
ملک کی پولیس فورسز میں سرایت کرتا جا رہا ہے مذہبی تعصب
محکمہ کی تطہیر ناگزیر۔اکثر کارروائیاں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت کے زیرِ اثر
میرن چٹھا بورونکر
(سابق آئی پی ایس، مہاراشٹر)
مراٹھی سے ترجمہ: ڈاکٹر ضیاءالحسن، ناندیڑ
آئین سے وفاداری کا سبق بار بار پڑھایا جائے۔ پولیس کو سیاسی اثرات سے دور رکھ کر کام کے دوران آزادی دینے کی ضرورت
بھارت کی سِول سروسز کو فولادی چوکھٹ سمجھنے کا دور بہت پہلے ختم ہو چکا ہے۔ بھلے ہی خوف کی وجہ سے ہم یہ بات سرگوشیوں میں کیوں نہ کہتے ہوں مگر سچ بالآخر سامنے آ ہی گیا۔ حال ہی میں جولیو ریبیرو (سابق آئی پی ایس) نے ایک مضمون میں لکھا کہ سابق پولیس افسر آنجہانی ہیمنت کرکرے نے مالیگاؤں (مہاراشٹر) بم دھماکوں کی تحقیقات کے دوران ان پر دہلی کے ایک سینئر بی جے پی لیڈر کی جانب سے دباؤ ڈالے جانے پر ریبیرو سے مشورہ کیا تھا۔ 19 ستمبر 2008 کو ہونے والے اس بم دھماکے میں چھ بے گناہ افراد ہلاک اور تقریباً سو افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت ہیمنت کرکرے مہاراشٹر کے انسدادِ دہشت گردی دستہ (ATS) کے سربراہ تھے جنہیں مالیگاؤں دھماکوں کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لیکن تحقیقات کے دوران ہیمنت کرکرے جیسے ایماندار اور مضبوط عزم کے حامل افسر بھی مایوس ہوگئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر کس قدر دباؤ تھا۔ جولیو ریبیرو سے اس بارے میں گفتگو کے کچھ ہی عرصہ بعد ہیمنت کرکرے بمبئی پر ہونے والے 26/11 کے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ بعد میں یہ تحقیقات این آئی اے کے سپرد کر دی گئیں۔ ان کے ایک قریبی سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی خدمات دوبارہ ’’را‘‘ یا ’’یو این او‘‘ میں انجام دینے پر غور کر رہے تھے۔
خصوصی سرکاری وکیل روہنی سالینی نے بھی انڈین ایکسپریس کے نمائندے کو بتایا کہ انہیں این آئی اے میں برسرِ کار مہاراشٹر کیڈر کے ایک سینئر افسر کے ذریعہ پیغام ملا تھا کہ وہ اس کیس کو دھیمی رفتار سے چلائیں۔ اس پس منظر میں، اس بھیانک اجتماعی قتل کے ملزمین کا باعزت بری ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ آپریشن اس قدر چالاکی سے انجام دیا گیا کہ روہنی سالینی کو سرکاری وکیل کی حیثیت سے ہٹانے کا کوئی باضابطہ حکم تک جاری نہیں کیا گیا، البتہ ان کی جگہ دوسرے وکیل کو این آئی اے کی جانب سے مقرر کر دیا گیا۔ حالانکہ وکالت کے میدان میں روہنی سالینی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مالیگاؤں کیس کے بارے میں ان کی معلومات بھی نہایت گہری تھیں۔ ملزمین نے جب مہاراشٹر آرگنائزڈ کرائم کنٹرول ایکٹ 1999 کے تحت اپنی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا تو سپریم کورٹ میں وہی این آئی اے کی جانب سے پیش ہوئی تھیں۔ حال ہی میں انہوں نے انڈین ایکسپریس کے ساتھ گفتگو میں کہا:
’’مجھے معلوم تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، کیونکہ جب پختہ ثبوت ہی عدالت میں پیش نہ کیے جائیں تو پھر کس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے انتہائی مایوسی کے ساتھ سوال کیا:
’’سارے ثبوت آخر کہاں غائب ہوگئے؟‘‘
تحقیقات کرنے والے اے ٹی ایس کے ایک اہم افسر نے مجھے بتایا کہ ججوں کے سامنے دیے گئے کئی اہم بیانات مقدمے کی سماعت کے دوران غائب ہوگئے۔ ایک اہم سی ڈی ٹوٹی ہوئی ملی۔ اسی طرح کیس کے کئی گواہوں کو منحرف کر دیا گیا۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ اس کیس کی جانچ کے دوران کچھ لوگوں پر چھاپے مارنے اور گرفتاری کرنے کے امکانات تھے لیکن اے ٹی ایس کے ملازمین نے قبل از وقت ان لوگوں کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔ اس لیے ہیمنت کرکرے بہت پریشان ہوگئے تھے۔ مگر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس کو نہ صرف ایک مضبوط بیرونی طاقت بلکہ بعض اندرونی دباؤ کا بھی سامنا تھا۔ علاوہ ازیں اس کیس میں مذہبی عناصر کی شمولیت بھی ہوچکی تھی۔
اس واقعہ کے مطالعہ سے دو اہم نکات سامنے آتے ہیں:
اول یہ کہ سیاست داں اس طرح کے اجتماعی قتل کی وارداتوں میں مداخلت سے بالکل نہیں چوکتے، بلکہ اپنے منصوبے انجام دینے کے بعد صاف بچ نکلتے ہیں۔
