اردو صحافت کے افق پر غیر مسلم صحافیوں کی کہکشاں

صحافت کے خاموش معماروں کو خراج۔ سہیل انجم کی منفرد کاوش

0

محمد عارف اقبال
ایڈیٹر، اردو بک ریویو، نئی دہلی

وائس آف امریکہ (اردو سروس) کے نمائندہ سہیل انجم (پیدائش یکم جولائی 1958) کی صحافتی خدمات تقریباً چالیس برسوں پر محیط ہیں۔ وہ 1995 سے مارچ 2008 تک روزنامہ ’قومی آواز‘ کے بند ہونے تک بحیثیت سب ایڈیٹر اس سے وابستہ رہے۔ تاہم اس ملازمت کے دوران ہی 2002 میں انہوں نے ریڈیو وائس آف امریکہ، واشنگٹن کے لیے جز وقتی رپورٹنگ کا آغاز کر دیا تھا۔ وہ ہفت روزہ بلٹز، اخبارِ نو، ہفت روزہ ہمارا قدم، نئی دنیا اور ہفت روزہ ملّی ٹائمز انٹرنیشنل وغیرہ سے بھی وابستہ رہے۔ سعودی عرب کے روزنامہ اردو نیوز کے لیے 1995 سے 2000 تک جزوقتی کنٹری بیوٹر رہے۔ 2006 سے 2024 تک سہیل انجم کی تقریباً 29 کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں میں اردو صحافت کے موضوع پر کچھ زیادہ ہی لکھا گیا ہے۔ ان کے خاکے اور سفرنامے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ اردو کے ایک سینئر صحافی کی حیثیت سے سہیل انجم کو اب ایک استناد کا درجہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ان کی کتابوں پر مختلف ریاستوں کی اردو اکیڈمیوں نے انعامات و اعزازات سے نوازا، وہیں کئی دیگر اداروں نے بھی انہیں ایوارڈ برائے صحافت عطا کیا۔ تاہم دہلی اردو اکیڈمی نے سب سے پہلے 2013 میں سہیل انجم کو ’ایوارڈ برائے صحافت‘ سے نوازا تھا۔
’اردو صحافت کے فروغ میں غیر مسلم صحافیوں کی خدمات‘ سہیل انجم کی تازہ ترین کتاب ہے۔ اپنے نام اور مواد دونوں اعتبار سے یہ کتاب اس لائق ہے کہ اہلِ علم و ادب اس کا مطالعہ کریں۔ کتاب کا انتساب اردو کے اولین صحافی ’ہری دت‘ اور ’سداسکھ لال‘ کے نام ہے۔ اردو صحافت کی تاریخ پر نظر رکھنے والے واقف ہیں کہ ’جامِ جہاں نما‘ (کلکتہ) 27 مارچ 1822 کو جاری ہونے والا اردو کا پہلا اخبار تھا جس کے بانی ’ہری دت‘ تھے اور اس کے ایڈیٹر ’سداسکھ لال ‘ تھے۔ دونوں حضرات کا تعلق بنگال سے ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے پیش لفظ کے بعد اس کا مقدمہ اسعد فیصل فاروقی (علی گڑھ) نے لکھا ہے۔ اپنے ’مقدمہ‘ میں انہوں نے کتاب کے عمومی جائزے کے بعد لکھا ہے کہ کتاب کے مصنف کا یہ کام نامکمل اور ادھورا ہے اور وہ اس کام سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا ارادہ آگے اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے کا ہے تاکہ اس نامکمل کام کو مکمل کیا جا سکے۔
زیرِ نظر کتاب کو اگر نامکمل تصور کر لیا جائے تب بھی اس کی فہرست کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سہیل انجم نے خاکساری سے کام لیتے ہوئے شاید یہ بات کہی ہے۔ کتاب کی ابتدا میں ’اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ‘ ایک جامع مضمون ہے۔ چند صفحات میں (27 تا 39) ہندوستان کی اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ کو سمیٹ لینا آسان نہیں ہے۔ اس کے بعد کا مضمون اردو کے پہلے اخبار ’جامِ جہاں نما‘ کے تاریخی پس منظر پر اختصار سے روشنی ڈالتا ہے۔ تیسرا مضمون ’اردو صحافت کی خصوصیات‘ اس لحاظ سے بے حد اہم ہے کہ اس میں اردو صحافت، جس کا آغاز مشن کے طور پر ہوا تھا، کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اس مضمون کے آخر میں سہیل انجم لکھتے ہیں:
’’… اردو صحافت کا موازنہ دیگر زبانوں کی صحافت سے کیا جائے تو اردو صحافت میلوں آگے نظر آئے گی۔ انگریزی اور ہندی کے اخبارات میں قومی اہمیت کے مخصوص مواقع پر چند ایک مضامین کی اشاعت ہو جائے تو ہو جائے، خصوصی شماروں کی اشاعت کم ہی ہوتی ہے۔ البتہ ان مواقع پر ان کو اشتہارات خوب ملتے ہیں۔‘‘
