این آئی اے، ای ڈی کی ملک گیر چھاپے ماری، پی ایف آئی کے 100 سے زائد کارکنان زیر حراست

خبر لکھے جانے تک قومی تحقیقاتی ایجنسی اور ای ڈی کی دس ریاستوں میں چھاپے ماری جاری ہے اور پی ایف آئی کے 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دہلی، راجستھان، تلنگانہ، اتر پردیش، کرناٹک اور بہار میں چھاپے کی کاروائی جاری ہے۔

نئی دہلی، 22؍ستمبر 2022: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کے روز مشتبہ دہشت گردی فنڈنگ لنک کے خلاف ملک بھر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اب تک کئی ایجنسیوں نے دس ریاستوں میں چھاپے ماری کی اور  پی ایف آئی کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ دہلی، راجستھان، تلنگانہ، اتر پردیش، کرناٹک اور بہار میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پی ایف آئی کے مشتبہ کارکنوں کو دہلی کے شاہین باغ اور لکھنؤ کے اندرا نگر سے حراست میں لیا گیا ہے۔
ایجنسی نے اس ہفتے کے شروع میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ این آئی اے نے پی ایف آئی کارکنوں کے خلاف درج ایک معاملے میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کئی مقامات پر تلاشی لی۔ یہ لوگ مبینہ طور پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تربیتی کیمپ قائم کر رہے تھے۔

دوسری طرف، قومی تحقیقاتی ایجنسی نے کرناٹک میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے افراد کے خلاف بنگلورو، گلبرگہ، منگلورو، کوپالا، داونگیرے ، میسور اور شیواموگا میں چھاپے مارے  ہیں۔
این آئی اے نے بنگلورو کے رچمنڈ ٹاؤن میں پی ایف آئی کے قومی سکریٹری محمد ثاقب کے گھر کی تلاشی لی۔ پی ایف آئی کے سکریٹری افسر پاشا اور کرناٹک ریاستی صدر ناصر پاشا کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی۔
پی ایف آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے قومی، ریاستی اور مقامی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اسٹیٹ کمیٹی کے دفتر پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ہماری  آواز کو دبانے کے لیے ایجنسیوں کے استعمال کرنے کا ہم شدید مخالفت کرتے ہیں۔‘‘
این آئی اے نے منگلورو میں ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے ضلعی دفاتر میں تلاشی مہم چلائی۔ جنوبی کنڑ میں کلئی کے قریب عبدالقادر کے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ عبدالقادر ایس ڈی پی آئی کے ضلع صدر ابوبکر کُلئی کے بھائی ہیں۔
کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے کہا کہ پولیس مذہب کی بنیاد پر کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اور ملک کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کا اگر اقلیتی برادری سے تعلق ہے تو پولیس اس میں کیا کر سکتی ہے؟ پولیس یہ دیکھ کر کارروائی نہیں کرتی کہ مجرم کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔
این آئی اے ذرائع نے بتایا کہ باجپے، جوکٹے، کاور اور کولائی میں ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی لیڈروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے اور چھاپہ ماری کی کاروائی ابھی بھی جاری ہے۔

تلنگانہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست میں ایک بار پھر این آئی اے نے چھاپے مارے۔ این آئی اے کی ٹیمیں تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ کریم نگر، عادل آباد، نظام آباد اور اے پی کے ضلع کرنول میں چھاپے ماری کررہی ہیں۔

ایجنسی نے پرانا شہر کے چندرائن گٹہ میں پی ایف آئی کے صدر دفتر کو سیل کردیا۔ این آئی اے کی جانب سے قبل ازیں درج کردہ مقدمہ کے سلسلہ میں پی ایف آئی کے دفتر کو سیل کیا گیا۔ دو دن قبل این آئی اے نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پی ایف آئی کی سرگرمیوں پر مختلف مقامات پر تلاشی لی تھی۔ نظام آباد اور نیلور اضلاع میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔حکام حیدرآباد میں ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

این آئی اے کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آج صبح سے جاری آپریشن میں ای ڈی اور مقامی پولیس بھی شامل ہے۔ جانچ ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے اور ای ڈی کی مشترکہ کارروائی جاری ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ خود اس پورے آپریشن کی نگرانی کر رہی ہے۔

خبر لکھے جانے تک تحقیقاتی ایجنسی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر ایجنسی کوئی بیان جاری کرتی ہے تو اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