؛ تمل ناڈو کے مسلم تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم کے جشن زریں سے کئی مسائل حل ہونے کے امکانات OMEIAT

اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ہماری حکومت پہلے سے ہے اور ہمیشہ رہے گی:تمل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ اودھیاندھی اسٹالین

مشتاق رفیقی،وانم باڑی

جہاں بھی مناسب وقف اراضی ہو ہم وہاں بہترین تعلیمی ادارے قائم کریں گے :چئیرمین وقف بورڈ نواز غنی ،ایم پی
ریاستِ تمل ناڈو کے مسلمانوں میں آزادی سے پہلے ہی تعلیمی بیداری کی واضح لہر پیدا ہوگئی تھی اور آزادی کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ریاست کے ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی تھی وہاں نہ صرف مسلم اسکول قائم ہوئے بلکہ کئی جگہ کالجس بھی قائم ہوگئے جس سے علاقے کے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچنے لگا۔ کچھ دہائیوں بعد جب ان مسلم اداروں کے دور اندیش رہنماؤں کو لگا کہ اب ملک اور ریاست کے سیاسی حالات تبدیل ہونے لگے ہیں اور انہیں اب اکیلے نہیں بلکہ مل جل کر اپنے آئینی حقوق کی حفاظت کی لڑائی لڑنی پڑے گی ورنہ وہ خسارے میں رہیں گے، دریں اثناء یہ بات بھی سامنے آئی کہ وقت کی ریاستی حکومت کچھ ایسے قوانین بنارہی ہے جس سے ریاست میں موجود اقلیتی تعلیمی اداروں کی آزادی سلب ہو سکتی ہے تو ریاست کے اکثر مسلم تعلیمی اداروں کی 1973 میں ایک خصوصی ہنگامی میٹنگ ہوئی اور ایک اڈہاک کمیٹی ” تمل ناڈو مسلم ایجوکیشن اسٹینڈنگ کمیٹی” کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت حکومتِ وقت کے ساتھ ربط پیدا کیا گیا اور اس کے بڑے مثبت نتائج نکلے۔ اس پیش قدمی اور اس کے نتیجے میں ملی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹینڈنگ کمیٹی نے 22-23 ستمبر 1973 کو اپنی طرز کی پہلی ” فرسٹ تمل ناڈو ایجوکیشنل کانفرنس ” نیو کالج چنئی میں منعقد کی جس میں ریاست بھر کے تین سو سے زائد مسلم تعلیمی اداروں کے صفِ اول کے ذمہ داران شریک ہوئے۔ کانفرنس میں طے کی گئیں تجاویز کی بنیاد پر ایک مستقل تنظیم مئی 1974 میں (Organization of Muslim Educational Institutions and Associations of Tamil Nadu) بہ مخفف OMEIAT”اومیت” نیو کالج چنئی میں اپنے پہلے آفس کے ساتھ رجسٹرکی گئی۔ یہ تنظیم ریاستِ تمل ناڈو کے تمام مسلم تعلیمی اداروں (جن کی تعداد تقریباًپانچ سو سے زیادہ ہے، جس میں اسکولس، کالجس اور عربی مدارس بھی شامل ہیں) کی واحد نمائندہ ہے۔
اومیت کا جشن زریں 31 جنوری شام تا یکم فروری شام 2025 نیو کالج کیمپس کے حاجی آنیکار عبدالشکور آڈیٹوریم میں منایا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ریاستِ تمل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ اودیاندھی اسٹالین بطور مہمانِ خصوصی، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم گووئی چیزیین، تمل ناڈو وقف بورڈ کے چیرمین ممبر آف پارلیمنٹ کے نواز غنی اور ممبر آف اسمبلی ریاستی حج کمیٹی کے صدرعبدالصمد بطورِ مہمانانِ اعزازی شریک رہے۔
