مایاوتی کا پی ایم مودی سے مطالبہ، مسلمانوں کے ریزرویشن کی مخالفت بند کرے بی جے پی  

نئی دہلی ،یکم جولائی :۔

اس سال کے اخیر میں مدھیہ پردیش میں انتخابات ہونے والے ہیں اس کے بعد 2024 کا لوک سبھا الیکشن بھی آنے والا ہے ۔ان انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کی سر گرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔اس بار بی جے پی کو پسماندہ مسلمانوں کی شدت سے یاد آ رہی ہے ،خود وزیر اعظم نے اپنی متعدد تقریروں میں پسماندہ مسلمانوں کا ذکر کر کے ان کی ترقی کی بات کی ہے ۔گزشتہ روز مدھیہ پردیش میں ایک عوامی جلسے میں وزیر اعظم نے  کہا کہ ہندوستان میں 80 فیصد مسلمان پسماندگی اور استحصال کا شکار ہیں۔وزیر اعظم کے اس بیان پر بہوجن سماج پارٹی کی رہنما اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایا وتی نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔   مایاوتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان سے اتفاق ظاہر کیا کہ ہندوستان میں 80 فیصد مسلمان پسماندگی اور استحصال کا شکار ہیں۔مایاوتی کے مطابق مودی کا بیان زمینی حقائق کا اعتراف ہے۔

مایا وتی نے اس سلسلے میں اپنے ٹویٹس کی ایک سیریز میں اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم کا بیان مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لیے تحفظات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

مایا وتی نے ہندی میں ٹوئٹ کیا کہ بھوپال میں بی جے پی کے ایک پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کھلے عام اعتراف کیا کہ ہندوستان میں رہنے والے 80 فیصد مسلمان ‘پسماندہ، انتہائی پسماندہ، استحصال زدہ’ ہیں، یہ ایک تلخ زمینی حقیقت ہے۔ ان مسلمانوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جائے۔ ریزرویشن کی ضرورت کی حمایت کی  ہے۔

اس کے علاوہ، بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے لیے  ریزرویشن  کی مخالفت بند کرے اور اس کے بجائے ایسے کوٹوں کو نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرے جس سے مسلم کمیونٹی کو فائدہ ہو۔

بی ایس پی صدر نے مزید کہا، ’’لہٰذا اب ایسی صورت حال میں، بی جے پی کو پسماندہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی مخالفت کرنا بند کردینے کے ساتھ ہی ان کی تمام سرکاروں کو بھی اپنے یہاں ریزر ویشن کو ایمانداری سے نافذ کر کے اور بیک لاگ کی بھرتی کو پوری کر کے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ ان معاملوں میں دیگر پارٹیوں سے الگ ہیں  ۔