدیم کی انجمنیں یا ’الومنائی ایسوسی ایشنز‘ کے لوگ مختلف مواقع پر اپنے جلسوں میں مادر علمی سے متعلق امور و معاملات پر غورو فکر اور تبادلہ خیالات کرتے رہتے ہیں مگر ’آسودگان منٹو ای‘ کے کسی جلسے کی روداد اب تک نظر سے نہیں گزری تھی۔
  چند ہفتے قبل ۶؍ اپریل ۲۰۲۳ء کوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد حنیف بیگ مرحوم کو ان کی آخری آرام گاہ یونیورسٹی قبرستان ’منٹو اِی‘ میں سپرد خاک کیا گیا تو مرحوم سابق طلبہ کی انجمن ’کفن پوش الومنائی ایسوسی ایشن‘ نے عید الفطر کے بعدموصوف کے اعزاز میں ایک استقبالیہ جلسہ کا انعقاد کیا جس کی صدارت سابق پی وی سی اور شعبہ تاریخ کے معروف استاذ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے کی ۔
  یونیورسٹی روایت کے مطابق جلسے کا آغاز قاری محمد عبد اللہ مرحوم کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا ۔ ناظم جلسہ اور ’کفن پوش الومنائی ایسو سی ایشن‘ کے سکریٹری پروفیسر شکیل احمدصمدانی نے پروفیسر حنیف بیگ کا شہر خموشاں میں استقبال کرتے ہوئے انجمن کی جانب سے سفید چادر پیش کی ۔
  جلسہ گاہ میں تا حد نگاہ ’’کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ اْلمَوْتِ‘‘ والے مونوگرام لگے کفن میں ملبوس یونیورسٹی کے ہزاروں سابق طلبہ کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر سبز قالینوں پر بچھی سفید چاندنی پر دو زانو ہوکر یوں ساکت و جامد بیٹھا تھا جیسے کسی زمانے میں سنیچر کی رات کو ہاسٹل کے جونیئرطلبہ اپنے سینئر کے سامنے سر جھکائے باادب اور با ملاحظہ کھڑے ہوتے تھے ۔اسٹیج کے سامنے کی پہلی رو میں پروفیسر ہادی حسن( شعبہ فارسی) پروفیسر رشید احمد صدیقی (شعبہ اردو)پروفیسر اسلوب احمد انصاری (شعبہ انگریزی) پروفیسرمحمدتقی امینی سابق ناظم دینیات (شعبہ دینیات) پروفیسر مختار الدین آرزو( شعبہ عربی ) بابائے سیرت پروفیسر محمدیٰسین مظہر صدیقی( شعبہ اسلامیات)اور شعبہ انگریزی کے پروفیسر فرحت اللہ خان اپنی روایتی رام پوری اونچی مخملی ٹوپی میں جلوہ افروز تھے ۔ قاری صاحب کی پرسوز تلاوت کے بعدناظم جلسہ نے اپنی عادت کے مطابق طویل تمہیدی خطاب کے بعدشہر خموشاں کے نو وارد نائب شیخ الجامعہ پروفیسر حنیف بیگ کو مندرجہ ذیل اشعار کے ساتھ دعوت سخن دی    ؎
جس کو ہم چھوڑ چلے اب وہ چمن کیسا ہے؟
شاخ گل کیسی ہے، کلیوں کے مکاں کیسے ہیں؟
اے صبا !  تو تو اُدھر ہی سے گزرتی ہوگی
اس گلی میں مرے قدموں کے نشاں کیسے ہیں؟
  نو وارد مہمان نے کفن سے اپنا چہرہ باہر نکالتے ہوئے فرمایا  :
  السلام علیکم یا اہلَ القُبُور ! اَنْتُمْ سَلْفُنَا وَ اَنا بِالْخَلْف۔صاحبو!  برزخ کی اس غیر مصروف زندگی میں آپ حضرات کا اپنے چمن کے احوال و کوائف سے واقفیت کے لیے یوں مضطرب ہونا اور مادرِدرس گاہ کی تازہ ترین خبروں کو سننے کا اشتیاق یقیناً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تئیں آپ کے اخلاص اور سرسیداحمد خانؒ کی برپا کردہ علی گڑھ تحریک سے گہری وابستگی کی دلیل ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کے سبب دو برس کے تعطل کے بعد گزشتہ سال سے اب ہماری یونیورسٹی میں باضابطہ طور پر حسب سابق تعلیمی، تدریسی، تحقیقی اور مقابلہ جاتی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں ۔ اقامت گاہوں میں طلبہ و طالبات کی موجودگی سے چمن سرسید کی روٹھی ہوئی بہاریں اور رنگینیاں واپس آگئی ہیں ۔گزشتہ برس ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۲۲ء کو گلستان سید میں منعقد ہونے والا یوم سر سید کا جلسہ طلبہ، اساتذہ اور اعزازی مہمانان گرامی قدر کی پر شکوہ تقاریر، پروگراموں کے تنوع ، معیار کی بلندی اور اپنی شان و شوکت کے اعتبار سے ایک تاریخی جلسہ تھا۔یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں سیمینار، کانفرنس، ورک شاپ اور سمپوزیم وغیرہ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہو رہے ہیں ۔علوم و فنون کے مختلف میدانوں میں ہماری پوزیشن مستحکم اور رینک میں بہتری آئی ہے ۔ متعددنئے کورسز کا آغاز ہوا ہے مگر اسی کے ساتھ بعض امور پر ابھی توجہ نہیں دی جاسکی ہے ۔خدا کرے کہ ہمارا نیا وائس چانسلر اس پہلو سے ہمارے لیے مفید ثابت ہو اور ہمارے تعلیمی و تربیتی نظام میں در آئی خرابیوں کی اصلاح کرسکے ۔
بھائیو! آپ کو یہ معلوم کرکے یقینی طور پر حیرت ہوگی کہ ہمارے علیگ شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور حکمراں جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کا دامن تھام کر پارٹی کی جانب سے’ایم ایل سی‘ بنائے جانے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔  اب ان کی جگہ ’ویسٹ ایشیاء‘ کے پروفیسر محمد گلریز جو ’پی وی سی‘ تھے، کار گزار وائس چانسلر( Acting V.C ) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔طارق منصور صاحب کے عہد میں یونیورسٹی کے تمام جمہوری اداروں کا خاتمہ کردیاگیا۔ طلبہ یونین کا ۲۰۱۹ء کے بعد کوئی الیکشن نہیں ہوا ۔ ٹیچرس ایسوسی ایشن ’’اموٹا‘‘ عملاًباقی نہیں رہی ۔ یونیورسٹی کورٹ کے انتخابات نہیں کروائے گئے ،حالاں کہ وائس چانسلر کے انتخاب میں کورٹ کا اہم اور بنیادی کردار ہوتا ہے ۔ ’کورونا‘کے بہانے دو سال تک یونیورسٹی کو ’آن لائن‘ موڈ میں چلایا گیا ۔ کیسی مضحکہ خیز حقیقت ہے کہ ہماری ایک نسل نے استاد،کلاس روم، لیب اور پریکٹیکل کی شکل دیکھے بغیر موبائل پر کھیلتے ہوئے ہائی اسکول اور انٹر کے امتحانات پاس کر لیے ۔
دسمبر ۲۰۱۹ء میں جب طلبائے عزیز ’شہریت ترمیمی قانون ‘ (Citizenship Amendment Act 2019)  کے خلاف ’باب سید‘ پراحتجاجی مظاہرہ کررہے تھے ، وائس چانسلر کے حکم سے پولیس نے طلبہ پر ایسے یلغار کی جیسے کوئی فوج اپنے دشمن پر حملہ آور ہوتی ہے ۔نہتے طلبہ پرپولیس کے مظالم کی انتہا دیکھیے کہ ’موریسن کورٹ ہاسٹل‘ کے اندر داخل ہو کر اس نے آتشیں ہتھیار استعمال کیے جس سے کئی کمروں میں آگ لگ گئی ۔ دو درجن سے زیادہ طلبہ بری طرح زخمی ہوئے، ریسرچ کاایک طالب علم تو اپنے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا۔ چنانچہ ان مظالم کے خلاف یونیورسٹی اساتذہ کو بھی صد ائے احتجاج بلند کرنی پڑی ۔ صدسالہ تقریبات کے جشن سے عین قبل طلبہ پر پولیس ایکشن کے اس دل خراش واقعہ کے سبب پروفیسرطارق منصورکے وقار اور ان کی امیج کو خاصانقصان پہنچا تھا ۔
