مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہندوتو تنظیموں کےلئے راجستھان بنا مرکز

راجستھان کی گہلوت حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے پر اٹھے سوال، سوشل میڈیا پربجرنگ دل کے ترشول تقسیم پروگرام کا ویڈیو وائرل

جے پور،06مئی :۔
نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات پر سپریم کورٹ کی جانب سے ریاستوں کو جاری واضح اور سخت ہدایات کے باوجود ہندو تو تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں ،عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف بیان بازی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی اشتعال انگیز بیانات پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مشتعل تنظیموں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ آئے دن اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کر کے ہندو اکثریت کو مسلمانوںاور عیسائیوں کے خلاف اکسانے اور نفرت پیدا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ کچھ ماہ سے راجستھان ہندوتو نواز تنظیموں کے لئے مرکز بنتا جا رہا ہے ۔
ہندوتو تنظیموں اور ذات پات کی سوچ رکھنے والے لوگ دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی جانب سے حکومتی سطح پر کسی بھی طرح کی کوئی کارروائی نہ کرنے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 ماہ سے ہندوتوا تنظیمیں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد راجستھان کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کے مقصد سے مسلسل ترشول تقسیم کر رہی ہیں۔راجستھان کے مختلف اضلاع میں کھلے عام ترشول تقسیم کرنے کے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں ہندوتوا لیڈر نفرت انگیز تقاریر کر کے عام لوگوں کو مشتعل کر رہے ہیں۔ترشول دکشا تقسیم کے نام پر منعقد ہونے والے پروگراموں کے شرکاء کو ترشول مفت دیے جارہے ہیں اور انہیں مذہب اور ہندو قوم کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کا حلف بھی دلایا جاتا ہے۔اور یہ تمام پروگرام کھلے عام ہو رہا ہے ۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ہندتو لیڈر کثیر تعداد میں ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔گزشتہ چار ماہ میں اس طرح کے متعدد پروگرام راجستھان میں منعقد کئے گئے۔


رپورٹ کے مطابق 3 جنوری، 2023 کو، بجرنگ دل کے رہنماو ں نے دارالحکومت جے پور میں مقامی لوگوں میں ترشول تقسیم کیے اور عوامی طور پر حلف بھی لیا کہ وہ مذہب اور ہندو قوم کی حفاظت کے لیے ان ترشولوں کا استعمال کریں۔
21 جنوری 2023 کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے لوہاوت میں ترشول د کشا کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں آر ایس ایس کے پرچارک اور وی ایچ پی تنظیم کے وزیر ایشور لال نے نفرت انگیز تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو غیر انسانی قرار دیا اور 30 ہزار مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ حلال اشیاء کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی۔
19 اپریل 2023 کو، متھانیا میں وشو ہندو پریشد کے سینئر لیڈر سریندر جین نے ترشول دیکشا پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے تشدد کی وکالت کی۔


2 مئی 2023 کو، دائیں بازو کے رہنما نے گھرسانہ میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے زیر اہتمام ترشول دکشا تقسیم تقریب میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کی کھل کر وکالت کی۔
3 مئی 2023 کو سانگانیر میں بجرنگ دل کے ترشول دکشا پروگرام میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا ۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس طرح کے پروگرام کا ویڈیو شیئر کر کے راجستھان کی گہلوت حکومت سے سوال پوچھے ہیں کہ اب تو سپریم کورٹ کی گائڈ لان بھی جاری ہو گئی ہے ،اب کب کریں گے ان نفرتیوں کے خلاف کارروائی ۔صارفین نے سوال اٹھائے کہ راجستھان کے تقریباً تمام اضلاع میں ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ترشول دکشا پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں اور نفرت انگیز تقاریر کی جا رہی ہیں، جن کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، لیکن اشوک گہلوت حکومت خاموش ہے اور ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