عورت قرآن کی نظر میں
قرآن کے نزدیک صلاح و تقوی اور آخرت کی کامیابی کا جو معیار مرد کے لیے ہے وہی معیار عورت کے لیے ہے اس معیار کو پورا کرنا ہر مرد اور عورت کا فرض ہے۔
نواب ہانی جمالی ارشاد نواب، پوسد
عورت کے متعلق مختلف ادیان کے ماننے والوں نے پست خیالات کا اظہار کیا ہے جس کی بنا پر اسے انسانیت کے کندھوں پر ہمیشہ ایک بار سمجھا گیا۔ چنانچہ قدیم دنیا اس کے خون کی پیاسی اور اس کی عزت و ناموس کے در پے آزار رہی ہے۔ عورت کو اس کے سوا کچھ نہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ محض خادمہ بن کر گھر والوں کی خدمت کرتی رہے۔ لیکن قرآن نے عورت کو اس پستی و ذلت بھری زندگی سے باہر نکال کر اسے نئی زندگی دی۔ اسے معاشرے میں رہنے کا سلیقہ اور طریقہ دیا۔ قرآن نے عورت کو زندگی کے وہ اصول دیے جس نے اسے فرش سے عرش پر پہنچا دیا ۔
قرآن عورت کو ایک مکمل نظام حیات دیتا ہے قرآن عورت کو اس کے اپنے وجود سے آشنا کراتا ہے۔ جہاں قرآن نے عورت کو اس کی قدر و منزلت دکھائی ہے وہیں اسے اس کے فرائض بھی بتائے ہیں۔
قرآن عورت کو دنیا کی اس دوڑ میں قدم سے قدم ملا کے چلنا سکھاتا ہے۔
ایک بہترین عورت کون ہے اور اس میں کیا صفات ہونا چاہیے قرآن نے ان سب باتوں کو ظاہر کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں ایک بہترین صفات والی عورت ہی اصل میں بہترین عورت ہے۔
اسلام سے پہلے عورت کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا جیسا کہ قرآن میں ہے :
’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور بس وہ خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا وہ کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے‘‘۔(سورہ نحل آیت نمبر 59)
جیسا کہ اس آیت میں اللہ نے ان لوگوں کی سوچ بتائی کہ جو بیٹی کو برا جانتے اس ظلم پر اللہ تعالی ظالموں سے ضرور سوال کرے گا اس بات کی نشاندہی قرآن میں کی گئی ہے:
’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟‘‘
قرآن نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد اور عورت دونوں کی ذہنیت کو بدلا۔ انسان کے ذہن و قلب میں عورت کا وقار مقام اور مرتبہ تعین کیا اس کی شخصی سماجی تمدنی اور معاشی حقوق کا تخیل جاگزیں کیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
’’اللہ نے تمہیں ایک انسان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا‘‘(سورہ نساء آیت 1)
قرآن نے بتایا ہے کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت سب برابر ہے۔ یہاں مرد کے لیے اس کی مردانگی باعث شرف ہے نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعث عار ہے۔ ایک عورت قرآن کی نظر میں وہی حیثیت رکھتی ہے جو مرد رکھتا ہے۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام کم ہے یا وہ مردوں سے کم ہے ان کے اس قول کو قرآن غلط قرار دیتا ہے۔
’’اللہ کے ہاں تم میں سے بزرگ ترین وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو‘‘(سورہ حجرات 13)
یہاں قرآن نے بتا دیا کہ کوئی انسان چاہے مرد ہو یا عورت ہو صرف اللہ سے محبت اور ڈر کے بنیاد پر اعلی اور کمتر ہے نہ کی مرد یا عورت ہونے کی بنا پر؟
قرآن کی نظر میں کسی کے بھی نیک اعمال ضائع نہیں ہوتے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اکثر لوگوں کا یہ گمان ہوتا ہے کہ عبادت صرف مرد کے ذمّہ ہے کہ مرد کے ہی نیک اعمال قابل قبول ہیں عورت تو محض گھر کی چار دیواری کے کاموں کے لیے بنی ہوئی ہے۔ایسے لوگوں کے گمان کو غلط ثابت کر کے قرآن کا قول ہے:
اللہ تم میں سے کسی کے عمل ضائع نہیں کرتا عمل کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے سے ہو۔(سورۃ آل عمران 195)