   اگست ۲۰۲۱ء میں بابری مسجد کے مجرم اور مسلم دشمنی کا کھلا مظاہرہ کرنے والے بی جے پی لیڈر کلیان سنگھ کی موت کے بعدپروفیسر طارق منصور نے تمام اخلاقی، ملی اورمذہبی روایات کوتوڑتے ہوئے ایک پریس بیان جاری کرکے ایسے قوم دشمن شخص کے لیے دعائے مغفرت کی۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے غیور طلبہ کا جنہوں نے اس کا نوٹس لیا اور یونیورسٹی جامع مسجد پر پوسٹر لگا کر شیخ الجامعہ کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔
  عہدہ سے سبک دوش ہونے کے بعد کسی پارٹی میں جانا تو ان کا ذاتی معاملہ ہوتا، لیکن شیخ الجامعہ کے منصب پررہتے ہوئے انتہائی سستے داموں میں اپنے ضمیراور ایمانی حمیت کا سودا کرنا پوری علیگ برادری کے لیے رنج کا باعث بنا۔ ماضی میں مرکزی حکومتیں ہمارے وائس چانسلرس کو بیرونی ممالک میں سفیر، گورنر، نائب صدر اورصدر جمہوریہ وغیرہ بناتی رہی ہیں مگر ’ایم ایل سی‘ بن کرانہوں نے علی گڑھ کے وقار کو مجروح کیا ہے ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ وائس چانسلر شپ کے بعد صوبائی کونسل کی رکنیت قبول کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی پروفیسرسبکدوش ہونے کے بعدکسی اسکول میں کلرک بن جائے‘‘۔
  ’’سخت ناپسندیدہ ہے وائس چانسلر کی یہ حرکت، آخرایسی بھی کیا مجبوری تھی کہ اپنے آباء و اجداد کی عزت کا بھی خیال نہیں رکھا ؟‘‘ حاضرین کی پچھلی صفوں سے ایک کفن پوش کی آواز بلند ہوئی ۔
  پروفیسر حنیف بیگ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا  :
  ’’صاحبو !  میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ ہمارے نظام تعلیم وتربیت کا جنازہ نکل چکا ہے ۔اپنی وفات سے چند ماہ قبل B.Scسال اول  کے ایک طالب علم سے خیر خیریت کے بعد میں نے پوچھا کہ آج کل کون سی کتاب آپ کے زیر مطالعہ ہے ؟ اس نے جواب دیا: میرے پاس کوئی کتاب نہیں ہے ۔میں نے دوبارہ پوچھا کیا آپ کے نصاب (Syllabus)میں بھی کوئی کتاب شامل نہیں ہے ؟ برخوردار کہنے لگے ’’میں نے اپنے سر سے کتاب کے متعلق پوچھا تھا توانہوں نے کہا ’’میں جو نوٹس تمہیں دے رہا ہوں امتحان کے لیے یہی کافی ہے، کتاب کے چکر میں مت پڑو ، کنفیوز ہو جاؤ گے‘‘ ۔
وہ تہذیبی روایات اب علی گڑھ میں مر رہی ہیں جن پر علیگ برادری کبھی فخر کرتی تھی ۔ ڈائننگ ہال میں کھانے کی میز پرپہلے سے موجود طالب علم اپنے بعد آنے والے سے اب رسماً کھانے کے لیے نہیں پوچھتا ۔ اگر کسی نے اتفاق سے پوچھ لیا تو بیشتر نئے طلبہ کویہ نہیں معلوم کہ ایسے موقع پر جواب میں ’’بارک اللہ‘‘ کہنا چاہیے ۔ سینئر طلبہ کھانے کی میز پرکرتے پاجامے میں ملبوس نظر آتے ہیں۔