اومیت کے معتمد عمومی جناب ایس احمد میراں نے خطبہ استقبالیہ میں آئے ہوئے معزز مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے جہاں اومیت کی ایک مختصر تاریخ پیش کی وہیں یہ بات بھی رکھی کہ گزشتہ پچاس سالوں سے اومیت کس طرح ریاست بھر کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب کردار ادا کرتی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسلم اداروں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے طلبہ میں مقابلے منعقد کرواکے اور اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی نشستیں منعقد کر کے اپنے قول و عمل سے معقول رہنمائی بھی فراہم کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آئے ہوئے ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کے سامنے مسلم تعلیمی اداروں کو در پیش مسائل بھی اختصار سے رکھتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کی تفصیلات ایک فائل کی شکل میں نائب وزیرِ اعلیٰ کو مہیا کی گئی ہے اس امید پر کہ وہ اس پر غور کر کے مناسب کارروائی کرتے ہوئے مسائل کو فوری حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بالخصوص مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو دیا جانے والا اسکالرشپ جو بند کر دیا گیا ہے دوبارہ شروع کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو توجہ دلانے کی درخواست، اس کے علاوہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں خالی جگہوں پراساتذہ کا تقرر، امداد یافتہ اسکولوں کے ساتھ تمام تعلیمی فوائد کے لیے ہر لحاظ سے گورنمنٹ اسکول کے مساوی سلوک، اسکولوں کو جنہیں عارضی شناخت دے کر ہر تین سال بعد تجدید کے لیے مجبور کیاجارہا ہے انہیں مستقل شناخت تاکہ وہ اپنی پوری توجہ محکموں کے چکر لگانے کے بجائے بچوں کی تعلیم پر لگا سکیں، اقلیتی تعلیم گاہوں کو تمل ناڈو پرائیویٹ اسکول ریگولیشن ایکٹ 2018 کے تحت اعلان کردہ نئے اصولوں سے مستثنیٰ رکھا جائے کیونکہ یہ اصول اقلیتی تعلیم گاہوں کے حقوق کے خلاف ہیں۔تامل زبان لازمی قرار دینے کی وجہ سے ہائی اسکولوں اور پرائمری اسکولوں میں تمل اساتذہ کی تقرری تاکہ طلبہ کا مستقبل خطرے میں نہ پڑے اور اردو میڈیم اسکولوں میں اردو پوسٹ کی منظوری اور اردو اساتذہ کا تقرر، سرکاری اسکولوں میں کے جی کلاسز میں اضافہ، تسلیم شدہ اقلیتی اسکولوں کو فوری طور پر حکومت کی طرف سے امداد، تمام اقلیتی تعلیم گاہوں کو جدید تعلیم اور ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیش نظر اپنے تجربہ گاہوں اور لائبریریوں کو جدید بنانے کے لیے آزادانہ گرانٹ، اردو ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کو جو بد قسمتی سے بند ہوچکا ہے دوبارہ وانم باڑی یا آمبور جیسے اردو بیلٹ میں کھولا جائے ان جیسے پچیس سے زائد مسائل پر مشتمل درخواست پر فوری کاروائی کی نائب وزیر اعلیٰ کے آگے درخواست رکھی گئی۔
اس کے بعد اومیت کا پچاس سالہ سفر پاورپوائنٹ پروجیکٹ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ چونکہ علالت کی وجہ سے اومیت کے صدر محترم یو محمد خلیل اللہ صاحب جلسے میں شریک نہیں ہوسکے تھے اس لیے ان کی جانب سے خطبۂ صدارات ان کے پوتے محمد کرن عبیدی نے پیش کیا،میاسی کے صدر جناب امتیاز باشاہ صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں اومیت اور میاسی کے گہرے رشتوں کا ذکر کیا اور ریاست کی تعلیمی ترقی میں بالخصوص اقلیتوں کی تعلیمی ترقی میں اومیت کے کردار کی تفصیلات پیش کیں۔ مہمانِ اعزازی وزیرِ اعلیٰ تعلیم گووئی چیزیین نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی درواڑی تہذیب کے ساتھ یکجہتی کو خوب سراہا اور اپنی جیت کے لیے مسلم ووٹروں کو راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن جن علاقوں میں اذان کی آواز گونجتی ہے وہاں وہاں ان کے ووٹ سو فیصد شمار کیے گئے جس کے لیے وہ ہمیشہ مسلمانوں کے احسان مند رہیں گے اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ سینہ سپر رہیں گے۔