دوم یہ کہ بھارت میں پولیس کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی حاصل نہیں۔ اس محکمے کے تمام تقررات اور تبادلے برسرِ اقتدار سیاسی جماعت پر منحصر ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کو ضلع اور ریاستی سطح پر اپنی پسند کے افسر درکار ہوتے ہیں، اس لیے ایسے ہی افسر چنے جاتے ہیں۔ پھر برسرِ اقتدار طبقہ (چاہے کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو) یہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ منتخب افسران ان کی مرضی کے مطابق کام کریں—یعنی کس کیس کو دھیمی رفتار سے چلائیں اور کس میں سختی دکھائیں۔ یہی حال اے ٹی ایس اور دیگر مرکزی فورسز کا ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ فورسز فرقہ وارانہ اور مذہبی جذبات سے متاثر ہونے لگی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جس سماج میں رواداری کو اچھا نہ سمجھا جاتا ہو، اس سماج میں کام کرنے والی پولیس فورس میں تعصب، جانبداری اور بے جا مخالفت کا سرایت کرنا فطری ہے۔ یہ تمام باتیں قانون کی
صریح خلاف ورزی ہیں۔ اگر کوئی ملزم، پختہ ثبوت اور درست تحقیقات کے باوجود باعزت بری ہوجائے تو ایسے بے رحم عدالتی نظام اور سفاک اقتدار میں اس کھیل سے باخبر رہنا لازمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ اقتدار مذہب اور سیاست کے امتزاج سے وجود میں آیا ہے۔ اس صورتِ حال پر خاموش رہنا حل نہیں۔
پرکاش سنگھ کی داخل کردہ مفادِ عامہ عرضداشت پر غور کے بعد سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پولیس کے نظام میں اصلاح لانا ضروری ہے۔ میرے خیال میں اسی اصلاح کا ایک حصہ یہ ہے کہ پولیس کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں آزادی حاصل ہو۔ فیصلے میں یہ بھی وضاحت کی گئی تھی کہ پولیس افسران کا تقرر صرف میرٹ کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ بورڈ کے ذریعہ ہونا چاہیے۔ لیکن وزرائے اعلیٰ و داخلہ نے زبانی ہدایات اور غیر دستخطی چٹھیوں کے ذریعہ تقررات اور تبادلوں کا نظام چلا کر ان اصلاحات کو نقصان پہنچایا۔ مختلف ریاستوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی محض دکھاوا تعمیل کی اور محکمہ پولیس میں کوئی حقیقی اصلاح نہ کی۔ ہمیں چاہیے کہ اس طرح کے مسائل کو سماجی فریضہ سمجھتے ہوئے وقتاً فوقتاً اٹھاتے رہیں تاکہ ہمارا عدالتی نظام بہتر ہوسکے۔
ایک اور لازمی اقدام یہ ہے کہ پولیس ٹریننگ اداروں اور اکیڈمیوں میں بھارتی آئین کی وفاداری پر زور دیا جائے، نہ کہ سیاسی جماعتوں سے قربت پر۔ آئین کی اہمیت ہر محکمے میں بار بار اجاگر کی جائے۔ پرائمری اسکولوں، انڈسٹریل ٹریننگ اداروں اور کالجوں میں طلبہ کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، اور آئین کی اصل روح ہمیشہ نمایاں کی جائے۔ اس طرح اگر کوئی سرکاری افسر یا سیاست داں آئین سے انحراف کرے تو کم از کم اسے اپنے جرم کا احساس ضرور ہو۔
کیا میری توقعات حد سے زیادہ ہیں؟ ہمارے ملک کے موجودہ ماحول میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ برسراقتدار سیاسی جماعتوں سے وفاداری رکھنا ہی فائدہ مند ہے۔ یہی رجحان سیاسی جماعتیں خود پروان چڑھاتی ہیں۔ اپنے ذاتی و جماعتی مفاد کے لیے وہ سرکاری مشینری کا جائز و ناجائز استعمال کرتی ہیں۔ اجتماعی قتل جیسے واقعات میں ان کا یہی رویہ نظر آتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست داں خواہ کسی بھی جماعت یا مکتب فکر سے ہوں، وہ ضرر رساں ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی آشکار ہوتا ہے کہ قانون پر عمل کرانے والے ادارے آج کس قدر مصلحت پسند ہوچکے ہیں۔
مختصر یہ کہ ملکی آئین کے تحفظ، ایک مؤثر عدالتی نظام کی بقا اور مذہبی تعصب و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے عوام ہی ہماری اصل امید ہیں۔
(بشکریہ مراٹھی روزنامہ ‘‘لوک ستا‘‘ مورخہ 15 اگست 2025)
***
’’اگر کوئی ملزم پختہ ثبوتوں اور صحیح طریقے سے کی گئی تفتیش کے باوجود باعزت بری ہوجاتا ہے تو ایسے بے رحم عدالتی نظام اور سفاکانہ اقتدار کے رہتے ہوئے اس کھیل سے واقف ہونا ہمارے لیے ضروری ہے۔ دراصل موجودہ اقتدار مذہب اور سیاست کے اشتراک سے وجود میں آئی ہوئی ایک طاقت ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرلینا اس کا حل نہیں…‘‘
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025