اب سرسید ہال( شمالی و جنوبی) اور آفتاب وغیرہ کے طلبہ شیروانی کے بغیرکرتے پاجامہ، یا لُوَر‘ ٹی شرٹ اورہوائی چپل میں بلا تکلف شمشاد مارکٹ اور تصویر محل تک گھوم آتے ہیں۔ ہاسٹل کی راہ داریوں میں نیکر پہن کر ٹہلنے والے بے ادب بھی نظر آجائیں گے۔سینئرس اور بڑوں کو سلام کرنا کبھی ہماری تہذیب کا جزو لاینفک ہوا کرتاتھا، مگر اب نہیں۔ علی گڑھ تشریف لانے والے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے سابق طلبہ اکثر یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ ’’یہ وہ علی گڑھ نہیں جسے ہم چھوڑ کر گئے تھے اور جس کی داستان ہم اپنے بچوں کو فخرکے ساتھ سناتے ہیں‘‘ ۔
  زندگی کے آخری چند برسوں میں علی گڑھ کے تہذیبی زوال اور یونیورسٹی کی قابل فخر روایات کی پامالی کا ہر سطح پر مشاہدہ کرتا رہا ہوں مگرہمیشہ دل مسوس کر رہ گیا۔ شکوہ کرتا بھی تو کس سے کرتا ؟ اپنی معروف روایات اوریونیورسٹی کی نظریاتی، فکری اور تہذیبی بنیادوں کے تحفظ کا خیال اب کسی شخص کے اندرنظر نہیں آتا۔
  علیگ برادری ۱۷؍ اکتوبر کوسیدوالا گہر کی تربت پر فاتحہ خوانی کے بعد ڈنر توکھاتی ہے مگر ان کا پیغام، جذبہ، خلوص، ایثار اور قربانیاں فراموش کردی گئی ہیں ۔وائس چانسلرجنرل ضمیر الدین شاہ کے زمانے میں سر سیدکی نشانیوں اور ان کی تعمیر کردہ یونیورسٹی کی تاریخی عمارتوں مثلاً اسٹریچی ہال، وکٹوریہ گیٹ اور جامع مسجد وغیرہ کی تزئین و آرائش اور مرمت پر خصوصی توجہ دی گئی اور ایک خطیر رقم صرف کی گئی مگران کے تہذیبی اور تربیتی افکار، نیز طلبہ،اساتذہ اور اقامت گاہوں سے متعلق ان کے بنیادی تصورات ونظریات، خاکوں، خوابوں اور عملی اقدامات کا تذکرہ بہت کم ہوا ۔طلبہ کی ذہن سازی ،فکر کی تعمیر اور تربیت کا مقصد یونیورسٹی انتظامیہ کی نگاہوں سے یکسر اوجھل ہے یا اس کی صورت مسخ ہوگئی ہے۔اپنے بانی کے فکر ونظر اور اصولوں کو عملاً فراموش کرنا ‘علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
   ڈاکٹر شارق عقیل نے کینیڈی ہال میں ایک جلسے کی نظامت کرتے ہوئے ایک دفعہ بڑا خوبصورت شعر سنایا تھا  :
نظام میکدہ بگڑا ہوا ہے اس قدر ساقی
اسی کو جام ملتا ہے جسے پینا نہیں آتا
  آج سرسید احمد خاں کی یہ عظیم درس گاہ اور اس کی اقامت گاہیں ایسے افراد کی تشکیل سے قاصرنظر آتی ہیں جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ملت اسلامیہ ہند کے دفاع لیے تیارہوں۔
  میرے عزیز اور محترم کفن پوش بھائیو !  سر دست یونیورسٹی کا سب سے اہم معاملہ نئے وائس چانسلر کا انتخاب ہے ۔ پروفیسر طارق منصور تقریباً ۶ برس کی مدت گزار کر رخصت ہو چکے ہیں ۔مؤرخ ان کے عہد کا تجزیہ اعداد و شمار، حوالوں ، مثالوں ، واقعات اور احوال و کوائف کی روشنی میں ضرور کرے گا، مگرمیرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ انہیں علی گڑھ کی تاریخ کا ایک ناکام شیخ الجامعہ قرار دیا جانا چاہیے ۔
   اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ بے ضمیری، خوشامدی، منافقت اور مفاد پرستی کی دیمک چمن سر سید کے اجتماعی وجود کو کھوکھلا بنا رہی ہے ۔یونیورسٹی کی اقامتی زندگی (Hostel Life)بد نظمی کا شاہکار ہے اورغیر منصوبہ بندی کی بدترین علامت ہے، اقامتی ہالوں میں طلبہ کی نگرانی ،رہ نمائی اور تربیت کا کوئی نظم نہیں ۔وارڈن اور پرووسٹ حضرات کا عام طلبہ سے ربط و تعلق تقریباً صفر ہے ۔ ان کی ذمہ داریوں میں ہی یہ بات شامل نہیں ہے کہ وہ کمروں میں جاکر طلبہ کے مسائل اور تعلیمی صورت حال کے بارے میں دریافت کریں اورلغویات ، بے راہ روی،لا مقصدیت، فکری انتشار اور منفی جذباتیت کاشکار ہونے والے طلبہ کی کیفیت اور صورت حال کے مطابق نفسیاتی ، اخلاقی اور تہذیبی اصولوں کی روشنی میں ان کی مناسب رہ نمائی کریں۔ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نئے وائس چانسلر کے پینل میں اپنا نام شامل کروانے کے لیے لابنگ، گروہ بندی اور جوڑ توڑکا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ ای سی کے ممبران کی دعوتیں ، خصوصی ملاقاتیں نیز نوازشوں اور وعدوں کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔شعبہ قانون کے ایک استاد جوپہلے ہی دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں،اب تیسری بار علی گڑھ میں وائس چانسلر بننے کے لیے خودکو پروجیکٹ کررہے ہیں اور باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔ انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والے اپنے کالموں میں سنگھ پریوار، بی جے پی اور موہن بھاگوت کے تئیں محبت کا اظہار اور ان کے حق میں مثبت رائے زنی اورانسانیت دشمن بھگوا تحریک کے لیے تعریفی کلمات لکھنا سب کچھ کھول کربیان ہورہا ہے ۔
   خیر چھوڑیے ان باتوں کو، ہم اور آپ اب یہاں برزخ میں کر بھی کیا سکتے ہیں۔ جب مواقع حاصل تھے تو بیشتر افراد  ذاتی مفادات کے چکر میں ملی اور قومی ذمہ داریوں سے غافل رہے ۔اب تو صور پھونکے جانے تک بس یوں ہی ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق بے حس و حرکت پڑے رہیے۔ کسی کے پاس کوئی سوال ہو یا کوئی وضاحت مطلوب ہوتو میں حاضر ہوں ۔
سامعین کی پہلی صف میں موجود ’گنج ہائے گراں مایہ‘ کے مصنف، فخر علی گڑھ پروفیسر رشید احمد صدیقی اپنی چھڑی کے سہارے کھڑے ہوئے اور لرزتی ہوئی آواز میں بولے ’’یہ بتائیں کہ ہمارے طلبہ کاعلمی، ادبی اور شعری ذوق کیسا ہے؟ کیا شہر یار کے بعد شعبہ اردو میں کوئی شاعر پیدا نہیں ہوا ؟کیا ڈبیٹ ، بیت بازی، لطیفہ گوئی اور تقریری و تحریری مقابلوں کا چلن باقی ہے ؟
ابھی چند ماہ قبل اسی بستی میں فزکس کے سعید الظفرچغتائی سے ملاقات ہوگئی تو فرمانے لگے ’’ اب علی گڑھ کے طلبہ میں وہ ظرافت ، بذلہ سنجی اور حاضر جوابی دیکھنے کو نہیں ملتی جس کا تذکرہ آپ کی ’’آشفتہ بیانی میری‘‘ اور مختار مسعود کی ’حرف شوق‘ میں کیا گیاہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’انٹرنیٹ اور وائی فائی کی ۲۴ گھنٹے مفت سہولت نے طلبہ کی اخلاقی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ عظیم اکثریت علمی، تہذیبی اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی پستی کا شکار ہو چکی ہے‘‘
