کتاب:ادارہ سرسید مشاہیر علی گڑھ کی قرآنی خدمات

قرآنیات کے موضوع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات کو اجاگر کرتی ہوئی تصنیف

ابو سعد اعظمی

پروفیسر ابوسفیان اصلاحی علمی دنیا کا ایک معروف نام ہے۔مدرسۃ الاصلاح سے فراغت اور لکھنؤ یونیورسٹی سے فیض یاب ہونے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے پی ایچ ڈی کیا اور اسی شعبہ میں تیس سال سے زائد عرصہ سے تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ قلم وقرطاس سے گہرا تعلق ہے۔ قرآنیات ان کا موضوع اختصاص ہے۔قرآنیات پر ان کی ایک درجن سے زائد کتابیں طبع ہوچکی ہیں۔ کتابیات قرآن اور اردو رسائل کے قرآنی مقالات کا اشاریہ ان کی دو اہم کتابیں ہیں۔ اس میں انہوں نے بیس سے زائد عناوین کے تحت قرآنیات پر شائع ہونے والی اہم کتابوں کی فہرست نقل کی ہے۔ اسی طرح ہند وپاک کے اہم رسائل ومجلات میں شائع ہونے والے قرآنی مقالات کا اشاریہ فراہم کردیا ہے جو طلبا، اساتذہ اور اہل علم کے لیے یکساں مفید ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات کی کئی جہات ہیں۔اسے بجا طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے قلب ودماغ سے تعبیر کیا گیاہے۔سرسید کا خواب تھا کہ یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا کے ایک ہاتھ میں سائنس، دوسرے میں قرآن اور سر پر لاالہ الا اللہ کا تاج ہو۔سرسید کا یہ خواب کس حد تک پورا ہوا وہ الگ بحث وتحقیق کا موضوع ہے۔پروفیسر اصلاحی نے زیر تبصرہ کتاب میں چار ابواب کے تحت 16مرحومین، 25 باحیات، 2 ادارے اور شعبہ عربی، دینیات سنی وشیعہ اور اسلامیات میں ہونے والی قرآنی ریسرچ کی تفصیلات فراہم کردی ہیں جس سے اس ادارہ کی قرآنی خدمات کی ایک جھلک نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے۔پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے اپنے پیش لفظ میں پروفیسر اصلاحی کی محنت شاقہ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے محض ان مشاہیر کی سوانح اور تصانیف کے تذکرے پر قناعت نہیں کیا ہے بلکہ ایک دیدہ ور مبصر اور محقق کے طور پر آپ نے ان مشاہیر کی علمی خدمات کا حتی الامکان معروضی اور جامع محاکمہ پیش کیا ہے، ان کے مابہ الامتیاز پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے اور بالغ النظری کے ساتھ ان کی خدمات قرآنی پر نقد ونظر کیا ہے۔ پروفیسر اصلاحی کے یہ تجزیے اختصار کے باوصف بلیغ بھی ہیں اور اہم بھی کہ ان سے تحقیق وتنقید کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ غرض یہ کہ زیر نظر تصنیف تحقیق، تنقید، تشریح، موازنے اور کتابیات کا گویا عطر مجموعہ ہے‘‘۔ (ص۱۰)
اس کتاب کا آغاز بانی درس گاہ سرسید احمد خاںؒ کے ذکر سے ہوا ہے۔ سرسید کی قرآنی فکر اور ان کے قرآنی مضامین کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے فاضل مصنف نے شاہ صاحب کے بعد تفسیر قرآن کا سب سے بڑا نام سرسید احمد خاں کو قرار دیا ہے۔(ص۲۳) ان کے تفردات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’تفردات کا ایک بڑا حصہ لائق ستائش رہا اور کچھ حصہ قابل انتقاد بھی ٹھیرا اور یہ قابل اختلاف حصہ اس قدر سنگین ہے کہ وہاں سرسید کی تمام تاویلات بے معنی ہیں‘‘۔ (ص۱۵)
علامہ شبلی کی قرآن فہمی کے حوالہ سے انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کا یہ اعتراف نقل کیا ہے کہ ’’اس درس کے سبب میرے اندر مطالعہ قرآن کا شوق جاگا‘‘ اور مشہور ادیب سجاد حیدر یلدرم کا خیال ہے کہ ’’مولانا قرآن کے درس کے وقت قرآن پاک کے اصول بلاغت اور صنائع وبدائع کو بتاتے تھے اور ان صنائع کی مثالوں میں ایسے اچھے اچھے اشعار سناتے تھے کہ ہم وجد کرتے تھے‘‘۔(ص۲۶)فاضل مصنف نے صراحت کی ہے کہ ’’علامہ شبلی کی قرآنیات پر براہ راست کوئی کتاب نہیں ہے۔ لیکن سیرۃ النبی، مقالات شبلی اور مکاتیب شبلی کا جائزہ لیا جائے تو قرآنیات کے متعدد مباحث کو ان میں موضوع بحث بنایا گیا ہے‘‘۔(ص۲۸)