وزیر موصوف کے تقریر کے بعد ناظمہ فاطمہ مظفر صاحبہ (مسلم لیگ کے مرحوم صدر عبدالصمد صاحب کی دختر) نے جو تمل زبان کی ایک متعبر مقرر بھی ہیں، مسلمانوں اور موجودہ ریاستی حکومت کے گہرے رشتوں کا بڑے ہی جذباتی انداز میں تذکرہ کیا اور دراوڑین تہذیب کے معمارِ اول ترولوور کی کتاب تروکرول اور قرآن کی تعلیمات سے اس کی مماثلت کا ذکر بڑے ہی خوبصورت انداز میں کرکے سامعین کا دل موہ لیا۔ اس دوران اومیت کے جشنِ زرین کی مناسبت سے اومیت سووینئر کا افتتاح نائب وزیر اعلی کے ہاتھوں ہوا۔ شہ نشین پر موجود قائدین نے اس کی پہلی کاپیاں حاصل کیں۔ نائب وزیر اعلیٰ اودھیاندھی اسٹالین نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اومیت کے جشنِ زریں کی تقریبات کا افتتاح کرنے کے لیے خود کو قابل فخر سمجھتے ہیں اور اس تاریخی جلسے میں انہیں مدعو کر کے ان کی عزت افزائی کرنے کے لیے اومیت کے تمام ذمہ داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارہ چلانا ہی بہت مشکل کام ہے جبکہ اومیت پچاس سالوں سے پانچ سو سے زائد تعلیمی ادراوں کو منظم کرکے کامیابی کے ساتھ چلاتا آرہاہے جو اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ اومیت نہ صرف حکومت اور اقلیتی اداروں کے بیچ ایک پل کا کام کر رہی ہے بلکہ بعض اوقات یہ دوسری اقلیتوں کی آواز بھی بن کر کام کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے کہا ہے کہ تو سکھانے والا بن کر رہ یا سیکھنے والا بن کر رہ یا سیکھنے والوں کی مدد کرنے والا بن کر رہ ،ان تین کے علاوہ چوتھا آدمی بن کر کبھی نہ رہ۔ اس کے علاوہ حضرت محمد ﷺ نے کہا ہے کہ صدقہ و خیرات میں سب سے بہتر یہ ہے کہ ایک مسلم علم حاصل کر کے دوسروں کو بھی سکھائے۔ تمام انسانوں کو علم سکھانا چاہیے۔ یہی بات درواڑین حکومت اس سرزمین پر کہتی اور کرتی آرہی ہے۔ تمل ناڈو کی تعلیمی ترقی میں اسلامی اور عیسائی تعلیمی اداروں کا کردار بہت بڑا ہے۔ اس فہرست میں نیو کالج، قائد ملت کالج، جمال محمد کالج، ایسے بہت سے کالجوں کے نام میں گنا سکتا ہوں۔ موجودہ دور میں فسطائی طاقتیں اقلیتی تعلیمی اداروں کو بد نام کرنے کی مسلسل کوششیں کرتی آرہی ہیں، اس کے باوجود آپ لوگ جس دلجمعی کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں اور عوام کی خدمت کر رہے ہیں اس کے لیے جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ہماری حکومت پہلے سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، گزشتہ حکومت کے دوران مذہبی اقلیتی تعلیم گاہوں کی سرٹیفیکٹ کو ہر پانچ سال میں تجدید کرنی پڑتی تھی،ہمارے عزت مآب وزیر اعلیٰ نے اقلیتی اداروں کی ایک بڑی مانگ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو تاعمر کردیا۔ مسلم نوجوان تعلیم اور ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوں اس کے لیے آنجہانی کروناندھی نے مسلمانوں کو 3.5 فیصد ریزرویشن دیا، انہی کے نقش قدم پر موجودہ ریاستی حکومت بھی چل رہی ہے۔ سب کو سب ملنا چاہیے ایسا سوچنے والی ہماری درواڑین ماڈل حکومت ہے، مگر فسطائی طاقتیں دراوڑین طرزِ حکومت کے خلاف اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے میں مسلسل لگی ہوئی ہیں،موجودہ مرکزی حکومت یونیورسٹیوں میں چانسلر نامزد کرنے کی ریاستی حکومت کے اختیار کو ختم کرکے یو جی سی کے تحت لانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے خلاف ریاستی حکومت نے اسمبلی میں ایک قرار داد بھی پاس کیا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ میں ترمیم کی بھی مرکزی حکومت بل لا رہی ہے جس کے خلاف ہم اور ہماری اتحادی پارٹیاں پارلیمنٹ میں مسلسل آواز بلند کرتی آرہی ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ قائدِ ملت مرحوم اسماعیل صاحب کے زمانے سے مسلمانوں کے ساتھ ہمارا مضبوط اتحاد ہے۔ ہماری پارٹی اور ہمارے تمام وزرائے اعلیٰ صاحبان نے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی ہے، آنجہانی کروناندھی نے 1972 میں اردو بولنے والے مسلمانوں کو بیک ورڈ فہرست میں شامل کیا تھا۔اس کے علاوہ بھی ریاست کے مسلمانوں کے لیے بہت سارے منصوبے شروع کرنے کی پہل موجودہ ریاستی حکومت نے کی ہے۔ جس محبت اور حق کے ساتھ آپ نے اپنے مسائل ہمارے سامنے یہاں پیش کیے ہیں اس کو وزیرِ اعلٰی کے آگے رکھ کر اس پر مکمل غور و خوض کرتے ہوئے اس کو حل کرنے کی میں پوری یقین دہانی کراتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے وزیر اعلیٰ ضرور اس کو پورا کریں گے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اقلتیوں اور خاص کر مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ مسلمان موجودہ حکومت کے ساتھ پورے حق کے ساتھ جڑے رہیں گے۔ اومیت جس طرح آج جشنِ زریں منا رہی ہے اسی طرح یہ آگے بھی ایسے بہت سارے جشن منائے اس کے لیے انہوں نے نیک تمنائیں پیش کیں۔ نائب وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کے بعد ان کے ہاتھوں اومیت کی جانب سے ریاست بھر کے کل 13 قائدین کو جنہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیے ہیں لائف ٹائم ایچیومینٹ ایوراڈ سے نوازا گیا۔
وقف بورڈ کے چیرمین جناب نواز غنی، ایم پی نے اپنی تقریر میں ریاستی حکومت کی جانب سے مہیا مسلمانوں کو ملنے والے تحفظات کی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں بڑی وقف پراپرٹی ہے اور اس میں تعلیم گاہ قائم کرنے کا منصوبہ ہو تو وہ اور ریاستی حکومت اس منصوبے کو پورا کرانے میں بھر پور تعاون کریں گے۔ اس سے جہاں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں اضافہ ہوگا وہیں وقف کی جائدیاد بھی محفوظ ہوجائے گی۔
حج کمیٹی کے صدر، رکن اسمبلی جناب عبدالصمد نے اپنی تقریر میں اومیت کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمہ وقت اومیت کے ساتھ جڑ کر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔
مدراس یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر صادق نے آخر میں پاور پوانٹ پرزنٹیشن کیساتھ اومیت کے بانیوں کی مکمل تاریخ پیش کی۔ اومیت کے خازن جناب محمد حنیف کاتب صاحب کے ہدیۂ تشکر اور قومی ترانے کے ساتھ یہ یادگار تاریخی افتتاحی جلسہ اختتام کو پہنچا۔
