چھتیس گڑھ: بھیڑ نے عیسائی پادری اور دیگر دو افراد کو رائے پور میں پولیس اسٹیشن کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا

نئی دہلی، ستمبر 6: این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز چھتیس گڑھ کے رائے پور میں ایک عیسائی پادری اور دو دیگر افراد کو ایک پولیس اسٹیشن کے اندر پیٹا گیا۔ یہ تشدد کیمرے میں قید ہو گیا۔

یہ واقعہ پرانی بستی پولیس اسٹیشن میں پیش آیا جب پادری ہریش ساہو کو پولیس کو جبری مذہب تبدیل کرنے کی شکایات موصول ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن بلایا گیا۔ دائیں بازو کی تنظیم کے ارکان بھی پولیس سٹیشن پہنچے تھے، جو ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جب ساہو مسیحی برادری کے کچھ افراد کے ساتھ تھانے آیا تو ان کے اور دائیں بازو کی تنظیم سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان بحث ہوئی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ساہو کو اس افسر کے کمرے میں لے جایا گیا جو تھانے کا انچارج ہے، جہاں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پولیس نے بتایا کہ ساہو پر کمرے کے اندر حملہ کیا گیا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کرسچین فورم کے جنرل سکریٹری انکش بارییکر اور پرکاش مسیح نامی شخص کو بھی مارا پیٹا گیا۔

واقعے کی ویڈیوز میں پادری کو جوتوں سے مارتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہیں پولیس کو ہجوم پر قابو پانے اور انھیں کمرے سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 147 (فسادات)، 294 (فحش حرکتیں اور گانے)، 323 (چوٹ پہنچانا) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی) تارکیشور پٹیل نے کہا ’’دونوں گروہوں کے درمیان جھگڑے کے دوران تھانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اب ہم (مذہب کی تبدیلی کی) شکایت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں جو ملتا ہے اس کی بنیاد پر ہم کارروائی کریں گے۔‘‘

یہ واقعہ اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد پیش آیا ہے جب 100 سے زائد افراد کے ہجوم نے مبینہ طور پر ایک اور پادری، 25 سالہ کول سنگھ پرستے کو ریاست کے کبیردھام ضلع میں اس کے گھر میں مارا پیٹا تھا۔ ہجوم نے پرستے پر بھی مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگایا تھا۔