یہ بات لکھ کر گویا سہیل انجم نے دیگر زبانوں کی صحافت کی نہ صرف دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی ہے بلکہ ان پر حکومت کی خصوصی توجہ کو بھی اجاگر کیا ہے۔ عام طور پر اردو کے حوالے سے یہ بات اب آئے دن کہی جا رہی ہے کہ یہ ’مسلمانوں کی زبان‘ ہے اور حال ہی میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں طنز کرتے ہوئے یہ تک کہہ ڈالا کہ یہ ’کٹھ مُلّاؤں کی زبان‘ ہے۔ لیکن سہیل انجم نے ’غیر مسلم صحافیوں کی کہکشاں‘ سجا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس ملک میں اردو زبان کی آبیاری اور اردو صحافت کی تاریخ رقم کرنے میں غیر مسلم صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، خواہ ان کا تعلق اترپردیش، بہار، پنجاب، مغربی بنگال یا دہلی سے ہو۔ سہیل انجم نے جہاں 53 کے قریب غیر مسلم صحافیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے، وہیں انہوں نے ہندو مذہب کے اخبارات، سکھ مذہب کے اخبارات، عیسائی مشنریوں کے اخبارات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ منشی نول کشور، لالہ لاجپت رائے، منشی دیانرائن نگم، پنڈت میلا رام وفا، سردار دیوان سنگھ مفتوں، کے نریندر، ماسٹر جگت سنگھ، ہربھجن سنگھ تھاپر، جمناداس اختر، فکر تونسوی، شانتی رنجن بھٹاچاریہ، کلدیپ نیر، ظفر پیامی، خوشتر گرامی، دیوان تصور، جی ڈی چندن، گوپال متل، موہن چراغی، نند کشور وکرم، اوم پرکاش سونی، راج نرائن راز، سوم آنند، چندربھان خیال، دیویندر اسر،ک اور بلراج مینرا کے اسمائے گرامی اس طویل فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے اردو صحافت کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ سہیل انجم نے اس کتاب میں اردو کے ایک امریکی مجاہد ’ڈاکٹر برائن کیوسلور‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اردو کا یہ امریکی مجاہد اب اس دنیا میں نہیں ہے لیکن سہیل انجم نے ان کی صحافتی خدمات کا بڑے تحقیقی انداز سے جائزہ لیا ہے۔ اردو اخبارات کی ڈائریکٹریز پر بھی معلوماتی مواد شامل ہے۔ اس کتاب میں موجودہ دور کے ایک نامور صحافی اور سابق ممبر پارلیمنٹ سنتوش بھارتیہ کا تذکرہ بھی بڑے دلآویز انداز سے کیا گیا ہے۔ ان کے تین اخبارات ہندی، انگریزی اور اردو میں نکلتے رہے۔ ’ہفت روزہ چوتھی دنیا‘ جو 2011 میں لانچ کیا گیا، اپنی شہرت اور اردو دنیا میں اہم خصوصیات کے باوجود دسمبر 2018 میں بند ہو گیا۔ اس کے اردو ایڈیٹر کے حوالے سے سہیل انجم نے صرف محترمہ وسیم راشد کا نام لیا ہے، حالانکہ وسیم راشد کے بعد ہفت روزہ چوتھی دنیا کے ایڈیٹر اس کے بند ہونے تک انگریزی اور اردو کے سینئر صحافی اے یو آصف رہے ہیں۔ ان کا نام کتاب میں لازماً درج کیا جانا چاہیے تھا۔
اپنے موضوع اور معلومات کے لحاظ سے یہ کتاب یقینی طور پر اردو صحافیوں، اساتذہ اور عام قارئین کے لیے بے حد مفید ہے۔ توقع ہے کہ اس کی بھرپور پذیرائی کی جائے گی۔
***

 

***

 ’اردو صحافت کے فروغ میں غیر مسلم صحافیوں کی خدمات‘سہیل انجم کی تازہ ترین کتاب ہے۔ اپنے نام اور مواد دونوں اعتبار سے یہ کتاب اس لائق ہے کہ اہلِ علم و ادب اس کا مطالعہ کریں۔ کتاب کا انتساب اردو کے اولین صحافی ’ہری دت‘ اور ’سداسکھ لال‘ کے نام ہے۔ اردو صحافت کی تاریخ پر نظر رکھنے والے واقف ہیں کہ ’جامِ جہاں نما‘ (کلکتہ) 27 مارچ 1822 کو جاری ہونے والا اردو کا پہلا اخبار تھا جس کے بانی ’ہری دت‘ تھے اور اس کے ایڈیٹر ’سداسکھ لال ‘ تھے۔ دونوں حضرات کا تعلق بنگال سے ہے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 06 جولائی تا 12 جولائی 2025