نائب صدر کے انتخاب میں امیت شاہ کا ’’سیلف گول‘‘

کاغذاتِ نامزدگی کا ڈرامہ ’’مودی سے مودی تک‘‘ کا کھیل۔سنگھ پریوار میں قحط الرجال جگ ظاہر نیز اب ایک اور کٹھ پتلی امیدوار!

ڈاکٹر سلیم خان،ممبئی

’’یہ تعداد کی نہیں، نظریات کی جنگ ہے‘‘ : جسٹس سدرشن ریڈی ۔سالوا جُڈوم فیصلے پر حملہ؛ سپریم کورٹ کے وقار کو پامال کرنے کی کوشش
حزب اختلاف کا مضبوط امیدوار، بی جے پی کی بوکھلاہٹ بے نقاب
21؍جولائی کو استعفیٰ دے کر لاپتہ ہوجانے والے نائب صدر جگدیپ دھنکر کی خالی جگہ پُر کرنے کے لیے7؍اگست کے دن نامزدگی کے پرچہ داخل کرنے کانوٹس جاری کردیاگیاتاکہ 9ستمبر کوالیکشن کرایا جا سکے۔ یعنی پچھلے مہینے غائب ہوجانے والے نائب صدر جناب جگدیپ دھنکر ملیں نہ ملیں ان کی جگہ ایک نیا نائب صدر ملک کو مل جائے گا۔ نائب صدر کے عہدے کے لیے اس 17ویں الیکشن کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ سابق نائب صدر 2027تک اپنے عہدے پر بنے رہنے کا اعلان کرچکے تھے اور اس میں آگے چل کر ترقی کرنے یعنی صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کی آرزو بھی کہیں نہ کہیں موجود تھی لیکن ان کے سارے سپنوں کو مودی کی نگاہِ قہر نے خاک میں ملا دیا ۔ نائب صدر کا انتخاب چونکہ عوامی نہیں بلکہ الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتا ہے۔اس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے توقع تھی کہ یہ سارا کام خاموشی کے ساتھ بحسن و خوبی انجام پذیرہوگا مگر عادت سے مجبور وزیر داخلہ نے اپنی بدزبانی سے اس معاملے میں بھی اپنی اوراپنے سنگھ پریوار کی رسوائی کرالی یعنی ایک معنیٰ میں الیکشن سے پہلے ہی اخلاقی شکست سے دوچار ہوگئے۔
مذکورہ بالانوٹیفکیشن کے مطابق خواہشمند حضرات کے لیے اپنے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 21 ؍اگست تھی۔ اس وقت تک نائب صدر کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر 46 افراد نے 68 کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے ۔ ان میں سے 19 افراد کے 28 کاغذات تکنیکی بنیادوں پر ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد کر دیے گئے۔ باقی 27 امیدواروں کے 40 کاغذات کی 22؍ اگست کو جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ 25؍ اگست تک نام واپس لینے کی تاریخ بے معنیٰ کیونکہ اب صرف دو امیدوار باضابطہ طور پر انتخابی میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کا متحدہ اپوزیشن کے امیدوار بی سدرشن ریڈی سے ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں امیدواروں کا تعلق جنوبی ہند سےہے اس لیے یہ لڑائی جنوب بمقابلہ جنوب ہی ہوگی۔ ویسے بھی جگدیپ دھنکر نے شمالی ہند کا نام کافی روشن کرہی دیا ہے۔ سدرشن ریڈی چونکہ تلنگانہ کے رہنے والے ہیں اس لیے نظام سرکار کے طفیل اردو ہندی بول سکتے ہیں اس کےبرعکس سی پی رادھا کرشنن پندرہ سال کی عمر سے ہی سنگھ شاکھا میں جانے لگے تھے اس لیے انہیں نہ تو ہندی آئی نہ انگریزی بلکہ تمل بھی بگڑ گئی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں چونچ کھولنے کی جرأت نہیں کی۔