اومیت جشن زریں کی دوسری نشست ایک کل ہند مشاعرے کی صورت میں رات دس بجے منعقد ہوئی۔ جس میں مقامی اور بیرونی شعراء نے بہترین کلام پیش کئے ۔
تیسری نشست دوسرے دن صبح دس بجے شروع ہوئی جس کی صدارت جناب ایم نذر محمد صاحب، نائب سکریٹری میاسی نے کی۔ بطور مہمانان خصوصی جسٹس اکبر علی، سابق جج مدراس ہائی کورٹ اور ڈاکٹر جی وشواناتھن، بانی و چانسلر ویلور انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی شریک رہے۔ خطبہ استقبالیہ ڈاکٹر پیش امام نذیر احمد نے پیش کیا۔ خطبۂ صدارت کے بعد دونوں مہمانوں نے جلسے سے خطاب کیا اور تعلیم کے حوالے سے اپنے گراں قدر خیالات سامعین کے آگے رکھے۔ تقاریر کے بعد وقفہ دیا گیا اور پھر تمل زبان میں پٹٹی منرم یعنی ڈبیٹ سیشن تعلیم کے موضوع پر پروفیسر عبدالقادر کی نظامت اور سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں چھ عدد تمل دانشور مقررین نے حصہ لیا، تین اصحاب نے موضوع کے موافقت میں اور باقی تین نے موضوع سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی آراء سامعین کے سامنے پیش کیں، جس پر آخر میں پروفیسر عبدالقادر نے خوبصورت اور میانہ تبصرہ پیش کیا کہ جس طرح اردو زبان میں مشاعروں کی روایت ہے اسی طرح تمل زبان میں پٹٹی منرم کی ایک مضبوط روایت موجود ہے،موجودہ دور میں اس قدیم روایت میں تنوع اور جدت پیدا کرکے عوام و خواص کے لیے اسے بے حد دلچسپ بنا دیا گیا ہے۔
چوتھی اور آخری نشست میں اومیت سے وابستہ اداروں کے اساتذہ کو بیسٹ ٹیچرس ایوارڈ اور پہلے سے منعقدہ انگریزی، تمل اور اردو زبانوں میں تحریر و تقریر اور قرأت کے مقابلوں میں منتخب طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوزا گیا۔ اس نشست کی صدارت جناب الیاس سیٹھ، معتمد اعزازی میاسی و نیو کالج چنئی نے کی۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد اور ڈاکٹر ایس شمیم بیگم (ڈپٹی ڈائرکٹر، اسٹیٹ کمیشن فار ٹیکسٹ بک ریسرچ، پرنسپل،ڈسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹریننگ) بطور مہمان اعزازی اس مجلس میں شریک رہے۔ ڈاکٹر پیش امام نذیر احمد کے خطبہ استقبالیہ اور جناب الیاس سیٹھ صاحب کے صدارتی خطاب کے بعد اومیت کے نائب صدر تاج محی الدین صاحب نے اومیت کی اب تک کی تاریخ مختصر لفظوں میں بیان کی۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے ‘نظام علم کی تکیمل کی ضرورت’ پر پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ساتھ غیر اردو داں سامعین کی بھی قدر کرتے ہوئے اردو اور انگریزی زبان میں ایک ملی جلی، سائنسی نظریات اور قرآنی آیتوں کے سہارے پر مغز تقریر پیش کی جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ دوسرے مہمان خصوصی ڈاکٹر ایس شمیم بیگم نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے پاورپوائنٹ پرزنٹیشن کے ساتھ ایک بہت ہی کار آمد تقریر پیش کی۔ ان تقاریر کے بعد ریاست بھر کے منتخب اساتذہ کو اعزازات اور طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوزا گیا۔ آخر میں محترمہ نہا اختر نے ہدیہ تشکر پیش کیا اور قومی ترانے کے ساتھ اومیت کا یہ عظیم الشان جشنِ زریں اختتام کو پہنچا۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 02 مارچ تا 08 مارچ 2025