مدھیہ پردیش:مسلم نوجوان کے ساتھ حیوانیت،چپلوں سے پیٹا اورپیر چٹوائے

گوالیر،08جولائی:۔

مدھیہ پردیش میں ان دنوں انسانیت کو شرمسار کرنے والے معاملے سلسلہ وار سامنے آرہے ہیں ۔سیدھی میں ایک قبائلی نوجوان کے اوپر پیشاب کرنے کے معاملے  کے بعد ایک مندر کے بھنڈارا سے دلت کو کھانا کھانے سے روکنے اور بد سلوکی کے معاملے کے بعد اب گوالیر سے انسانیت کو جھکجھور دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے ۔جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ کچھ نوجوان ایک لڑکے کو چپل سے بے رحمی سے پیٹ رہے ہیں ۔ اتنی ہی نہیں حد تو تب ہو گئی ،جب وہ نوجوان اس لڑکے سے تلوے چاٹنے کو کہہ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گوالیر ضلع کے ڈبرا کا بتایا جا رہا ہے ۔ وائرل ویڈیو میں کچھ لوگ ایک جیپ میں سوار ہو کر اس میں ایک شخص کو ڈال کر لے جا رہے ہیں۔ جیپ میں سوار نوجوان اس لڑکے کی جوتوں سے نہ صرف پٹائی کر رہے ہیں بلکہ انہیں میں سے ایک نوجوان اس سے اپنے پیر کے تلوے بھی چٹوا رہا ہے ۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعہ میں نوٹس لیا ہے ۔پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ معاملے کا متاثر شخص کیسے اور کہاں ملے جس سے جرائم کے خلاف نا صرف ان کے ناموں کی تصدیق ہو، بلکہ ان کے خلاف معاملہ بھی درج کیا جا سکے۔

ایڈیشن پولیس سپرنٹنڈنٹ جے راج کبیر نے بتایا کہ نوجوان کا نام محسن ہے اور ضلع کے ڈبرا تحصیل میں جنگی پورا کا رہنے والا ہے ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ یہ پچھلے 7 دن سے بان مور اپنے  ماما کے پاس رہ رہا تھا۔ ملزمین نے فون کر کے گوالیر کلیکٹریٹ پر بلایا اور اس کے بعد اس کا اغوا کر اپنے ساتھ گاڑی میں لے گئے ، اے ایس پی نے بتایا  کہ اس معاملے میں دو ملزمین کو نشانزد کیا گیا ہے ۔متاثرہ نوجوان سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی شکایت کرنے کے لئے تھانے نہیں پہنچا ہے ۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ تقریباً8 سے دس دن پرانا ہے ۔اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے متعدد صارفین نے سوال کیا ہے کہ اس حیوانیت سوز حرکت کے ملوث ملزمین کے ساتھ سیدھی پیشاب کیس معاملے کی طرح ہی کارروائی کی جائے گی ۔مدھیہ پردیش میں اس طرح کا واقعہ سلسلہ وار طریقے سے سامنے آ رہا ہے جو مدھیہ پردیش میں شیو راج حکومت میں لا اینڈ آرڈر پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے ۔