بہار: بی جے پی لیڈر کو ساسارام ​​میں رام نومی کے موقع پر ہوئے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا

نئی دہلی، اپریل 30: بہار پولیس نے ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر جواہر پرساد کو 31 مارچ کو رام نومی کے موقع پر ساسارام شہر میں تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

پرساد، پانچ بار کے سابق ایم ایل اے، تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 63 افراد میں شامل ہیں۔

رام نومی کے دوران بہار کے کئی حصوں میں تشدد کی اطلاع ملی تھی۔ ساسارام کے علاوہ روہتاس، بہار شریف، نالندہ، بھاگلپور، گیا اور مونگیر میں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔

تشدد میں گاڑیوں اور مکانات کے ساتھ ساتھ دکانوں کو بھی آگ لگا دی گئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بہار شریف میں تشدد میں ایک شخص کی موت بھی ہوگئی۔

ہفتہ کے روز روہتاس کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ونیت کمار نے کہا کہ پرساد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تھا۔

بی جے پی نے الزام لگایا کہ پرساد کی گرفتاری نتیش کمار حکومت کی ’’اقلیتوں کو خوش کرنے کی سیاست‘‘ کا حصہ ہے۔

بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے کہا ’’ہمیں حیرانی نہیں ہے کیوں کہ وزیر اعلیٰ [نتیش کمار] نے ابتدائی تحقیقات سے قبل ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ تشدد ایک سیاسی سازش تھا۔‘‘

بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری نکھل آنند نے کہا کہ پرساد کو بہار حکومت نے بلی کا بکرا بنایا ہے۔

تاہم بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا ’’پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ تشدد میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے گا، خواہ اس کی کسی بھی پارٹی سے وابستگی ہو۔‘‘