راجستھان: بیکانیر ضلع میں دلت خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کا قتل

نئی دہلی، جون 21: راجستھان کے بیکانیر ضلع میں ایک دلت خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔

اس کی لاش منگل کو ضلع کے کھجو والا علاقے سے ملی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش نے بتایا کہ خاتون کے اہل خانہ نے کھجو والا پولیس اسٹیشن کے دو کانسٹیبلوں منوج کمار اور بھاگیرتھ سمیت تین افراد پر اس کی عصمت دری کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تیسرا ملزم شخص، جسے کلیدی مجرم بتایا جا رہا ہے، مفرور ہے۔

پولیس نے کال ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلیدی ملزم اور خاتون ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

خاتون کے لواحقین نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انھوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسوانی گوتم نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی جانچ کرانے کے لیے اہل خانہ کو راضی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

راجستھان کے قائد حزب اختلاف راجندر راٹھور نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملزم کانسٹیبلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

انھوں نے ٹویٹر پر کہا کہ ’’کارروائی کے نام پر کانسٹیبلز کو معطل کرنے کی محض رسمی کارروائی کی گئی ہے۔ اگر پولیس اہلکار ہی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت پر حملہ آور ہوں تو خواتین کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘

راٹھور نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ شمولیت حکومت کے چہرے پر دھبہ ہے۔

ریاستی وزیر پرتاپ سنگھ کھچریاواس نے کہا کہ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