
ناندیڑ پولیس کی شاندار کاوش: کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے نوجوان کی بحفاظت واپسی
دھوکہ باز ایجنٹوں کے جال سے بچاؤ کی زندہ مثال۔’’چھ ماہ کا اندھیرا اور سمیر کی واپسی‘‘ بھارتی نوجوان کی ایک سبق آموز داستان
ضمیر خان
بیرون ملک نوکری کے لالچ میں پھنسنے والے نوجوانوں کے لیے انتباہ۔نوکری کی تلاش میں احتیاط نہ برتی جائے تو انجام نہایت خطرناک ہو سکتا ہے!
بیرون ملک روزگار کی چکاچوند میں پھنس کر ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں، لیکن ناندیڑ پولیس کی بروقت اور انتھک کوششوں نے ایک ایسے نوجوان کو نئی زندگی دی ہے جو کمبوڈیا میں غیر قانونی کرپٹو کرنسی اسکیم کے جال میں پھنس کر تشدد اور تاوان کے مطالبے کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف پولیس کی کارکردگی کی ایک شاندار مثال ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک انتباہ بھی ہے کہ بیرون ملک نوکری کی تلاش میں احتیاط نہ برتی جائے تو کیا انجام ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات نہ صرف دل دہلا دینے والی ہیں بلکہ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ایسے دھوکہ باز نیٹ ورکس کو کیسے روکا جائے۔
’’چھ ماہ کا اندھیرا اور سمیر کی واپسی‘‘
ناندیڑ کے رحیم پور وسرنی علاقے کا ایک عام سا نوجوان… شیخ سمیر شیخ محبوب۔ خواب دیکھنے والا، بہتر مستقبل کی تلاش میں سرزمینِ ہند سے پرے اپنا سفر شروع کرنے والا۔ 15 فروری 2025 کو جب وہ اپنے شہر سے روانہ ہوا تو گھر والوں کی آنکھوں میں امید کے چراغ روشن تھے۔ ایجنٹ نے کہا تھا کہ”کمبوڈیا میں آرام دہ نوکری ہے، بس میڈیکل اسکرپٹ اپلوڈ کرنا ہوگا۔‘‘ سب کو لگا زندگی کا نیا باب شروع ہونے والا ہے مگر حقیقت کچھ اور تھی…!
کمبوڈیا پہنچتے ہی خوابوں کے تمام رنگ ماند پڑ گئے۔ سمیر سے کہا گیا کہ وہ ایک غیر قانونی کرپٹو کرنسی اسکام کا حصہ بنے۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔ اور یہی انکار اس کی آزمائش بن گیا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی بھی خاندان کے لیے ڈراؤنا خواب ہے۔سمیر کو زد و کوب کیا گیا، اس کی ویڈیوز بنائی گئیں، گھر والوں کو بلیک میل کیا گیا۔ پہلے جعلی ویڈیو بنائی گئی اور جب اس کے گھر والوں نے اس پر یقین نہیں کیا تو ظالموں نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے لائیو ویڈیو پر سمیر کی انگلی کاٹ دی۔ اور پھر پچاس لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ رکھا۔یہ ویڈیو جب ناندیڑ میں اس کے گھر والوں نے دیکھی تو وہ دہل کر رہ گئے۔ ماں کا کلیجہ تڑپ اٹھا، گھر والے آہوں میں ڈوب گئے۔ سب کو لگا جیسے سمیر اب کبھی واپس نہیں آ سکے گا مگر اندھیروں میں بھی کچھ چراغ ہوتے ہیں۔ یہ چراغ بغیر سماجی خدمت گار اسلم شیخ، جنہوں نے سمیر کے اہلِ خانہ کا ہاتھ تھاما۔ وہ ضلع ایس پی ابیناش کمار تک معاملہ لے گئے۔ پھر یہ آواز مزید آگے پہنچی، ایم ایل اے پرتاپ پاٹل چکلیکر، ایم پی رویندر چوہان اور سابق ایم ایل اے موہن ہمبرڈے تک سب کی اجتماعی کوششوں اور بھارتیہ سفارت خانے سے بروقت تعاون کے ذریعے آخر کار کامیابی نصیب ہوئی اور یوں 14 اگست 2025 کو چھ مہینے کے طویل اور اذیت ناک قید کے بعد سمیر اپنے وطن واپس لوٹ آیا۔ اس کی واپسی نے گھر والوں کی دعاؤں کو سجدہ شکر میں بدل دیا۔آج ناندیڑ میں سمیر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ان سبھی ذمہ داران کا شکریہ ادا کر رہا ہے جنہوں نے اسے دوبارہ زندگی دی۔ وطن واپس آنے کے بعد آج وہ اپنے اہلِ خانہ اور اسلم شیخ کے ساتھ ضلع ایس پی ابیناش کمار، ایم ایل اے پرتاپ پاٹل چکلیکر، ایم پی رویندرا چوہان اور سابق ایم ایل اے موہن ہمبرڈے کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان سے ملاقات کی اور گلپوشی کے ذریعے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر ایس پی ابیناش کمار نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد نوجوانوں کو محفوظ رکھنا ہے اور یہ کیس اس کی ایک کامیاب مثال ہے۔‘‘ نوجوانوں کو چاہیے کہ روزگار کی تلاش میں جلد بازی نہ کریں اور سرکاری چینلز (جیسے eMigrate پورٹل) استعمال کریں۔ اگر ایسا کوئی کیس سامنے آئے تو فوراً پولیس یا سفارت خانے سے رابطہ کریں۔ یہ کہانی امید کی کرن ہے کہ اتحاد اور احتیاط سے دھوکہ کی تاریکی کو شکست دی جا سکتی ہے۔
یہ قصہ صرف ایک خاندان کا نہیں، یہ ان سب کے لیے سبق ہے جو بہتر مستقبل کے خواب میں بغیر تحقیق کے ایجنٹوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اور یہ گواہی بھی ہے کہ اگر سماج اور ذمہ دار لوگ ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو اندھیروں میں امید کے چراغ بھی دوبارہ جل اٹھتے ہیں۔ لہذا جو لوگ لوگ بھی بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے کی تمنا رکھتے ہیں انہیں بہت سوچ سمجھ کر اور سارے معاملات کی جانکاری لے کر ہی قدم اٹھانا چاہیے۔
دھوکہ دہی کی مثالیں، وجوہات اور بچاؤ کے طریقے
بیرون ملک نوکری کی تلاش میں جانے والے نوجوانوں کو اکثر دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر ایجنٹس نوکری کو پرکشش بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے "آفس جاب” یا "ہوٹل مینیجر” کا لالچ دیتے ہیں، لیکن پہنچنے پر مزدوری، صفائی یا خطرناک کام جیسے کنسٹرکشن یا فارمنگ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اگر انکار کیا جائے تو جسمانی تشدد جیسے زدوکوب، ذہنی ہراسانی بشمول دھمکیاں اور تنہائی، یا پاسپورٹ ضبط کر کے واپسی روک دی جاتی ہے، جبکہ کئی کیسز میں کم تنخواہ، اوور ٹائم بغیر اجرت اور خراب رہائش کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ دیگر واقعات میں وعدہ شدہ تنخواہ نہ ملنا، میڈیکل انشورنس کی عدم موجودگی یا غیر قانونی طور پر ملک میں داخل کرانا شامل ہے، جو گرفتاری کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک واضح مثال سعودی عرب، UAE یا یورپ جانے والے پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں کی ہے جہاں انہیں ’’ڈرائیور‘‘ کی نوکری کا لالچ دیا جاتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر اونٹوں کی دیکھ بھال یا صحرا میں مزدوری کرنی پڑتی ہے اور انکار پر مار پیٹ اور جیل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ایسے معاملات کی وجوہات کئی سطحوں پر ہیں، جیسے بے روزگاری اور مالی دباؤ کی وجہ سے نوجوانوں میں بہتر زندگی کی امید اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلے کرتے ہیں اور ایجنٹوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ غیر منظم ایجنٹس اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک بھی اس کی بڑی وجہ ہیں، جہاں غیر رجسٹرڈ ایجنٹس جعلی ویزے، جاب آفرز اور کمپنیاں استعمال کرتے ہیں۔ قانونی کمزوریاں جیسے مقامی قوانین کی کمزوری، سرکاری نگرانی کی کمی اور بیرون ملک سفارت خانوں کی محدود رسائی دھوکہ دہی کو آسان بناتی ہیں، مثال کے طور پر خلیجی ممالک میں ’’کفالت سسٹم‘‘ کے تحت آجر پاسپورٹ ضبط کر سکتا ہے جو ہراسانی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ معلومات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ نوجوانوں کو ویزا قوانین، جاب کنٹریکٹ اور حقوق کی معلومات نہیں ہوتیں اور سوشل میڈیا پر جعلی اشتہارات جیسے ’’فوری ویزا اور نوکری‘‘ انہیں پھنساتے ہیں۔ مزید یہ کہ معاشی استحصال کی وجہ سے کئی ممالک میں سستے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجنٹس اور آجروں کو مل کر استحصال کا موقع دیتے ہیں اور عالمی سطح پر ILO کے مطابق ہر سال لاکھوں لوگ لیبر ٹریفکنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ دھوکہ سے بچنے کے لیے احتیاط اور تحقیق ضروری ہے، لہذا نوکری کی پیشکش کی تصدیق کریں جیسے کمپنی کی ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور ریویوز چیک کریں اور اگر کمپنی جعلی لگے تو فوراً انکار کریں۔ سرکاری ذرائع استعمال کریں۔ نوکری کا کنٹریکٹ اردو یا انگریزی میں حاصل کریں اور وکیل سے چیک کروائیں، جس میں تنخواہ، کام کے اوقات، رہائش، میڈیکل اور واپسی کے حقوق واضح ہونے چاہییں۔ ویزا کی تصدیق کریں کہ یہ جعلی نہ ہو اور سفارت خانے سے چیک کریں، ’’ویزا آن ارائیول‘‘ یا ’’فری ویزا‘‘ کے جھانسے میں نہ آئیں۔ فیملی اور دوستوں سے مشورہ لیں اور تنہا فیصلہ نہ کریں بلکہ تجربہ کار لوگوں سے بات کریں، مالی احتیاط برتیں اور ایجنٹس کو پیشگی بہت زیادہ پیسے نہ دیں کیونکہ قانونی ایجنٹس صرف سرکاری فیس لیتے ہیں، اور آخر میں بیرون ملک جانے سے پہلے اپنے ملک کے سفارت خانے کا نمبر اور ہیلپ لائن نوٹ کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد مل سکے ۔
دھوکہ دہی کی وجوہات اور اس سے سبق: نوجوانوں کے لیے انتباہ
عوام، خاص طور پر نوجوانوں، سے اپیل ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے مواقع کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں۔ یہ تدابیر نہ صرف دھوکہ سے بچائیں گی بلکہ محفوظ مستقبل کو یقینی بھی بنائیں گی:
ایجنٹ کی تصدیق کریں: کسی بھی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کرنے سے پہلے یقینی بنائیں کہ وہ وزارت خارجہ، حکومت ہند کی ویب سائٹ (emigrate.gov.in) پر رجسٹرڈ ہے۔ جھوٹے ایجنٹس اکثر "فوری ویزا” کا لالچ دیتے ہیں جو خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ شیخ سمیر کے کیس میں ایجنٹ غیر رجسٹرڈ تھا، جس کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔
ملازمت کے معاہدے (آفر لیٹر) کو غور سے پڑھیں:غیر واضح وعدوں، بہت زیادہ تنخواہوں (جیسے بغیر تجربہ کے لاکھوں روپے)، یا فوری ویزے کے وعدوں پر شک کریں۔ کنٹریکٹ کو وکیل سے چیک کروائیں اور اس میں تنخواہ، کام کے اوقات، رہائش، میڈیکل انشورنس اور واپسی کے حقوق واضح ہونے چاہییں۔ شیخ سمیر کو ایسا کوئی تحریری معاہدہ نہیں ملا تھا، جو اس کی مشکلات کی جڑ بنا۔
ویزا کی قسم کی جانچ کریں:یہ یقینی بنائیں کہ آپ کو ملنے والا ویزا درحقیقت ملازمت کا ویزا ہے نہ کہ سیاحتی یا ٹرانزٹ ویزا؟ جعلی ویزے پر گرفتاری کا خطرہ ہوتا ہے۔ کمبوڈیا جیسے ممالک میں ویزا قوانین سخت ہیں اور شیخ سمیر کو ایسے ہی جھانسے میں لایا گیا تھا۔
ادائیگی پر شک کریں:کسی بھی ایجنٹ کو ملازمت کے حصول کے لیے بڑی رقم (جیسے لاکھوں روپے) پیشگی ادا کرنے سے گریز کریں۔ قانونی ایجنٹس صرف سرکاری فیس لیتے ہیں۔ شیخ سمیر نے ایجنٹ کو بھاری رقم دی تھی، جو ضائع ہو گئی۔
