چلتی ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل کے ذریعے تین مسلمان مسافروں کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے اسے مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کے سلسلے کی ہی ایک کڑی قرار دیا

نئی دہلی، اگست 1: جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے انڈین ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کانسٹیبل کے ذریعہ چلتی ٹرین میں تین مسلم شہریوں کو اور آر پی ایف کے ایک افسر کا گولی مار کر قتل کرنے کی مذمت کی۔ آر پی ایف کانسٹیبل نے اپنے سینئر اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو بھی مار ڈالا تھا۔

ایک میڈیا بیان میں جے آئی ایچ کے نائب صدر ملک معتصم خان نے کہا کہ خوف ناک قتل کے اس گھناؤنے انداز سے متعلق میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک نفرت انگیز جرم ہے جس میں ملزم نے مسلمان مسافروں کا شکار کیا اور انھیں نہایت ہولناک طریقے سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جناب خان نے کہا ’’یہ مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کے مسلسل حملوں کا ایک اور باب ہے، جو ملک میں ایک نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے آنے والی بنیاد پرستی اور پولرائزیشن کا نتیجہ، یہ افسوس ناک صورت حال ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کے مرتکب افراد کو خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کرنے والوں کو ذہنی طور پر غیر مستحکم اور نفسیاتی مریض کہہ کر بنیاد پرستی کے الزامات کو رد کرنا ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار بن گیا ہے۔ یہ واقعہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ یہ ’’ذہنی طور پر بیمار‘‘ افراد بندوقوں سے لیس کیسے ہیں اور انھیں ہمارے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس طرح سونپی گئی ہے؟‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ قتل کے بعد مجرم نے جس طرح وزیر اعظم اور یوپی کے وزیر اعلیٰ کی تعریف کی اور جو باتیں کہیں، وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔ نائب امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں اکثریت پسندی، منافرت، پولرائزیشن اور تقسیم پیدا کرنے والی پالیسیوں نے ایسے واقعات کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔

جناب خان نے کہا ’’ہم شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ میڈیا کی مسلسل نفرت انگیزی اس صورت حال کی جڑ ہے، اس لیے میڈیا کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے میڈیا ہاؤسز کو کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔‘‘

متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ اور ان کے لواحقین کو مناسب روزگار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب امیر جماعت نے اس واقعے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