رمضان المبار ک کا پیغام اور عید الفطر کی آمد

اپنی زندگی کو رمضان کے بعد بھی رمضان جیسی بنائے رکھیں

محمد آصف اقبال، نئی دہلی

اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکرو احسان ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک کی سعادت نصیب فرمائی۔اس ماہ مبارک سے استفادہ کا بھر پور موقع عنایت فرمایا۔ہم نے اس ماہ میں خدا کے آگے سجدے کیے یعنی صرف اپنے جسمانی وجودہی کو اللہ رب العزت کے سامنے نہیں جھکایا بلکہ اپنی خواہشات کو اور زندگی کے جملہ معاملات کو بھی اللہ کے حکم کے مطابق ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہوا اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ہم پر سایہ فگن ہوئیں۔ہمیں یہ موقع بھی ملا کہ ہم اس ماہ مبارک کے آخری عشرے میں شب قدر تلاش کریں،اللہ کی مغفرت حاصل کریں،گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے نامہ اعمال کو ایک بار پھر پاک و صاف کر لیں۔یہ تمام مواقع میسر آئے اور ہم نے اپنی استطاعت کی حد تک ان سے استفادہ بھی کیا۔لیکن اب جبکہ رمضان المبارک ہم سے وداع ہو رہا ہے، اس کے بعد کی زندگی کیسی گزرے گی؟یہ ہمیں آج ہی طے کر لینا چاہیے۔یعنی اس ماہ رمضان المبارک کے بعد کی زندگی اور اس کے شب و روز کے اعمال کیا اور کیسے ہوں گے؟وہی جو اس ماہ میں رہے یا ان تمام لمحات کو بھلاتے ہوئے ہم ایک بار پھر معصیت میں ملوث ہو جائیں گے؟یہ فیصلہ انفرادی طور پر بھی کرنا ہے اور ملت کو اجتماعی سطح پر بھی کرنا چاہیے۔
آئیے اس موقع پر عہد کریں کہ اپنی زندگی میں نمازوں کا خاص اہتمام کریں گے۔کسی بھی وقت کی نماز قضا نہیں کریں گے۔ قرآن کو اپنا دستور حیات بنائیں گے، اس کو پڑھیں گے اور اس کے لیے اپنے روز و شب میں سے کوئی مخصوص ٹائم ضرور نکالیں گے تاکہ اس کو سمجھیں اور اس میں غور و فکر اور تدبر کے مواقع حاصل ہوں۔سیرت نبی کا مطالعہ کریں گے اورحدیث کی مستند کتابوں میں سے کسی ایک کتاب کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔لوگوں کے لیے امن و امان کا ذریعہ بنیں گے، اپنے رشتہ داروں، قرابت داروں اور جاننے والوں کے کام آئیں گے اور جواب میں ان سے کسی بھی طرح کا صلہ نہیں چاہیں گے۔اللہ کی زمین پر اللہ کی کبریائی قائم کریں گے، اِس کے لیے سعی وجہد کریں گے اور اس کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دیں گے۔اور یہ سب کچھ صرف اس لیے کریں گے تاکہ اللہ تعالٰی ہم سے راضی ہو۔ یہی ہماری خواہش ہے اور یہی ہمارا نصب العین۔
عیدالفطر بس آیا ہی چاہتی ہے۔ چند ہی ایام باقی بچے ہیں اور پھر ہمیں وہ سعادت حاصل ہوگی جبکہ ہمارا رب ہم سے خوش ہوگا اور ہمیں عید کی خوشیاں عطا فرمائے گا۔دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ بھی دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف تہوار مناتے ہیں۔ان تہواروں میں جہاں وہ ایک جانب اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ان کے عقائد و افکار اور طور طریق کی عکاسی بھی ہوتی ہے اور یہی تہوار مذہب کے ترجمان بھی بنتے ہیں۔ تہواروں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں یا تو اس مذہب اور اس کی فکرسے قربت پیدا ہوتی ہے، دل اس کی جانب مائل ہوتا ہے یا ان طور طریقوں کو دیکھ کر کراہیت محسوس ہوتی ہے اور دوری اختیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اسلام وہ عالم گیر دین ہے جو قیامت تک تمام اقوام عالم کو کامیابی و فلاح کا پیغام دیتا رہے گا۔اللہ کے رسول کا ارشاد ہے کہ جب نیکی کر کے تم کو خوشی ہو اور برائی کرنے سے رنج ہو تو تم مومن ہو۔بندہ مومن ہر کام کرنے سے قبل اور بعد میں اپنے دل کا جائزہ لیتا ہے۔اس کے بعد یا تووہ مطمئن ہو جاتا ہے یا پھر توبہ و استغفار کا رویہ اختیارکرتا ہے جو اس کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے وہیں دیگر لوگوں کے لیے اس کی زندگی اسلام سے متعارف ہونے اور اس سے قرب حاصل کرنے کاذریعہ بن جاتی ہے۔ اور اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ خدا کے بندے اپنے خالق کے احکام کی جملہ مسائل میں تعمیل کریں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی رویوں سے اسلام کو مکمل طور پر پیش کریں ورنہ وعظ و تذکیرکی مجلسیں سجتی رہیں گی،اس کے باوجود نہ مسلمانوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی بندگان خدا کے افکار و اعمال میں تبدیلی ممکن ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ عید الفطرکا دن مؤمنین کو پورے ایک ماہ کی عبادات کے بعد نصیب ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں وہ اپنے آپ کو ظاہری اور باطنی طور پر پاک کرتے ہیں اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو خدا کے فرشتے تمام راستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے مسلمانو! رب کے پاس چلو جو بڑا کریم ہے،نیکی اور بھلائی کی راہ بتاتا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت انعام سے نوازتا ہے، تمہیں اس کی طرف سے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی، تراویح پڑھی سو اب چلو اپنا انعام لو۔ اور جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو ایک فرشتہ اعلان کرتاہے۔اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرما دی پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو۔ یہ عید کا دن انعام کا دن ہے۔ اس اجر و انعام اور رحمت و مغفرت کے تعلق سے یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ جب لوگ عید گاہ میں آجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: جن مزدوروں نے اپنا پورا کام کیا ہو اس کی مزدوری کیا ہے! فرشتے عرض کرتے ہیں اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے، تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں ان کے عوض میں، میں نے انہیں مغفرت سے نواز دیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا کرم ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں بھی خوشیاں مہیا کراتا ہے ان اعمال کے بدلے میں جو ہم نے خالص اس کی رضا کے لیے انجام دی ہیں اور آخرت کا اجر تو اس سے زائد ہے اور وہی اجرِ عظیم ہے۔
اس موقع پر ہمیں اپنے ان بھائیوں کو نہیں بھلانا چاہیے جو آج تنگ دستی اور تشدد کا شکار ہیں۔ ان میں بطور خاص غزہ کے مسلمان ہیں اور دوسری جانب وہ تمام مسلمان ہیں جن پر صرف اس بنا پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم خدائے واحد پر ایمان رکھتے ہیں،اسلام کو بطور دین قبول کرتے ہیں، اپنی بقا اور وجود کی جدو جہد میں مصروف ہیں اوراسلامی تشخص کے فروغ میں سرگرداں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حامی و مدد گار ہواور ان کو وہ کامیابی عطا فرمائے جس کے بعد ان کا ہر غم ہلکا ہو جائے۔ نیز ملت اسلامیہ کے وہ تمام لوگ جو کہیں بھی اور کسی بھی ملک میں اللہ کے دین کے قیام کی سعی وجدو جہد میں مصروفِ عمل ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی سعی کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور وہ فتح نصیب فرمائے جس کا وعدہ اس نے اپنے نیک بندوں سے کیا ہے۔ اور وہ وقت جلد آئے جب کہ اسلام کو غلبہ نصیب ہو اور اللہ کی زمین پر ہر طرف اللہ کی کبریائی بیان کی جانے لگے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

 

***

 عید کے موقع پر ہمیں اپنے ان بھائیوں کو نہیں بھلانا چاہیے جو آج تنگ دستی اور تشدد کا شکار ہیں۔ ان میں بطور خاص غزہ کے مسلمان ہیں اور دوسری جانب وہ تمام مسلمان ہیں جن پر صرف اس بنا پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم خدائے واحد پر ایمان رکھتے ہیں،اسلام کو بطور دین قبول کرتے ہیں، اپنی بقا اور وجود کی جدو جہد میں مصروف ہیں اوراسلامی تشخص کے فروغ میں سرگرداں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حامی و مدد گار ہواور ان کو وہ کامیابی عطا فرمائے جس کے بعد ان کا ہر غم ہلکا ہو جائے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 مارچ تا 05 اپریل 2025