ایمرجنسی رابطہ نمبر محفوظ کریں:سفر پر جانے سے پہلے مقامی ہندوستانی ایمبیسی یا قونصل خانے کا ایمرجنسی رابطہ نمبر اپنے پاس رکھیں۔ شیخ سمیر کے کیس میں سفارت خانے کا کردار کلیدی تھا۔ اس کے علاوہ، فیملی کو اپنی لوکیشن اور تفصیلات شیئر کریں۔
جھوٹے ایجنٹس کو پہچاننے اور بیرون ملک نوکری کی تلاش کا محفوظ طریقہ کار:
بیرون ملک نوکری کی تلاش میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ جھوٹے ایجنٹس سے بچیں، جو نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں میں پھنسا کر ان کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔ جھوٹے ایجنٹس کو پہچاننا آسان ہے اگر آپ کچھ نشانیوں پر توجہ دیں۔ سب سے پہلے، چیک کریں کہ وہ غیر رجسٹرڈ تو نہیں؛ یعنی ان کی تصدیق وزارت خارجہ کی ویب سائٹ سے کریں۔ یہ ایجنٹس اکثر جلد بازی کا دباؤ ڈالتے ہیں، جیسے ’’فوری نوکری‘‘ یا ’’محدود سیٹیں‘‘ کہہ کر آپ کو فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ جعلی وعدے کرتے ہیں، مثلاً بہت زیادہ تنخواہ (جیسے ایک لاکھ روپے ماہانہ بغیر کسی تجربے کے) یا ’’کوئی دستاویز کی ضرورت نہیں‘‘ کہہ کر لالچ دیتے ہیں۔ پیشگی بھاری فیس کا مطالبہ بھی ایک بڑی نشانی ہے، کیونکہ قانونی ایجنٹس صرف دس تا بیس ہزار روپے کی سرکاری فیس لیتے ہیں، جبکہ جھوٹے لاکھوں روپے مانگتے ہیں۔ وہ جعلی دستاویزات جیسے جعلی جاب لیٹر یا ویزا دکھاتے ہیں، جنہیں آپ سرکاری ویب سائٹس سے چیک کر کے پکڑ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ، اگر ان کا کوئی دفتر نہ ہو یا صرف ایک آن لائن ویب سائٹ ہو، تو فوراً شک کریں، کیونکہ حقیقی ایجنٹس کے پاس لائسنس اور مستقل دفتر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شک ہو تو فوراً رپورٹ کریں، جیسے بھارت میں MEA کی ہیلپ لائن (1800-11-3090) پر۔
ایسے دھوکہ بازوں سے بچنے کے لیے، بیرون ملک نوکری کی تلاش کا صحیح اور محفوظ طریقہ کار اپنائیں جو سرکاری اور قانونی چینلز پر مبنی ہو۔ محفوظ راستہ یہ ہے کہ سرکاری پورٹلز استعمال کریں، جیسے بھارت میں eMigrate سسٹم، جو رجسٹرڈ نوکریاں فراہم کرتا ہے۔ اسے مرحلہ وار فالو کریں: سب سے پہلے اپنا CV تیار کریں، ضروری قابلیت جیسے ڈگری اور سرٹیفکیٹ حاصل کریں اور انگلش یا مقامی زبان سیکھیں۔ پھر نوکری تلاش کریں LinkedIn، Indeed، یا سرکاری جاب پورٹلز جیسے GulfTalent.com کے ذریعے، اور براہ راست کمپنیوں کو اپلائی کریں۔ صرف رجسٹرڈ ایجنٹس کا انتخاب کریں، ان کی تفصیلات چیک کریں، اور کنٹریکٹ پر دستخط سے پہلے وکیل سے چیک کروائیں۔ ویزا کے لیے سفارت خانے سے براہ راست اپلائی کریں۔ روانگی سے پہلے انشورنس حاصل کریں، فیملی کو تمام تفصیلات دیں، اور ہیلپ لائن نمبرز نوٹ کریں۔ بیرون ملک پہنچنے پر فوراً سفارت خانے سے رابطہ کریں اور اگر کنٹریکٹ کی خلاف ورزی ہو تو فوراً رپورٹ کریں۔ محفوظ ممالک اور نوکریاں میں خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور UAE میں قانونی مواقع زیادہ ہیں، لیکن وہاں حقوق کی خلاف ورزی کے کیسز بھی سامنے آتے ہیں، جبکہ یورپ یا کینیڈا میں سکلڈ ورکر پروگرامز جیسے کینیڈا کا Express Entry زیادہ محفوظ ہیں۔ آخر میں، سرکاری پروگرامز جیسے بھارت کا ’’پراوسی بھارتیہ‘‘ پروگرام استعمال کریں، جو محفوظ روزگار کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس طرح، آپ نہ صرف دھوکہ سے بچیں گے بلکہ ایک مستحکم مستقبل بھی حاصل کر سکیں گے۔
***
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025