آپ یہ بتائیں کہ ہمارے اساتذہ، یونیورسٹی انتظامیہ اور سینئر طلبہ کو آخر یہ سب نظر کیوں نہیں آرہا ہے؟ کیا سب کے سب اندھے ہو گئے ہیں؟‘‘
 پروفیسر حنیف بیگ اپنی نشست پر پہلو بدلتے ہوئے بولے ’’دیکھیے! بصارت توبیشتر افراد کی سلامت ہے، البتہ بصیرت سے سب  محروم ہوتے جارہے ہیں ۔
عربی کے مرحوم پروفیسر مختار الدین آرزونے قطع کلامی کرتے ہوئے فرمایا ’’ ایک زمانے تک علی گڑھ سے قومی سطح کے لیڈر اور رہ نما نکلتے رہے ہیں، جنہوں نے ملک و قوم کی رہ نمائی کی ہے ۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے یا بند ہو گیا ؟؟
دیکھیے جناب ! وہ زمانہ رخصت ہو گیا جب علی گڑھ میں قومی، ملکی اور بین الاقوامی امور پر غور وفکراور مباحثہ کے بعدایک موقف اختیار کیا جاتا تھا جس کا دنیا انتظار کرتی تھی اور جس پر حکومتوں کی نظر ہوتی تھی ۔ یونین کے رام پور حامد ہال میں منعقد ہونے والے مذاکروں اور Debate وغیرہ کا علمی معیار، لٹریری سوسائٹی کی ادبی اور علمی سرگرمیاں ، ’کیفے ڈی لیلیٰ‘ اور ’کیفے ڈی فوس‘ پر چائے کی چسکیوں کے درمیان باذوق طلبہ کی شعری مجلسیں ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہیں ،مگر اب اِن علمی روایات، دانشورانہ کردار اور علی گڑھ کے تہذیبی امتیازات کے تحفظ کی فکر کرنے والے عنقاء ہوتے چلے جارہے ہیں ۔علی گڑھ کا تہذیبی زوال ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا دردمحسوس کرنے والے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مرکز علم و دانش جوہماری انقلاب آفر ین صداؤں ، دور اندیش نگاہوں اور بصیرت افروز خیالات کے ترجمان مقالات کا منبع ومخرج تھا ، اب بتدریج اندھوں ، بہروں اور گونگوں کا مسکن بنتا چلا جارہا ہے ۔خالص علمی تحریریں ، چشم کشا مضامین اوراعلیٰ تخلیقی معیار کی نمائندہ تصنیفات دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں ۔ہمارے دانشور کنوئیں کے مینڈک ہوگئے ہیں ۔
یونیورسٹی کی ادبی، ثقافتی، علمی اور لٹریری سرگرمیوں میں شرکت کے متمنی زندہ دل ، خوش پوش، فعال اور اسمارٹ نظر آنے والے طلبہ معدوم ہوتے چلے جارہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ متعدد سنجیدہ اہل علم کتابوں ،اخبارات و رسائل، ادب اور شاعری وغیرہ سے فطری لگاؤاور انسیت رکھنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے معقول انعامات اور ایوارڈ وغیرہ کا مطالبہ کر چکے ہیں۔کسی دانشور کا یہ قول بہت مناسب ہے  :
Where there is no vision, the people perish
  پروفیسر حنیف بیگ کی مؤثر تقریر کے بعد ناظم جلسہ پروفیسر شکیل صمدانی مرحوم نے ’تاریخ مشائخ چشت‘ کے مصنف سابق صدر شعبہ تاریخ و سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر خلیق احمد نظامی کو صدارتی خطاب کے لیے مدعو کرنے سے قبل ایک قیمتی تجویز پیش کی جس کی تائید میں سبھی کفن پوش مرحوم علیگ حضرات نے اپنی گردنوں کو اوپر نیچے حرکت دی اور ہاتھوں کو بلند کیا ۔