’’جس مرد یا عورت نے اچھے عمل کیے اور وہ مومن ہے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کو ان کے انجام دیے ہوئے بہتر اعمال کا بہترین اجر و ثواب عطا فرمائیں گے ‘‘(سورہ نحل ۹۷)
قرآن کریم میں جن صفات کو مردوں کے لیے بنظر استحسان دیکھا گیا ہے وہی صفات عورتوں کے لیے بھی پسند فرمائی گئی ہیں اور دنیاوی و اخروی فوز و فلاح کا جو معیار مردوں کے لیے رکھا ہے بعینہ وہی معیار عورت کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی اسلام کے نزدیک معاشرے کے ناقابل تقسیم اجزاء اور تمدن کی گاڑی کے ناگزیر پہیے ہیں۔
قرآن نے حق بندگی میں عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔
بے شک جو مرد اور عورتیں مسلم ہیں مومن ہیں مطیع فرمان ہیں راست باز ہیں صابر ہیں اللہ کے اگے جھکنے والے ہیں صدقہ دینے والے ہیں اور روزہ رکھنے والے ہیں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔
قرآن کے نزدیک صلاح و تقوی اور آخرت کی کامیابی کا جو معیار مرد کے لیے ہے وہی معیار عورت کے لیے ہے اس معیار پر پورا اترنا ہر مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے۔
ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ان لوگوں پر اللہ ضرور رحم کرے گا بلاشبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ (سورہ توبہ 71 )
اسلام نے عورت کو بہت قیمتی سرمایہ کہا ہے اس لیے قرآن میں اسے خود کو چھپانے کے لیے پردے کا حکم دیا ہے قرآن کی نظر میں ایک باحیا اور خوبصورت عورت وہ ہے جو پردے کا اہتمام کرتی ہے جو محرم اور غیر محرم کی حدود کو جانتی ہیں، قرآن میں اللہ رب العالمین سورہ احزاب میں فرماتے ہیں
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا شخص لالچ میں پڑ جائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو اپنے گھر میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں پوری طرح سے پاک کر دے۔
اس ایت میں بظاہر خطاب نبی کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود ساری عورتیں ہے۔ اس آیت میں جہاں یہ بتایا ہے کہ عورتیں دور جاہلیت کے اطوار کو چھوڑ دیں وہیں انہیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے لیے بھی کہا ہے۔ قرآن کی نظر میں ایک عورت سچی مومنہ تب ہوتی ہے جب وہ قرآن کے احکام کو من و عن قبول کرتی ہے اللہ تعالی قرآن مجید میں سورہ نور میں فرماتا ہے
’’اور وہ زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا علم لوگوں کو ہو‘‘
’’اے نبیؐ مومن عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں بچا کر رکھے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے انچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کرے مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ، شوہروں کے باپ،بیٹے،شوہر کے بیٹے،بھائی اور بھانجے اپنے میل جول کی عورتیں اپنے مملوک وہ زیر دست جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی نام واقف ہوں‘‘(سورہ نور 31 )
اس طرح قرآن نے مختلف مقامات پر عورت کی حیات اور عصمت و عفت کی حفاظت کو بے پناہ اہمیت دی ہے اور اس کے لیے ایک معتدل ضابطہ عمل مقرر کر دیا ہے۔ قرآن نے عورت کی معاشی خود کفالت کا انتظام کیا اسے وراثت میں اپنا حق بتایا ہے :
’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے‘‘(سورہ نساء ۷)
عورت کو جو مختلف طریقے سے جو کچھ مال پہنچتا ہے اس میں ملکیت قبضہ اور تصرف کے تمام اختیارات اور حقوق اسے دیے گئے ہیں جن میں کسی کو بھی مداخلت کا اختیار نہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’خوشحال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے ‘‘(سورہ بقرہ 236 )
