سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت پھر ملتوی کردی

نئی دہلی، اکتوبر 12: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک بار پھر 2020 کے دہلی فسادات کیس میں کارکن عمر خالد کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔

عمر خالد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت ستمبر 2020 سے جیل میں بند ہیں۔

شمال مشرقی دہلی میں 23 فروری سے 26 فروری 2020 تک ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تشدد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔

عمر خالد، جسے دہلی پولیس نے 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا تھا، یہ کہتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی ہے کہ اس کا تشدد میں کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی اس کیس میں دیگر ملزمین کے ساتھ اس کا کوئی ’’سازشی رابطہ‘‘ تھا۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم نے اکتوبر میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اپنی ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جمعرات کی سماعت میں جسٹس بیلا ایم ترویدی اور دیپانکر دتا کی بنچ نے وقت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کیس کی سماعت یکم نومبر کو ملتوی کر دی۔

سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے ججوں پر زور دیا کہ وہ اس کیس کی فوری سماعت کریں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایک نوجوان طالب علم ہے، جو تین سال سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔

انھوں نے پوچھا ’’ابھی تک الزامات لگانے کا کوئی امکان نہیں ہے، آپ اسے کب تک وہاں رکھیں گے؟‘‘

لائیو لاء کی خبر کے مطابق وکیل نے یہ ظاہر کرنے کے لیے 20 منٹ کا وقت مانگا کہ اس کے مؤکل کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔

تاہم دہلی پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے الزام عائد کرنے میں تاخیر کے لیے ملزمین کو مورد الزام ٹھہرایا کیوں کہ وہ انٹرلاکیٹری درخواستیں داخل کرتے رہتے ہیں۔

لیکن سبل نے نشان دہی کی کہ کیس میں پانچ ضمنی چارج شیٹ داخل کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے مزید کہا کہ طلباء کارکن دیونگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال تنہا کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی بعد میں وہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

خالد کا کیس سب سے پہلے 18 مئی کو سپریم کورٹ کے سامنے آیا تھا اور اس کے بعد سے پولیس کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگنے کی وجوہات کی بناء پر اسے چھ بار ملتوی کیا جا چکا ہے۔

بار بار التوا سپریم کورٹ کے یہ کہنے کے باوجود ہو رہا ہے کہ شہریوں کی آزادی سے متعلق معاملات میں عدالتوں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