ناگپور فساد: میرا قاتل ہی میرا منصف ہے

عرفان انصاری کی موت سے پھڈنویس حکومت کا چہرہ بے نقاب

ڈاکٹر سلیم خان

پولیس کا دوہرا معیار: وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی ضمانت پر رہائی اور مسلمانوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے!
ناگپور میں ہونے والے تشدد کے بعد ریاستی حکومت ہندو مظلومیت کا کارڈ کھیل کر فلم چھاوا کا ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گودی میڈیا کے ذریعہ پورا ہفتہ یہ پیغام دیا گیا کہ مسلمان اورنگ زیب کی طرح ظالم و سفاک ہیں حالانکہ یہ بات جس طرح ماضی کی بابت غلط ہے اسی طرح آج بھی غلط ہے۔ کیمرے کی مدد سے فی الحال جس قدر مبالغہ آرائی فلموں میں کی جاتی ہے اس سے زیادہ خبروں کے ذریعہ گمراہ کیا جاتا ہے۔ ہر چینل کا نمائندہ بعض ہندو گھروں میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں لگنے والے پتھر کو ایٹم بم کی مانند بڑھا چڑھا کر پیش کرتا۔ ہندو دیوتاؤں کی تصاویر دِکھا کر کہتا ہے کہ ان کو توڑا پھوڑا گیا جبکہ وہ تصویریں خود اس بیان کے خلاف گواہی دے رہی ہوتی ہیں لیکن کسی کو ان سو سے زیادہ بے قصور لوگوں کے گھر جا کر یہ جاننے کی توفیق نہیں ہوتی کہ کس بے دردی سے مظلوم مسلمانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ بیانیہ سازی جاری ہی تھی کہ اس تشدد میں زخمی ہونے والے عرفان انصاری کی موت کی خبر آگئی۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ امیر مینائی نے کیا خوب کہا ہے؎
قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا قتل کیوں کر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
سرکار اور گودی میڈیا کے مطابق ناگپور میں سارا فساد تو مسلمان کر رہے تھے پھر عرفان انصاری اس قدر زخمی کیسے ہوا کہ مر ہی گیا؟ کیا مسلمانوں نے ہی اپنے بھائی کو مار ڈالا؟ عرفان انصاری کی موت نے میڈیا اور سرکار کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ 17 مارچ کے تشدد میں شدید طور پر زخمی ہونے والے عرفان کا ناگپور کے میو ہسپتال میں علاج چل رہا تھا۔ حادثہ کے دن سے ہی اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ آئی سی یو میں داخل کرنا پڑا مگر چھ دن کے بعد بالآخر وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ وشو ہندو پریشد کے ذریعہ بھڑکائے جانے والے فساد کے ایک ہفتہ بعد بھی ناگپور کے نو علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔ یہ فساد مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈنویس کے اپنے شہر میں ہوا اس کے باوجود انہوں نے وہاں جاکر حالات کا جائزہ لینے میں اتنا کافی وقت لگا دیا جو ان کی بے حسی اور عدم سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرفان انصاری کے قاتلوں کو پکڑ کر انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی؟ وزیر اعلیٰ فساد سے نقصان کے بھرپائی کی بات تو کر رہے ہیں مگر کیا عرفان انصاری کے قاتلوں کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکایا جائے گا اور اس کے قتل سے اس کے لواحقین کو ہونے والے نقصان کی تلافی کی جائے گی؟ اس پر وہ خاموش ہیں۔ بلڈوزر کی دھمکی دینے والے وزیر اعلیٰ بتائیں کہ وی ایچ پی کے کارکنوں کے گھروں پر بلڈوزر کب چلے گا؟ اگرچہ انہوں نے یہ کہا تو ہے کہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ارکان کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں لیکن اس بات کو چھپا گئے کہ ان فسادیوں کو اسی وقت دو ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانتیں مل گئیں جبکہ مسلم نوجوانوں پر ملک سے بغاوت کی دفعہ لگا کر ان کی مشکلات بڑھا دی گئیں۔ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کو سبق سکھانے والے والے وزیر اعلیٰ کو اس فرق کی وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ فساد کی ابتداء تو بجرنگیوں نے ہی کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پر اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں تشدد سڑکوں پر کم اور سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ پھیل رہا ہے لیکن لگتا ہے اسی مقصد کے لیے بی جے پی نے آئی ٹی سیل قائم کیا ہے جو دن رات نفرت مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتا رہتا ہے ۔
