کیرالا میں این ڈی اے کے اتحادی رہنما کا کہنا ہے کہ عیسائی مذہب تبدیل کروانے میں سب سے آگے ہیں، مسلمان نہیں

نئی دہلی، ستمبر 21: انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سری نارائن دھرم پیری پالنا یوگم کے جنرل سکریٹری ویلاپلی ناتیسن نے دعویٰ کیا ہے کہ عیسائی ہندوستان میں مذہب تبدیل کروانے میں ’’سب سے آگے‘‘ ہیں اور اس معاملے پر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔

سری نارائن دھرم پیری پالنا یوگم کیرالہ کی عددی طور پر مضبوط ایزوا برادری کی ایک تنظیم ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی اتحادی بھارت دھرم جن سینا کے سرپرست ناتیسن نے کیتھولک بشپ جوزف کلرنگاٹ کے اس ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ کیرالہ میں مسلمانوں نے ایک ’’نارکوٹک جہاد‘‘ شروع کیا ہے جس نے دیگر مذہبی گروہوں کے ممبروں کو منشیات کا عادی بننے پر آمادہ کیا۔

تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے کلرنگاٹ کی حمایت کی ہے اور ’’نارکوٹک جہاد‘‘ کے خلاف قانون کا مطالبہ کیا ہے۔

ناتیسن نے پیر کو دعویٰ کیا ’’جہاں ایک عیسائی عورت کسی مسلم سے شادی کرتی ہے، وہیں دیگر برادریوں کی سو خواتین عیسائیوں سے شادی کرتی ہیں۔ کوئی اس کے بارے میں کیوں نہیں بول رہا ہے؟ عیسائی ایزوا عورتوں سے شادی کر رہے ہیں۔ عیسائی ملک کا سب سے بڑا گروہ ہے جو مذہب تبدیل کروانے میں مصروف ہے۔ مسلمان اس پیمانے پر تبدیلی نہیں کرواتے۔‘‘

کلرنگاٹ کی طرح ناتیسن نے بھی ’’لو جہاد‘‘ کا حوالہ دیا، ایک سازشی نظریہ جسے اب تک ہندوتوا کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر سراہا ہے‘ ان کا الزام ہے کہ ’’لو جہاد‘‘ کے ذریعے ہندو خواتین کو زبردستی شادی کے ذریعے مسلمان بنایا جاتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ناتیسن نے کہا ’’لو جہاد میں صرف ایک عیسائی عورت کو مسلم کمیونٹی میں لے جایا جاتا ہے۔ جب کہ تبدیلی کے دوران ایک پورا خاندان عیسائیت میں جا رہا ہے۔ جب مذہب کی تبدیلی اور لو جہاد کے بارے میں بات کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسائی سب سے آگے ہیں۔‘‘

انھوں نے الزام لگایا کہ عیسائی مشنریوں نے ’’معاشرے کے محروم طبقات کا استحصال کیا ہے۔‘‘

ناتیسن نے مسیحی پادری رائے کنّنچیرا پر کے اس الزام پر بھی تنقید کی کہ ہندو ایزوا نوجوانوں کو حکمت عملی سے کیتھولک خواتین کو محبت کی شادی میں پھنسانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعد میں اس نے اپنے تبصروں کے لیے معذرت کی لیکن ناتیسن نے مطالبہ کیا کہ اسے چرچ سے ’’بے دخل‘‘ کیا جائے۔