سنگھ پریوار کا سب سے بڑا المیہ قحط الرجال ہے۔ وہ لوگ تگڑم بازی سے سرکار تو بنا لیتے ہیں لیکن انہیں ایک ایسا وزیر اعظم نہیں ملتا جو معمولی پریس کانفرنس کرسکتا ہو۔ وزیر داخلہ جب منہ کھولتا ہے رسوائی کروالیتا ہے۔ وزیر دفاع کے ہاتھ پیر ایسے باندھ دیے گئے ہیں کہ وہ ملک تو دور اپنی سرکار کی مدافعت بھی نہیں کرپاتا۔ وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ باہر سے لانا پڑتا ہے۔ اسی مجبوری کے تحت جگدیپ دھنکر کو بھی درآمدکرکے نائب صدر بنایا گیا تھا لیکن وہ قابو میں نہیں آ ئے ۔ ان کی جگہ ایوان بالا کے نائب صدر ہری ونش کو امیدوار بنایا جاسکتا تھا مگر وہ بھی کسی زمانے میں لالو یادو کے ساتھ تھے اس لیے دودھ کی جلی بی جے پی چھانچ بھی پھونک پھونک کر پی رہی ہے۔ سی پی رادھا کرشنن کو اسی لیے لایا جارہا ہے کہ وہ دُم ہلاہلا کر وزیر اعظم کی تابعداری کرتے رہیں۔ ویسے وہ تمل ناڈو میں پوری زندگی سنگھ کا کام کرنے کے باوجود اپنے بل بوتے پربی جے پی کا ایک رکن اسمبلی بھی نہیں کامیاب کرسکے ۔ اے آئی ڈی ایم کے کے طفیل ان کا الیکشن جیت جانا بی جے پی کی جیت نہیں ہےپھر بھی مہاراشٹر کے گورنر ہاوس میں عیش کررہے ہیں۔ ایسے نااہل امیدوار کے سامنے حزب اختلاف نے بی سدرشن ریڈی جیسے سابق سپریم کورٹ کے جج کومیدان میں اتارا اور آج تک چینل پر ان کا انٹرویو دیکھ کر بلا مبالغہ یہ محاورہ یاد آتا ہے’کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی‘۔
نائب صدر کا عہدہ انتظامی حوالے سے اس لیے اہم ہے کیونکہ اسے راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دینی پڑتی ہے۔ اس عہدے پر فائز فرد کا کسی نہ کسی حدتک غیر جانب دار ہونا ضروری ہے مگر رادھا کرشنن نے وزیر اعظم کا جس طرح جھک کر شکریہ ادا کیا اس سے تو یہ توقع ناممکن ہے۔انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، ’’میرا دل کی گہرائیوں سے شکریہ، ہمارے پیارے عوامی لیڈر ہمارے سب سے قابل احترام وزیر اعظم نریندر مودی نے مجھے این ڈی اے کے نائب صدر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا اور مجھے قوم کی خدمت کا موقع دیا۔‘‘ یہ خوشامدانہ انداز اس شخص کو زیب نہیں دیتا جسے آئینی اعتبار سے وزیر اعظم کے مقابلہ فائق تر عہدے پر فائز ہونا ہے۔ دستور کے مطابق امیدوار کو خود اپنا پرچۂ نامزدگی دینا ہوتا ہے مگر جب وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور این ڈی اے رہنماؤں کے ساتھ سی پی رادھا کرشنن اپنی نامزدگی کا پرچہ داخل کرنے کے لیے پہنچے توپارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ان کے کاغذات وزیر اعظم نریندر مودی کو تھمائے جس کو موصوف نےاپنے ہم قبیلہ راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی کوپکڑا دیا جو اس انتخاب کے لیے ریٹرننگ آفیسر مقرر کیے گئےہیں۔
اس موقع پر جبکہ ایک مودی دوسرے مودی کو کاغذات دے رہا تھا رادھا کرشنن کنارے کھڑے تھے اس لیے صحیح معنیٰ میں یہ کاغذات داخل ہی نہیں ہوئے انہیں مستر کیا جانا چاہیے تھا لیکن اگر پی سی مودی اسے مسترد کرتے تووہ بھی جگدیپ دھنکر کی مانند نہ جانے کس غار میں بھجوادیے جاتے؟ ریٹرننگ آفیسر کے سامنے رادھا کرشنن نے دستخط تو کردیے مگر اس کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے نامزدگی کی رسید بھی انہیں نہیں دی بلکہ وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کی۔ امیت شاہ سمیت پرہلاد جوشی، دھرمیندر پردھان اور تلگو دیشم پارٹی کے مرکزی وزیر کے رام موہن نائیڈو، شیو سینا کے رہنما شری کانت شدڈے اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے رہنما چراغ پاسوان صرف تالیاں پیٹ رہے تھے۔ رادھا کرشنن سمیت یہ سبھی رہنما پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع ریٹرننگ آفیسر کے دفتر جا نے سے قبل پارلیمنٹ کمپلیکس میں واقع ’’پریرنا ستھل‘‘ (مقامِ تحریک) پر گاندھی جی اور دیگر قومی رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے گئے۔ وہاں پر دل ہی دل میں ان شخصیات سے نفرت کرنے والے بادلِ ناخواستہ سب سے پہلے مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جھکے اور پھر دیگر قومی رہنماؤں کوخراج عقیدت پیش کرنے کا ناٹک کیا۔ یہ سنگھ پریوار کی بہت بڑی مجبوری ہے۔