وزیر اعلیٰ پھڈنویس کی آمد سے قبل ناگپور کے سیاسی و سماجی مسلم نمائندوں نے فساد کی مذمت کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی فوری کارروائی بدامنی کو روک سکتی تھی۔ مسلم رہنماوں نے وزیر اعلیٰ پھڈنویس سے امن بحال کرنے کے لیے دونوں فرقوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کی اپیل کی مگر وزیر اعلیٰ نے خود کو پولیس اور میڈیا تک محدود رکھا۔ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر محمد اویس حسن رضا نے کہا کہ ’’پچھلے دو تین سال میں مختلف طریقوں سے مسلم سماج کو مشتعل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ریاست کا ایک وزیر اورنگ زیب کا مسئلہ بار بار اٹھا رہا ہے۔ قرآنی آیات لکھی ہوئی چادر جلانے کے مبینہ واقعے کے بعد مسلمانوں نے پولیس سے رجوع کیا اور کارروائی پر زور دیا لیکن جب پولیس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو کچھ لوگ مشتعل ہو گئے‘‘ یعنی یہ ایک فطری رد عمل تھا کیونکہ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور انتظامیہ کی بے حسی اور مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریزکرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔
سابق وزیر اور کانگریس لیڈر انیس احمد نے میڈیا کو بتایا کہ ’’احتجاج کے دوران وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے جہاں اورنگ زیب کی علامتی قبر بنائی وہیں اس پر بابا تاج الدین کی مزار کی چادر ڈال کر اس کی بے حرمتی کی‘‘۔ ان کے مطابق اس حرکت کے باوجود وی ایچ پی کے لوگوں کی معمولی دفعات کے تحت گرفتاری اور کچھ دیر میں رہائی ایک فرقہ وارانہ طرف داری ہے۔ انہوں نے تراویح کی نماز سے لوٹنے والے بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری پر تنقید کی۔ انہوں نے نابالغوں پر 57 دفعات لگانے پر بھی احتجاج کیا اور اس معاملے میں گورنر سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ امن و سلامتی کی خاطر مسلم نمائندوں سے ملاقات کرتے لیکن بھگوا سنسکار اور ہندو رائے دہندگان کی ناراضی کا خوف ان کے پیروں کی بیڑی بن گیا۔
خلد آباد میں واقع مغل بادشاہ اورنگ زیب کی تین سو سال قدیم قبر کے خلاف آر ایس ایس سے وابستہ تنظیمیں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے مظاہرے کے بعد ناگپور میں تشدد پھوٹ پڑا جس کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ تشدد کیسے اور کیوں ہوا اس کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ اس کے اغراض و مقاصد کیا تھے؟ اس جیسے بے شمار سوالات کے مختلف جوابات ہو سکتے ہیں مگر اس تنازعہ پر آر ایس ایس کے ترجمان سنیل امبیکر کا بیان بہت اہم ہے جس نے انتظامیہ سمیت اقتدار میں بیٹھے ہوئے سیاسی آقاؤں کو ایک ٹھوس پیغام دے دیا۔ آر ایس ایس لیڈر سے پوچھا گیا تھا کہ اورنگ زیب عالمگیر کی عصرِ حاضر میں کیا معنویت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ کوئی معنویت نہیں ہے۔ گویا صاف الفاظ میں یہ اعتراف کرلیا گیا کہ اورنگ زیب آج کے دور میں بالکل غیر متعلق ہے۔ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے ناگپور میں اورنگ زیب کی قبر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بلا اجازت احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر وہ کسی درگاہ سے ایک سبز چادر لے آئے جس پر مبینہ طور پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوئی تھیں اور اسے جلا دیا گیا جس کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ اول تو پولیس نے بلا اجازت احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی شکایت لکھنے میں آنا کانی کی اور چادر جلانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس سے لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس کے بعد بھی وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈنویس پولیس پر حملے کی آڑ میں بلا واسطہ مسلمانوں پر سختی کرنے کی دھمکی دیتے رہے۔ ایسے میں امبیکر کا یہ بیان آگیا کہ ’’کسی بھی قسم کا تشدد معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پولیس نے اس کا نوٹس لیا ہے اور وہ اس کی تفصیلات تک پہنچے گی۔ ‘‘یہ بیان آر ایس ایس کی سالانہ مجلس عاملہ کی نشست جو 21 سے 23 مارچ تک منعقد ہونی تھی، اس سے پہلے کا ہے۔ اس میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے قرارداد زیر غور تھی۔ یہ چراغ تلے اندھیرا جیسی صورتحال ہو گئی کہ اپنے ملک بلکہ شہر میں جہاں سنگھ کا صدر دفتر ہے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم سے بے نیاز یہ لوگ بنگلہ دیش کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے سو سالہ سفر اور مستقبل کے اہداف پر غور وخوض بھی ہونا تھا۔
سنیل امبیکر تو یہی چاہتے تھے ہوں گے کہ اس پریس کانفرنس میں ان سے ان امور پر سوال کیا جائے مگر اخباری نمائندوں نے ناگپور کا قضیہ چھیڑ کر رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور بس اتنا ہی حصہ میڈیا میں وائرل بھی ہوا۔ سنیل امبیکر کے اس بیان نے اورنگ زیب کے معاملے میں بہت زیادہ پر جوش وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈنویس سمیت نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نتیش رانے جیسے لوگوں کی زبان پر لگام کسنے کا کام کیا۔ مرکزی وزارت میں مہاراشٹر کے سب سے قد آور رہنما نیتن گڈکری اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ تشدد زدہ علاقہ انہیں کے حلقۂ انتخاب میں ہے۔ انہوں نے تشدد سے دو دن قبل انجمن اسلام کے ایک کالج میں بہت اچھی تقریر کی تھی جو ذرائع ابلاغ میں خوب وائرل ہوئی اور اس میں مسلمانوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی دہائی دی گئی تھی۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے وہ آر ایس ایس کے سب سے چہیتے امیدوار ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس سال اپنی عمر کے پچھتر برس مکمل کررہے ہیں۔ اس لحاظ سے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار سر سنگھ چالک سے ملاقات کے لیے آنا اور اس سے قبل تشدد کا پھوٹ پڑنا سیاسی افواہوں کو جنم دیتا ہے۔
آر ایس ایس پچھلے سو سالوں سے ہندو سماج کو مسلمانوں سے خوفزدہ کررہا ہے اور مسلمانوں کو بھی ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں اس کے صدر دفتر سے قریب تشدد اس کی ناکامی کی جانب اشارہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہنوز اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا ورنہ یہ ردعمل نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر پھذنویس نے اس تشدد کو منصوبہ بند کہہ کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ہے کیونکہ اچانک پھوٹ پڑنے والے تشدد کا تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا لیکن اگر اس کا منصوبہ بنا تھا تو ان کی خفیہ ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں اور اس کا سراغ لگانے میں ناکامی کی ذمہ داری کس پر ہے؟ کیا ریاست کے وزیر اعلیٰ پھڈنویس جو وزیر داخلہ بھی ہیں اس مجرمانہ کوتاہی کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگوں نے تشدد کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پر ڈال کر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
