رکبر خان لنچنگ: مہلوک کے اہل خانہ نے عدالت پر ملزموں کی طرف داری کا الزام لگایا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کیس کو منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کیا

راجستھان، فروری 11: دی وائر کی خبر کے مطابق 2018 میں راجستھا میں گائے کی اسمگلنگ کے شبہے میں مشتعل ہجوم کا نشانہ بننے والے مسلمان شخص رکبر خان کے اہل خانہ نے عدالت پر متعصبانہ طور پر سماعت کا الزام لگایا ہے۔

رکبر خان کے بھائی ہارون خان نے ویب سائٹ کو بتایا ’’ہمیں خوف ہے کہ عدالت ملزمان کو بری کردے گی، جیسا کہ اس نے پہلو خان ​​کیس میں کیا تھا۔‘‘

معلوم ہو کہ 2017 میں ڈیری فارمر پہلو خان ​​کو ایک ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ راجستھان کی ایک عدالت نے 2019 میں پہلو خان ​​سے متعلق اس کیس کے تمام چھ ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔ پھر مارچ 2020 میں عدالت نے دو نوعمر افراد کو قصوروار مانا۔

الور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سنگیتا شرما کو دی گئی درخواست میں رکبر خان کی 73 سالہ والدہ حبیبن اور اسلم خان، جو اس کیس کے اہم گواہ ہیں، نے بتایا کہ اس مقدمہ میں انچارج آفیسر ملزم کے حق میں ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’’ملزمان ہم سے کہتے ہیں کہ انھوں نے انچارج آفیسر کو کو اپنی طرف ملا لیا ہے اور اب فیصلہ ان کے حق میں ہوگا۔‘‘

خان کے اہل خانہ نے انچارج آفیسر کی معتبریت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے ثبوتوں کی ریکارڈنگ ابھی بھی جاری ہے لیکن ہمیں پتہ چلا ہے کہ فیصلہ پہلے ہی لکھا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ایسی صورت حال میں ہمیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سریتا سوامی سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔‘‘

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق درخواست میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ انچارج آفیسر نے ثبوت لکھتے وقت ملزم کی حمایت کی۔

اہل خانہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سنگیتا شرما سے درخواست کی کہ وہ یا تو خود اس کیس کو دیکھیں یا کہیں اور منتقل کریں۔ تاہم جج نے اس درخواست کر مسترد کردیا اور درخواست گزاروں سے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا کیوں کہ انھیں ہجومی تشدد کے معاملات کے لیے قائم خصوصی عدالت کے تحت درج مقدمات کو منتقل کرنے کا اختیار نہیں۔

واضح رہے کہ ہریانہ کا رہائشی رکبر خان اور اس کا دوست اسلم دو گایوں کو الور میں للاواندی کے قریب جنگل کے ایک علاقے میں لے جا رہے تھے جب گائے کی اسمگلنگ کے شبہے میں 20 جولائی 2018 کو ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ اسلم فرار ہونے میں اور چھپنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن خان ان کے تشدد کا شکار ہوا اور پولیس تحویل میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر موہن سنگھ نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ خان کو اسپتال لے جانے میں تاخیر ہوئی تھی، جس کے بعد انھیں معطل کردیا گیا اور تین دیگر اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اب تک چار ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