دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے میڈیا تک رپورٹ لیک ہونے کے معاملے میں پولیس کو سخت و سست کہا، پولیس تحقیقات کو ’’آدھا ادھورا‘‘ اور ’’کاغذ کا بے کار ٹکڑا’’ قرار دیا

نئی دہلی، مارچ 2: بار اینڈ بنچ کی خبر کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے چارچ شیٹ داخل کرنے سے پہلے میڈیا کے سامنے کسی ملزم کا مطلوبہ انکشافی بیان لیک کرنے پر پولیس کو کھری کھوٹی سنائی۔

عدالت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا کی جانب سے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق کیس کے سلسلے میں دائر درخواست کی سماعت کررہی تھی۔

جسٹس مکتا گپتا کے سنگل جج بنچ نے اس معاملے میں پولیس کی انکوائری رپورٹ کو ’’آدھا ادھورا‘‘، ’’کاغذ کا بیکار ٹکڑا‘‘ اور ’’ایک عام چوری کے معاملے میں کی گئی انکواری سے بھی بدتر‘‘ قرار دیا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق عدالت نے یہ نشان زد کرتے ہوئے کہ ستمبر سے جنوری کے دوران چار مہینوں میں صرف چار یا پانچ بیانات ریکارڈ کیے ہیں، کہا کہ فائل میں ’’تفتیش کی نگرانی کس نے کی‘‘ اس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

جج نے مزید کہا ’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس انکوائری پر تبصرہ کروں؟ میں کہوں گا کہ یہ ایک بیکار کاغذ ہے اور یہ توہین عدالت ہے کہ اس عدالت نے ایک مناسب تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔۔۔۔یہ ویجیلینس انکوائری دیکھیں۔ یہ چوری کے ایک عام معاملے میں کی جانے والی انکوائری سے بھی بدتر ہے۔‘‘

جج نے دہلی کے اسپیشل کمشنر سے کہا کہ وہ اس کے سامنے پیش ہوں اور معاملے کو مزید سماعت کے لیے 5 مارچ کو درج کیا۔

دہلی پولیس کے لیے پیش ہوئے وکیل امت مہاجن نے کہا کہ رپورٹ لیک ہونا ناپسندیدہ ہے اور تفتیشی ایجنسی بھی اس سے مایوس ہے۔

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ وہ پولیس کو اس لیک کے لیے ’’مکمل طور پر ذمہ دار‘‘ نہیں ٹھہرا رہی ہے لیکن ’’آپ کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ لیک کب ہوا؟ یہ بھی چوری ہے … یہ آپ کی جائیداد ہے۔ آپ قانونی کارروائی کرنے کے حق دار ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ تنہا نے گذشتہ سال دائر اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ پولیس عہدیداروں نے ان کا اعترافی بیان میڈیا کو لیک کیا ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ لیک ہونے والی معلومات کی بنیاد پر دو میڈیا آؤٹ لیٹس اوپ انڈیا اور زی میڈیا نے تنہا کے جرم کے دعوے کرنے والی خبروں کو شائع کیا، حالاں کہ عدالت میں بطور ثبوت ’’اعترافی بیانات‘‘ قابل قبول نہیں ہیں۔

پیر کو سماعت کے دوران تنہا کے وکیل ایڈووکیٹ سدھارتھ اگروال نے دعوی کیا کہ اس معاملے کے تمام ملزمان کو ایک ہی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، رپورٹس کا میڈیا میں لیک ہونا۔