سپریم کورٹ کالیجیم نے آئی بی اور را (RAW) کی رپورٹس کو پبلک کرنا ’’سنگین تشویش کا معاملہ‘‘ ہے: وزیر قانون

نئی دہلی، جنوری 24: مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے منگل کے روز کہا کہ یہ ایک ’’سنگین تشویش کا معاملہ‘‘ ہے کہ انٹیلی جنس بیورو اور ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ کی حساس رپورٹس کے کچھ حصے سپریم کورٹ کالجیم کے ذریعہ پبلک ڈومین میں جاری کیے گئے ہیں۔

ان کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں کالجیم نے گذشتہ ہفتے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ کے خطوط کا حوالہ دیا، جس میں سینئر ایڈوکیٹ سوربھ کرپال کو دہلی ہائی کورٹ میں جج کے طور پر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کالجیم نے ایڈوکیٹ آر جان ساتھیان کی مدراس ہائی کورٹ میں بطور جج تقرری کے بارے میں انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔

منگل کو دہلی میں وزارت قانون کے ایک پروگرام میں رجیجو نے کہا کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار قوم کے لیے خفیہ طریقے سے کام کرتے ہیں اور اگر ان کی رپورٹس کو عام کیا جاتا ہے تو وہ مستقبل میں اپنا کام کرنے سے قبل ’’دو بار سوچیں گے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس کا ایک منفی اثر پڑے گا۔‘‘

وزیر قانون نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اس معاملے پر مزید بات کریں گے۔

گذشتہ ہفتے ایک تفصیلی بیان میں کالجیم نے، جس میں جسٹس سنجے کشن کول اور کے ایم جوزف بھی شامل تھے، کہا کہ ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ کے خطوط میں کرپال کی اہلیہ کے سوئس شہری ہونے کی وجہ سے ان کی ترقی پر اعتراض کیا گیا تھا۔

کالجیم نے کہا کہ ہندوستان میں آئینی عہدوں پر فائز بہت سے افراد کے شریک حیات غیر ملکی ہیں۔

کرپال کی بطور جج تقرری 2017 سے زیر التوا ہے۔ اگر تقرری ہو جاتی ہے تو وہ ہندوستان کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست جج ہو سکتے ہیں۔

منگل کو رجیجو کا اعتراض ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری پر ایگزیکیٹو اور عدلیہ کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