مولانا فراہی کا تصور نظم قرآن جو فہم قرآن کی شاہ کلید ہے کو ان کا سب سے اہم اور نمایاں کام قرار دیا جس کی توضیح کے لیے انہوں نے ’’دلائل النظام‘‘ کو ترتیب دیا تھا۔ مولانا فراہی کے اصول تفسیر کی اہمیت اور انفرادیت پر بھی اظہار خیا ل کیا گیا ہے۔احسان اللہ عباسی کے ترجمہ قرآن کا اجمالی تعارف کراتے ہوئے فاضل مصنف کا احساس ہے کہ ’’احسان عباسی صاحب کا یہ ترجمہ ایک معیاری ترجمہ ہے۔لیکن افسوس کہ اسے وہ شہرت اور مقبولیت نہ مل سکی جس کا یہ مستحق تھا۔یہ ترجمہ درحقیقت ترجمہ پن سے محفوظ ہے۔اس میں سلاست، روانی اور حسن بیان ہے‘‘۔(ص۴۴)علامہ عبداللطیف رحمانی کی ’’تاریخ القرآن‘‘ کو بحث وتحقیق کا شاہ کار قرار دیتے ہوئے فاضل مصنف کے الفاظ ملاحظہ ہوں’’اس کتاب کی ایک ایک سطر سے ہویدا ہے کہ علامہ کی قرآنیات، احادیث اور اسلامیات پر گہری نظر تھی۔ قرآنیات کی امہات الکتب آپ کے استحضار میں پوری طرح موجود تھیں‘‘۔ (ص۴۷)مولانا اسلم
جیراج پوری کی قرآنیات پر تین کتابیں تاریخ القرآن، نکات قرآن اور تعلیمات قرآن کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اقبال سہیل کی الربا اور مولانا عبدالماجد دریا بادی کی الحیوانات فی القرآن، ارض القرآن،اعلام القرآن، بشریت انبیاء، سیرت نبوی اور مشکلات القرآن وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے احساس کو ان الفاظ کی شکل دی ہے کہ ’’مولانا نے جس عالمانہ انداز میں مستشرقین کی ہرزہ سرائیوں کاجائزہ لیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے یہ نقطہ نظر کسی تفسیر میں نہیں پایا جاتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنی فلسفیانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بہت سی قرآنی حکمتوں تک پہنچنے میں انہیں سہولت ہوئی‘‘۔(ص۶۸)اس کے بعد مشہور شیعہ عالم سید علی نقی النقوی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور صدر شعبہ علوم اسلامیہ پروفیسر عبدالعلیم کا قدرے تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔پھر پروفیسرسعید احمد اکبرآبادی کی ’’فہم قرآن‘‘ اور ان کے بعض قرآنی مقالات، قاضی مظہر الدین بلگرامی کی ’’عیون العرفان فی علوم القرآن‘‘ اور ’’کنوز القرآن‘‘ نیز تقی امینی کی ’’حکمت القرآن‘‘ اور پروفیسر فضل الرحمن گنوری کی’’ تفسیر کشاف ایک تحلیلی جائزہ‘‘، ’’کتاب الٰہی کے پانچ مطالبات‘‘ کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ پروفیسر عبدالحق انصاری کی قرآنک عربک اور ابن تیمیہ کے مقدمہ فی اصول التفسیر کا انگریزی ترجمہ، پروفیسر کبیر احمد جائسی کی مختلف تصانیف کا تعارف وتجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ مشاہیر مرحومین کے عنوان سے کتاب کا پہلا باب یہیں ختم ہوتا ہے۔
کتاب کا دوسرا باب مشاہیر باحیات کے عنوان سے ہے۔ اس میں کل 25 شخصیات کی قرآنی خدمات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مشاہیر باحیات میں سب سے پہلے پروفیسر جمال خواجہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کی انگریزی تصنیف ’’living the Quran in our times‘‘ کا اجمالی تعارف پیش کیا گیا ہے۔اس کے بعد پروفیسر نجات اللہ صدیقی کی کتاب ’’رجوع الی القرآن اور دوسرے مضامین‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ’’انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے سائنسی دور میں نئے طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے قرآنی تعلیم کو عام کیا جائے‘‘۔(ص۱۲۱)پھر پروفیسر عرفان احمد خاں اور پروفیسر اقتدار حسین فاروقی کا ذکر ہے۔ پروفیسر فاروقی کی تین اہم قرآنی کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تحسین ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ’’نباتاتِ قرآن، قرآن کریم میں ذکر ثمرات اور احادیث میں مذکور نباتاتِ قرآن، ادویہ اور غذائیں۔ ان تینوں تصانیف کے باب میں اہل سائنس اور اسلامی محققین کا خیال ہے کہ موضوع کے اعتبار سے بالکل اچھوتی اور جدت کی حامل ہیں۔اس طرح کا کام پہلی بار ہوا ہے جس کا اعتراف مولانا علی میاں ندوی اور مولانا محمد رابع ندوی نے اپنے تقریظی کلمات میں کیا ہے۔ غیر مسلم سائنس دانوں نے بھی فاروقی صاحب کی اس دریافت کی ثناخوانی کی ہے‘‘۔(ص۱۲۸) ڈاکٹر رضوان الدین کی کتاب ’’قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور تفسیر مظہری کا تعارف‘‘ اور پروفیسر محمد سالم قدوائی کی ’’ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ کا بھی اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔پروفیسر ضیاء الحسن کے تعارف میں فاضل مصنف کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں ’’پروفیسر ضیاء الحسن صاحب اپنی والدہ محترمہ کی خواہش کے احترام میں ہر سال ایک بار قرآن کریم بالترجمہ پڑھتے رہے۔ آپ کے اسی تسلسل نے آپ کو مطالعہ قرآن کی گہرائیوں میں اترنے کا اشتیاق دلایا اور ان کے اسی قرآنی استغراق نے قرآن کریم پر ان سے چار کتابیں ترتیب دلوائیں‘‘۔ (ص۱۳۶) اس کے بعد پروفیسر الطاف احمد اعظمی، پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی، ڈاکٹر ریحانہ صدیقی، پروفیسر وسیم احمد، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی، پروفیسر سید مسعود احمد، پروفیسر علی محمد نقوی، ڈاکٹر محمد اجمل ایوب اصلاحی، پروفیسر محمد صلاح الدین، پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، پروفیسر ابوسفیان اصلاحی، پروفیسر عبید اللہ فہد فلاحی، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، پروفیسر توقیر عالم فلاحی، اشہد رفیق ندوی، صفدر سلطان اصلاحی، ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی وغیرہ کی قرآنی فتوحات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
باب سوم میں قرآنیات کے دو اہم ادارے ادارہ علوم القرآن اور پروفیسر خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کی قرآنی خدمات اور مطبوعات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کی قرآنیات کے باب میں کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی گئی ہے۔
باب چہارم میں شعبہ عربی، دینیات سنی وشیعہ اور علوم اسلامیہ کے شعبہ میں قرآنیات پر ہونے والی ریسرچ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
کتاب کی سن اشاعت ۲۰۱۷ء ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کو ایک صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ فاضل مصنف نے اپنی ’’معروضات‘‘ میں صراحت کی ہے کہ ’’ابتداء میں حکم ہوا تھا کہ اسے پچیس تیس صفحات میں سمیٹا جائے لیکن ہاتھ لگایا تو تمام تر حزم واحتیاط کے باجود یہ کام میرے اختیار سے باہر ہوتا گیا، پھر بھی گمان یہی ہے کہ ادارہ سرسید میں قرآنیات کے بہت سے خزانے اب بھی پردہ خفا میں ہیں۔ خدا کرے آئندہ دنوں میں یہاں تک رسائی نصیب ہو‘‘۔(ص۱۳)
مصنف کا یہ احساس بالکل صحیح ہے۔ 2017 کے بعد خود خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کے اشاعتی کاموں میں وقیع اضافہ ہوا ہے۔ اور وہاں کے اساتذہ ڈاکٹر مبین سلیم، ڈاکٹر نذیر عبدالمجید، ڈاکٹر ارشد ایوب کی کئی اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر رفیق احمد سلفی نے بھی قرآنیات پر بعض اہم کتابیں ترتیب دی ہیں۔ اسی طرح شعبہ علوم اسلامیہ کے استاذ پروفیسر ضیاءالدین ملک کی کئی قرآنی کتابیں حال ہی میں خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن سے شائع ہوئی ہیں۔ پروفیسر عبدالحمید فاضلی، شعبہ عربی کے فاضل ڈاکٹر محمد حبیب الرحمن اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے سابق استاذ پروفیسر احسان اللہ فہد کی بھی قرآنیات پر اہم کتابیں اس عرصہ میں شائع ہوئی ہیں۔ اسی طرح تلاش وجستجو کے بعد اس فہرست میں اور بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے، لیکن نقش اول کے لحاظ سے یہ کتاب خوب ہے اور اس کے مطالعہ سے مشاہیر علی گڑھ کی قرآنی خدمات کی ایک جھلک قاری کے سامنے آجاتی ہے۔

 

***

 پروفیسر ابوسفیان اصلاحی علمی دنیا کا ایک معروف نام ہے۔مدرسۃ الاصلاح سے فراغت اور لکھنؤ یونیورسٹی سے فیض یاب ہونے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے پی ایچ ڈی کیا اور اسی شعبہ میں تیس سال سے زائد عرصہ سے تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ قلم وقرطاس سے گہرا تعلق ہے۔ قرآنیات ان کا موضوع اختصاص ہے۔قرآنیات پر ان کی ایک درجن سے زائد کتابیں طبع ہوچکی ہیں۔ کتابیات قرآن اور اردو رسائل کے قرآنی مقالات کا اشاریہ ان کی دو اہم کتابیں ہیں۔ اس میں انہوں نے بیس سے زائد عناوین کے تحت قرآنیات پر شائع ہونے والی اہم کتابوں کی فہرست نقل کی ہے۔ اسی طرح ہند وپاک کے اہم رسائل ومجلات میں شائع ہونے والے قرآنی مقالات کا اشاریہ فراہم کردیا ہے جو طلبا، اساتذہ اور اہل علم کے لیے یکساں مفید ہے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 18 فروری تا 24 فروری 2024