شیواجی کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے افضل خان کا مقبرہ بنوایا تھا۔شیواجی کے پوتے شاہوجی مہاراج نے جن کی پرورش خود اورنگ زیب نے کی تھی اپنے محسن کی قبر پر جاکر خراج عقیدت پیش کیا مگر اب نتیش رانے جیسے لوگ شیواجی کے وارثین سے بڑے شیو بھکت ہونے کا ناٹک کر رہے ہیں۔ نتیش رانے کے مطابق اورنگ زیب نے چھترپتی شیواجی اور سمبھاجی مہاراج کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے سبب وہ مقبرہ ہماری ریاست میں رکھنے لائق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اورنگ زیب کے بعد ڈھائی سو سال مہاراشٹر میں مراٹھوں کی حکومت رہی، خود نتیش رانے کے والد نارائن رانے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنے مگر کسی کو قبر کے ہٹانے کا خیال کیوں نہیں آیا؟ نتیش رانے نے ایودھیا کی طرح اورنگ زیب کے مقبرے کو مسمار کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعلیٰ کا یہی موقف ہے اور صحیح وقت پر آپ کو بریکنگ نیوز مل جائے گی۔
آر ایس ایس کی جانب سے تنبیہ ملنے کے بعد خود وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈنویس نے بلا واسطہ نتیش رانے کے بیان کی تردید کر دی۔ انہوں نے اپنے ساتھی وزراء سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بیانات سے معاشرے میں دشمنی نہ پھیلے۔ بی جے پی لیڈر کے مطابق ’’بعض اوقات نوجوان وزیر کچھ تبصرے کرتے ہیں۔ میں نے ایسے مواقع پر ان سے بات چیت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ آپ ایک وزیر ہیں اور آپ کو خود پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے‘‘ یہ اشارہ اپنے آپ کو خود ساختہ وزیر اعلیٰ کا لاڈلا وزیر کہلانے والے نتیش رانے کی طرف تھا۔ وزیر اعلیٰ پھڈنویس کو اس موقع پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی نصیحت یاد آگئی جس میں انہوں نے گجرات فساد کے بعد موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھرے مجمع میں نصیحت کی تھی کہ ’’بطور وزیر، ہمیں راج دھرم کی پیروی کرنی چاہیے، اس کے لیے ہمیں اپنی انفرادی رائے، پسند اور ناپسند کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ ہم نے آئین کا حلف اٹھایا ہے اور آئین نے ہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے‘‘
وزیر اعلیٰ پھڈنویس نے 10 مارچ کو اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے کیونکہ یہ مقام آثار قدیمہ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت مقبرے کی حفاظت کرنے کی ذمہ دار ہے، جو ایک محفوظ مقام ہے، لیکن وہ اورنگ زیب کی میراث کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقبرے کا تحفظ احترام کی بجائے تاریخی ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ ناگپور کے حالیہ تشدد میں حکومت مہاراشٹر پولیس اہلکاروں پر حملہ اور بد تمیزی کا شور مچا کر ہمدردیاں سمیٹ رہی ہے۔ اس کے ساتھ پولیس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی جارہی ہے حالانکہ بندوق بردار پولیس کے پیر پر کلہاڑی سے حملہ اور پھر بھی جواب نہ دینا ناقابلِ یقین ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی ہے کہ آر سی پی اسکواڈ کی ایک خاتون پولیس افسر کی وردی اور جسم کو چھونا یا دیگر خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ فحش اشارے اور بدسلوکی کے باوجود کوئی کارروائی نہ کرنا کس کے اشارے پر ہوا؟ بے قصور مسلم نوجوانوں پر سختی اور وی ایچ پی کے غنڈوں سے نرمی برتنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک طے شدہ تماشا تھا اور اس حکومت سے اسی نوٹنکی کی توقع ہے کیونکہ بقول سدرشن فاکر؎
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 مارچ تا 05 اپریل 2025