شہریت ترمیم قانون: بنگال میں مظاہرہ، کیرل میں ستیہ گرہ

مغربی بنگال میں  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ سوموار کو کولکاتہ کی سڑکوں پر اتریں  اور پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کی تجویز اور  شہریت ترمیم  قانون (سی اے اے) کو مغربی بنگال میں نافذ نہیں ہونے دینے کا اپنا عزم دہرایا۔

ترنمول کانگریس کی سپریمو نے شہر کے بیچوں  بیچ واقع ریڈ روڈ سے مارچ شروع کیا۔ یہ مارچ شمالی کولکاتہ میں نوبل ایوارڈ یافتہ  معروف قلمکار رابندر ناتھ ٹیگور کی رہائش، جوراسانکو ٹھاکر باڑی پر جاکر ختم ہو گا۔ ریڈ روڈ سے یہ جگہ تقریباً 4 کیلو میٹر کی دوری پر ہے۔ بنرجی نے پارٹی کارکنوں کے لیے ایک حلف پڑھتے ہوئے کہا ’’ہم بنگال میں این آر سی اور سی اے اے کو کبھی نافذ کرنے نہیں دیں گے۔‘‘

وہیں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں سوموار کو کیر ل کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین اور اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما رمیش چینتھلا نے مشترکہ طور پر ستیہ گرہ شروع کیا۔

 

صبح دس بجے مارٹیئرس کالم میں تین گھنٹے چلنے والے اس ستیہ گرہ میں ریاست کے وزیر، ایل ڈی ایف کے رہنما اور کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنما شامل ہوئے۔ کیرل ایسی پہلی ریاست ہے جس نے اعلان کیا تھا کہ اس کے یہاں سی اے اے نافذ نہیں ہوگا۔

وجین نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ریاست نے مشترکہ طور پر مخالفت کا فیصلہ کیا کیوں کہ اس قانون نے شہریوں کے بیچ تشویش پیدا کر دی ہے اور آئین میں درج مساوات اور سیکولرزم کی قدروں کو ختم کر دیا ہے۔

دوسری طرف کوچی کے پاس الووا میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے سی اے اے کی مخالفت میں منی پور کی گورنر نجمہ ہپت اللہ  کو کالا جھنڈا دکھایا۔نجمہ ہوائی اڈے جارہی تھیں جب یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے ان کو کالے جھنڈے دکھائے۔

کیرل میں اس قانون کو لے کر لگاتار احتجاج جاری ہے۔ اس قانون کو نافذ کیے جانے کی مخالفت کر رہی تقریباً 30 تنظیموں کی ایک مشترکہ کمیٹی نے 17 دسمبر کو کیرل میں ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

(ایجنسیاں)