اس کے برعکس اگلے دن انڈیا محاذ کے امیدوار اور سابق جج سپریم کورٹ بی سدرشن ریڈی اپنی نامزدگی کے کاغذ داخل کرنے کے لیے گئے تو کانگریس کے جئے رام رمیش نے کاغذات امیدوار جسٹس ریڈی کو سونپے حالانکہ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی موجود تھے۔ این سی پی (ایس سی پی) کے سربراہ شرد پوار، سماجوادی پارٹی کے ایم پی رام گوپال یادو، ڈی ایم کے کے ایم پی تروچی سیوا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت سمیت انڈیا بلاک کے متعدد رہنما بھی یکجہتی کا اظہار کررہے تھے۔ اس طرح صحیح معنیٰ میں تو ایک ہی امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے دوسرے نے تو صرف ربر اسٹامپ کی مانند دستخظ کیے کاغذات تو پیش ہی نہیں کیے لیکن مودی کے اندھی نگری چوپٹ راج میں اب ایسی بےضابطگی عام ہوگئی ہے۔ آر ایس ایس کا ڈھول پیٹنے والے کرشنن کے مقابلے سدرشن نے میڈیا میں یہ کہہ کر سدرشن چکر چلا دیا کہ انہیں ہرجماعت سے حمایت کی امیدہے کیونکہ وہ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔
جسٹس سدرشن نے جب کہا کہ یہ تعداد کی نہیں نظریات کی جنگ ہے تو وزیر داخلہ امیت شاہ کو مرچی لگ گئی ۔ وہ بھول گئے کہ یہ عوامی انتخاب نہیں ہے۔ نائب صدر کے انتخاب میں دونوں ایوانِ پارلیمنٹ کے اراکین حصہ لیتے ہیں اس لیے اول جلول بکواس کرنے کے بجائے انہیں اپنے پرانے جوڑ توڑ کے کھیل پر توجہ دینی چاہیے۔ آئین کی دفع 66(1) کے تحت نائب صدر کا انتخاب سنگل ٹرانسفریبل ووٹ کے ذریعے تناسبی نمائندگی کے نظام سے کیا جاتا ہے اور ووٹنگ خفیہ بیلٹ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس لیے ان کو کانگریس کی قیادت والے اتحاد کے نائب صدر امیدوار جسٹس بی سدرشن ریڈی پر انتہا پسند (نکسل) تحریک کے دفاع کا الزام عائد کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی لیکن اگرکوئی عادت سے مجبور ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس سے قبل وہ پندرہ لاکھ کی واپسی کو ’انتخابی جملہ ‘ کہہ کر پھنس چکے ہیں اور وہ تبصرہ تو اب ضرب المثل بن چکا ہے۔ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے لیے چھاتی ٹھونک کر جان دینے والے مکالمے کو بھی آپریشن سیندور کی جنگ بندی کے بعد خوب اچھالا گیا۔ اس بار پھر ان سے ایک بڑی غلطی ہوگئی ۔
امیت شاہ نے کوچی میں ایک میڈیا گروپ کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئےیہ غیر ذمہ دارانہ دعویٰ کردیا کہ اگر ریڈی نے سالوا جُڈوم کے خلاف فیصلہ دیا نہ ہوتا، تو ملک میں 2020 سے پہلے ہی بائیں بازو کی شدت پسند تحریک ختم ہو چکی ہوتی۔ اس کے بعد وہ بولے کہ کانگریس کی منتخب کردہ امیدوار کے باعث کیرالا میں اس کی جیت کے امکانات مزید کم ہوگئے ہیں حالانکہ وہ بھول گئے ریاست میں فی الحال اشتراکی حکومت ہے۔ ریڈی کو اشتراکی ثابت کردینے سے اختلاف کے باوجود سارے بائیں بازو کے ارکان پارلیمنٹ انہیں کو ووٹ دیں گے۔ نیز اگلے صوبائی انتخاب میں ڈھلمل کمیونسٹ ووٹر بھی کانگریس کی طرف کھسک جائے گا۔ یہ دراصل سنسکرت محاورہ وناش کالے وپریت بدھی کی مصداق ہے جس کا مطلب ہوتا ہے تباہی کے دنوں میں عقل الٹ جاتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ’ووٹ چور گدی چھوڑ ‘اور’تڑی پار واپس جاو‘ کا نعرہ سننے کے بعد موصوف کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ورنہ وہ اتنی فاش غلطی کبھی نہیں کرتے۔