  ’’۲۰۱۹ء میں مجھے’صدی تقریبات‘کے تناظر میں یونیورسٹی انتظامیہ نے’سر سید اویرنیس مشن‘پروگرام کا کوارڈینیٹر بنایا تھا۔ اس مشن پروگرام کے تحت یونیورسٹی کے تمام شعبوں، اقامتی ہالوں اور فیکلٹیز میں سر سید کے مشن کے تعارف اور اس کی تفہیم کے لیے پروگرام منعقد کیے جانے تھے مگر نومبر ۲۰۱۹ میں C.A.A اور N.R.C کی مخالفت میں طلبا کی احتجاجی تحریک اور مارچ ۲۰۲۰ء میں مہلک وبائی بیماری کووِڈ ۱۹ کے سبب ان پروگراموں کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ اب جب کہ کیمپس میں ہر قسم کی تعلیمی، ادبی ، تحقیقی اور تربیتی سرگرمیاں حسب سابق بحال ہوچکی ہیں، اگر یونیورسٹی اپنے اس طے شدہ ملتوی پروگرام کے از سر نو انعقاد کا منصوبہ بناتی ہے تو یہ طلبا وطالبات، علی گڑھ تہذیب اور سرسید کے تعلیمی مشن کے لیے اکسیر ثابت ہو گا۔‘‘
  صدر جلسہ پروفیسر خلیق احمد نظامی کو صدارتی کلمات کے لیے دعوت سخن دی گئی تو موصوف نے مدرسۃ العلوم لمسلمانان ہند اور محمڈن اینگلو اورینٹل کالج سے متعلق اہم تاریخی واقعات پر اختصار سے روشنی ڈالی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلم بھارت کی نشاۃ ثانیہ کی علامت قرار دیا ۔
سرسید احمد خاں ؒنے جب ۱۸۷۵ء میں مدرسۃ العلوم کا سنگ بنیاد رکھا توان کے ذہن میں کسی عام اسکول یا کالج کا خاکہ نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسی دانش گاہ قائم کرنا چاہتے تھے جہاں ۱۸۵۷ء کے غدر میں لٹی پٹی مظلوم قوم کے فرزندوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت بھی ہو۔ ایسی تربیت جواُن کے اندر یقین محکم ، خود اعتمادی اور زندگی کے مختلف میدانوں میں امتیازی شان کے ساتھ مقابلوں میں کامیابی کے پرچم لہرانے کا جذبہ و امنگ پیدا کردے۔ ایسی تربیت جو پستیوں کو بلندیوں سے اور ظلمتوں کو نور سے بدل دینے کا حوصلہ بیدار کردیتی ہے۔ یہ اُن کا محض کوئی رومانی خواب اورخیالات کی ترنگ نہیں تھی،بلکہ اس کے لیے انہوں نے باضابطہ ایک ایسا جامع منصوبہ بنایا تھاجس میں تربیت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی ۔اور اس کا ذریعہ تھیں ہماری اقامت گاہیں یعنی ہاسٹل ۔
انگریز پرنسپل تھیوڈر بک (Theodor Beck)کی پرنسپل شپ کے دوران جولائی ۱۸۸۷ء میں ایم اے او کالج میں درس قرآن مجیدکا سلسلہ جاری کیا گیاتھا۔ روزآنہ کلاس شروع ہونے سے نصف گھنٹہ قبل طلبہ ہال میں جمع ہوتے ، پہلے چند قرآنی آیات کی تلاوت ہوتی اور پھر اس کا معنیٰ و مفہوم نہایت تفصیل سے بیان کیا جاتا ۔ اسٹریچی ہال کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہی ہال مقام درس بھی بن گیا ۔
سر سیدؒ چاہتے تھے کہ جو طالب علم بھی یہاں سے فارغ ہو کرنکلے وہ اپنی قومی خصلت سستی اور کاہلی کے بجائے مستعد، جفاکش، مہذب اور عمل کا پیکر ہو ۔ وہ تعلیم یافتہ بھی ہو اورنیکی کا جاں باز سپاہی بھی۔ اس کا دماغ فرسودہ خیالی، عدم تحمل و برداشت، نازک مزاجی اور بدتہذیبی کے جملہ مظاہر سے خالی ہو۔ اسے اپنے دست و بازو پر بھروسہ ہو۔ بیکاری اور آرام طلبی اس کو وبال معلوم ہونے لگے۔گرچہ کھیل مقصود بالذات نہیں تھے مگر جسمانی ریاضت اور مختلف کھیلوں پر توجہ دے کر جسم کو صحت مند، چاق و چوبند اور متحرک رکھنا بھی ان کے نزدیک ایک مطلوب شیٔ تھی ۔
سیداحمدؒ چاہتے تھے کہ یہاں کے طلبہ تقویٰ اور احسان، ایثار و قربانی، عجز و انکسار، فراخ دلی، درد مندی اور خیر و فلاح کا پرچم ہاتھوں میں لے کر ایک نئی دنیا تعمیر کریں … چنانچہ انہوں نے مایوسی ، بے بسی اور تخریب کے ویرانے میں آشیانہ بنانے کے لیے چند تنکے جمع کیے ، کٹے ہوئے بازوؤں کو پرواز کا حوصلہ دیا ، لڑکھڑاتی ٹانگوں کو استقامت بخشی ، بہروں کو کان اور گونگوں کو زبان دی ،بے حسی کو ضمیر اور سنگ دلی کو کرب و اضطراب دیا ، تعصب کو وسعت قلب و نظر اور بند آنکھوں کو روشنی عطا کی ۔مگر ہائے افسوس    ؎
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
موجودہ حالات میں’ ایگزیکیٹیو کونسل‘اور یونیورسٹی کورٹ ممبران نے نئے شیخ الجامعہ کے انتخاب میں اگر دوبارہ پھر وہی غلطی کی تو اس کا خمیازہ اور خسارہ ناقابل تلافی ہوگا ۔ میرے خیال میں ایسے لائق اور فائق افراد کے اسمائے گرامی کو وی سی پینل کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے جوسر سید ،ان کے مشن، علی گڑھ تہذیب اوریونیورسٹی کی تاریخ اور اس کی روایات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر یونیورسٹی کا کھویا ہوا شرف و امتیازاور وقار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انتھک جدو جہد کا جذبہ، قوت اور صلاحیت موجود ہو۔
اب مشکل یہ ہے کہ ہماری مہلت عمل ختم ہو چکی ، ہمارے ذہن و دل میں موجزن یہ خیالات اور احساسات علیگ برادری تک پہنچیں گے کیسے ؟؟(کفن پوش حاضرین گردنیں جھکائے خاموش بیٹھے تھے )
بس ایک ہی صورت میری سمجھ میں آتی ہے کہ ہم اپنے رب سے خوابوں کے ذریعہ اپنا پیغام یونیورسٹی کے ارباب حل وعقد تک پہنچانے کی درخواست کریں ۔ ممکن ہے کسی مولا صفات بندہ خدا سے خواب میں ملاقات ، گفتگو ، تبادلہ خیالات اور شہر خموشاں کے اس جلسے کی رپورٹ کوسر سید کے جاری کردہ ’تہذیب الاخلاق‘ میں اشاعت کی غرض سے بھیجنے کا موقع مل جائے ۔‘‘
 تمام کفن پوش شرکاء نے صدر مجلس کی اس تجویز پر گردن ہلا کر اتفاق ظاہرکیا ۔ایسوسی ایشن کے سکریٹری اور ناظم جلسہ پروفیسر شکیل صمدانی کے کلمات تشکر کے بعد سابق ناظم دینیات مولانا محمدتقی امینی مرحوم کی پرسوز دعاء پر’ الومنائی ایسوسی ایشن،منٹو ای ‘یونٹ کا یہ استقبالیہ جلسہ اختتام پزیرہوا ۔سبھی کفن پوش حاضرین جلسہ ربّ کریم کی رحمتوں اور مغفرت کی آس لگائے اپنی اپنی قبروں میں جاکر دوبارہ لیٹ گئے ۔
[email protected]
***

 

***

 ’’ زندگی کے آخری چند برسوں میں علی گڑھ کے تہذیبی زوال اور یونیورسٹی کی قابل فخر روایات کی پامالی کا ہر سطح پر مشاہدہ کرتا رہا ہوں مگرہمیشہ دل مسوس کر رہ گیا۔ شکوہ کرتا بھی تو کس سے کرتا ؟ اپنی معروف روایات اوریونیورسٹی کی نظریاتی، فکری اور تہذیبی بنیادوں کے تحفظ کا خیال اب کسی شخص کے اندرنظر نہیں آتا۔‘‘


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 28 مئی تا 03 جون 2023