جو حقوق عموماً عورت سے چھین لیے جاتے ہیں قرآن نے اسے بہترین طریقے سے لوٹا دیا ہے قرآن نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا اس کے نان و نفقہ کا انتظام کیا اسے مہر کا حق بھی دیا۔ قرآن کے ان دلائل سے عورت کی معاشی حیثیت اور مستحکم ہوتی ہے :’’ عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو‘‘ (سورہ نساء )
قرآن نے عورت کو ایک قدر و منزلت عطا کی ہے قرآن نے عورت کا مقام عزت بڑھایا ہے اگر کوئی نکاح کرنا چاہے تو اس پر مہر کی ادائیگی کو فرض کر دیا ہے۔
اگر مرد و عورت میں کوئی تنازعہ ہو جائے تو اس کا حل قرآن نے اس طرح پیش کیا ہے : ’’اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان میں سے مقرر ہو اگر یہ صلح کرا دینا چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا، کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے‘‘ (سورہ نساء 35 )
اس کے باوجود بھی اگر طلاق کا معاملہ پیش آتا ہے تو قرآن عورت کو تنہا نہیں چھوڑتا وہ ایسی عورتوں کو جنہیں طلاق دی گئی ہو حقوق دیتا ہے اور معاشرے میں انہیں سر اٹھا کر جینے کا حق دیتا ہے۔
’’نہ تو تم ہی ان کو ایام عدت ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلے‘‘
قرآن نے عورتوں کو ظالم شوہروں سے نجات کے لیے خلع کا ذریعہ بھی بتایا ہے
’’اس لیے اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حد قائم نہ رکھ سکیں گے تو اگر عورت رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں‘‘۔ (سورہ بقرہ299)
قرآن نے عورت کو خلع کا حق دے کر اسے بہت بڑی تکلیف سے نجات دلائی ہے۔ آج سماج میں بیوہ عورتوں کی صورتحال قابل رحم ہے صدیوں سے بیوہ عورتیں ظلم کا شکار ہے اور ان کی حالت قابل رحم ہے اسلام نے بیواؤں کو بھرپور سماجی تحفظ فراہم کیا ہے ۔
’’اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں‘‘ (البقرہ)
ایک بے سہارا بیوہ کے ساتھ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ اس کے لیے صالح جوڑا تلاش کر کے اس کو حصار نکاح میں محفوظ کر دیا جائے
’’اور تم میں جو عورتیں بیوہ ہیں ان کے نکاح کر دو‘‘ (النور 32)
قرآن نے عورتوں پر اپنے گھر والوں کو خدا کی نافرمانی سے بچانے کی ذمہ داری بھی دی ہے :
’’اے لوگوں جو ایمان لائے ہو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر تیز تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں‘‘(سورہ تحریم)
مذکورہ بالا آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی عبادت و فرائض کی ادائیگی اور معروف کے کام میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے۔
قرآن اور اسلام نے عورت کو مستقل بالذات وجود تسلیم کیا ہے دوسری طرف اسے اعلی مقام عطا کیا ہے۔اب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اپنا صحیح مقام حاصل کریں اور مرد اور عورتیں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھ کر معاشرے کی قرانی نسخہ پر تشکیل نو کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت اپنی ذات میں ایک قرآنی نسوانی شخصیت کی تعمیر کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔
***
***
قرآن اور اسلام نے عورت کو مستقل بالذات وجود تسلیم کیا ہے دوسری طرف اسے اعلی مقام عطا کیا ہے۔اب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اپنا صحیح مقام حاصل کریں اور مرد اور عورتیں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھ کر معاشرے کی قرانی نسخہ پر تشکیل نو کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت اپنی ذات میں ایک قرآنی نسوانی شخصیت کی تعمیر کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 ستمبر تا 30 ستمبر 2023