امیت شاہ نے اس انٹرویومیں اپنے پیر پر کلہاڑی چلاتے ہوئےکہا کہ کیرالا نکسل تحریک کا شکار رہ چکا ہے اور عوام دیکھ رہی ہے کہ کانگریس، بائیں بازو کے دباؤ میں ایک ایسے امیدوار کو میدان میں لائی ہے جو نکسل تحریک کا حامی رہا اور سپریم کورٹ جیسے مقدس فورم کو اپنی حمایت کے لیے استعمال کرچکا ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کے تقدس کو کھلے عام پامال کرنے کا جرم کردیا مگر انہیں احساس تک نہیں ہوا۔ سالوا جُڈوم پر 2011میں جسٹس ریڈی کے فیصلے کا حوالہ دے کر وہ بولے ریڈی سالوا جُڈوم کی نظریاتی بنیاد پر فیصلہ کرنے والاآدمی ہے۔ چھتیس گڈھ کی ریاستی حکومت نےدسمبر 2011 میں قبائلی نوجوانوں کو اسلحہ سے لیس کرکے نکسل نوازوں کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بی جے پی چونکہ دونوں کی دشمن ہے اس لیے اس نے ایک کانٹے سے دوسرا کانٹا نکالنے کی چال چلی۔ جسٹس ریڈی نےاس کے خلاف فیصلہ سنایا کہ ماؤ نوازوں سے لڑائی میں قبائلی نوجوانوں کو کسی بھی نام (کُویا کمانڈو یا سالوا جُڈوم) سے استعمال کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایسے قبائلی نوجوانوں کو فوری طور پر بے ہتھیار کیا جائے۔
امیت شاہ نے یہ سوچ کر جھوٹ بولا کہ جسٹس سدرشن ان کے گونگے بہرے امیدوار کرشنن کی طرح چپ رہیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اپوزیشن کے امیدوار بی سدرشن ریڈی نے’آج تک‘ سے بات چیت میں اس دعویٰ کی ایسی قلعی کھولی کہ اگر کوئی باوقار انسان ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرے لیکن سنگھ کی شاکھا میں سب سے پہلے عزت نفس کو کچلا جاتا ہے اس لیے ان لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ جسٹس سدرشن نے اول تو یہ کہا کی ان کی امیدواری کوئی ’’لڑائی‘‘ نہیں ہے بلکہ ’’اصولی مسابقہ‘‘ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ ان کے بقول نائب صدر کا انتخاب پارلیمانی اراکین کرتے ہیں، سیاسی جماعتیں نہیں کرتیں۔ اس لیے وہ سبھی سے انفرادی رابطہ قائم کریں گے۔ اس لحاظ سے کسی غیر سیاسی قانون داں کا نائب صدر ہونا اور ایوان بالا کی صدارت کرنا زیادہ پسندیدہ ہوگا۔ ریڈی نے اپنے اور کرشنن کے درمیان یہ فرق بتایا کہ وہ پندرہ سال کی عمر میں ایک نظریاتی جماعت یعنی آر ایس ایس سے وابستہ ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ایک روشن خیال آئینی جمہوریت نواز کے طور پر اپنا تعارف کراتے ہوئے آئین کا نسخہ دکھایا تو ان سے پوچھا گیا کہ راہل گاندھی بھی یہی دکھاتے پھرتے ہیں ۔ اس پر وہ بولےخود راہل گاندھی کہہ چکے ہیں کہ وہ خود تو صرف چار سال یہ کتاب لے کر گھوم رہے ہیں جبکہ ان کا امیدوار پچھلے باون سال سے اس کو ساتھ رکھے ہوئے۔ ویسے سنگھ کی آئین سے دشمنی بھی جگ ظاہر ہے۔
جسٹس ریڈی نے علاقائی تفاخر پر بی جے پی کو یاد دلایا کہ وہ خود ایک ملک ایک شہریت کی حامی ہے اس لیے یہ ’’تیلگو فخر بمقابلہ تمل فخر‘‘ کی لڑائی نہیں ہے۔ وہ بولے ہم سب ہندوستانی شہری ہیں، کوئی اپنی مرضی سے تمل ناڈو یا تلنگانہ میں نہیں پیدا ہوا، اس لیے یہ کوئی فخر یہ مقابلہ نہیں ہے۔ ان سے جب کہا گیا کہ چندرا بابو نائیڈو کا بھی یہی موقف ہے تو وہ بولے چونکہ تلگو دیشم پارٹی کا قیام ہی ’’تیلگو فخر‘‘ کے نعرے پرہوا اس لیے وہ اس سے پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کے ذریعہ ریڈی کو ’’نکسلی نظریہ‘‘ کا حامل شخص قرار دینے کے الزام پرانہوں نے کہا کہ موصوف اگر ایک بار اس فیصلے کو پڑھ لیں تو اچھا ہے۔ امیت شاہ اگر پڑھنے لکھنے والے ہوتے تو سنگھ میں کیوں رہتے؟ ریڈی نے کہا ’’سلوا جوڈم پر دیا گیا فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا، میں نے تواسے لکھا تھا، یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں تھا۔‘‘ریڈی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر شاہ اتنے سالوں تک خاموش کیوں تھے؟جسٹس ریڈی نے پوچھا ’’میں یہاں ہندوستان میں تھا، پھر انہوں نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میری وجہ سے نکسل ازم ختم نہیں ہوا، اب وہ اسے ایشو بنا رہے ہیں، انہیں حق ہے، وہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن وہ اتنے سالوں تک خاموش کیوں رہے؟‘‘
جسٹس ریڈی نے یاد دلایا کہ اسی وقت اس قانون کو چھتیس گڑھ کی حد تک نافذ کرنے کی اجازت دےدی گئی اور معاملہ نمٹ گیا۔ سوال یہ ہے اس کے نافذ العمل ہونےکے باوجود نکسل نظریہ اس ریاست میں کیوں ختم نہیں ہوا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ ابھی پچھلے ماہ بھی اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے کچھ لوگوں نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا تھا تو ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔ ایسے میں کیا موجودہ ججوں کو بھی نکسل نواز قرار دے دیا جائے گا؟ موصوف نے یہ چونکانے والاانکشاف کیا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ وہ دیگر علاقائی جماعتوں سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی آر ایس اور وائی ایس آر سی پی جیسی جماعتوں سے بات چیت جاری ہے اور مؤخر الذکر نے حمایت کا اعلان بھی کردیا ہے۔ انہوں نے بلا تفریق تمام جماعتوں کےارکان پارلیمنٹ کوخط لکھ کر ووٹ مانگنے کا عندیہ دیا۔ بی جے پی کی منہ زوری روکنے کے لیے حلیف جماعتوں کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی حمایت سے جسٹس سدرشن ریڈی کو کامیاب بنائیں۔ ویسے اس انتخاب سے پہلے ہی امیت شاہ کی بدزبانی نے سنگھ پریوار کو ذلیل ورسوا کردیا ہے جو موشانی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)

 

***

 جسٹس ریڈی نے علاقائی تفاخر پر بی جے پی کو یاد دلایا کہ وہ خود ایک ملک ایک شہریت کی حامی ہے اس لیے یہ ’’تیلگو فخر بمقابلہ تمل فخر‘‘ کی لڑائی نہیں ہے۔ وہ بولے ہم سب ہندوستانی شہری ہیں، کوئی اپنی مرضی سے تمل ناڈو یا تلنگانہ میں نہیں پیدا ہوا، اس لیے یہ کوئی فخر یہ مقابلہ نہیں ہے۔ ان سے جب کہا گیا کہ چندرا بابو نائیڈو کا بھی یہی موقف ہے تو وہ بولے چونکہ تلگو دیشم پارٹی کا قیام ہی ’’تیلگو فخر‘‘ کے نعرے پرہوا اس لیے وہ اس سے پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کے ذریعہ ریڈی کو ’’نکسلی نظریہ‘‘ کا حامل شخص قرار دینے کے الزام پرانہوں نے کہا کہ موصوف اگر ایک بار اس فیصلے کو پڑھ لیں تو اچھا ہے۔ امیت شاہ اگر پڑھنے لکھنے والے ہوتے تو سنگھ میں کیوں رہتے؟ ریڈی نے کہا ’’سلوا جوڈم پر دیا گیا فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا، میں نے تواسے لکھا تھا، یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں تھا۔‘‘ریڈی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر شاہ اتنے سالوں تک خاموش کیوں تھے؟جسٹس ریڈی نے پوچھا ’’میں یہاں ہندوستان میں تھا، پھر انہوں نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میری وجہ سے نکسل ازم ختم نہیں ہوا، اب وہ اسے ایشو بنا رہے ہیں، انہیں حق ہے، وہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن وہ اتنے سالوں تک خاموش کیوں رہے؟‘‘


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025

hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |