مصنوعی ذہانت پر کنٹرول: بھارت کا عالمی شراکت داری کی جانب اہم قدم

مودی-میکروں ملاقات: اسمارٹ ماڈیولر ری ایکٹرز کی تیاری کا معاہدہ

0

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

بھارت-امریکہ دفاعی معاہدہ: ایف-35 جنگی طیارے اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی
وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس اور امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، جوہری توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔ فرانس میں صدر ایمانوئل میکروں کے ساتھ ایٹمی توانائی اور مصنوعی ذہانت میں شراکت کا روڈ میپ تیار کیا گیا، جس میں اسمارٹ ماڈیولر ری ایکٹرز کی مشترکہ ترقی اور دیگر اہم معاہدے شامل ہیں۔ مودی نے فرانسیسی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ۔
گزشتہ 10 تا 11 فروری کو پیرس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی چوٹی کانفرنس 2025 کا انعقاد کیا گیا جس کی مشترکہ صدارت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کی۔ اس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں، سائنس دانوں، پالیسی سازوں، ٹیکنالوجی انڈسٹری کے کارپوریٹس اور محققین نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کا عنوان تھا "محفوظ مستقبل کے لیے ذمہ دار AI” جس کا مقصد AI پالیسی، اختراع، اخلاقیات اور قانون سازی پر عالمی سطح پر یکجہتی پیدا کرنا تھا۔ ساتھ ہی اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی اختراع اور اخلاقیات کے امتزاج سے انسانیت کے حق میں استعمال ہو۔
عالمی رہنماؤں نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں یورپی یونین، فرانس، امریکہ اور گوگل کے سی ای او کے علاوہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے ذمہ داران شامل تھے۔ اس کانفرنس کا ایک خصوصی پہلو عالمی گورننس (Global Governance) کے قیام کی کوشش تھی تاکہ AI کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ AI الگورتھمز کو شفاف اور جوابدہ بنانے کے ساتھ سخت سائبر سیکیورٹی معیارات مرتب کیے جائیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ AI کو صرف منافع بخش بنانے کے بجائے اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے ترقی دی جائے تاکہ اس پر قابو رکھا جا سکے اور اسے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے درمیان باہمی تعاون لازمی ہے اور ایک بہترین لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا کیونکہ AI کے بے جا استعمال کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
حالیہ طور پر AI کا استعمال ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے کئی خطرناک حادثات پیش آ چکے ہیں۔ اسی لیے اس کے مؤثر اور بہتر استعمال کے لیے عالمی سطح پر ایک مضبوط ڈھانچہ بنانا ضروری ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی افتتاحی تقریر میں AI کی جمہوریت کاری (Democratization of AI) پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ AI کو چند خاص ممالک، اداروں یا کمپنیوں تک محدود رکھنے کے بجائے سب کے لیے، بالخصوص ترقی پذیر اور غریب ممالک کے لیے بھی قابلِ حصول بنایا جائے۔ انہوں نے "AI فار آل” کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے فائدے کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
روزگار پر AI کے اثرات AI کے بڑھتے استعمال سے روایتی ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں جس پر پوری دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم، جہاں کچھ روایتی نوکریاں ختم ہوں گی وہیں کئی نئی ملازمتیں بھی وجود میں آئیں گی۔ آٹومیشن کے باعث مختلف معیشتوں پر اس کے اثرات پڑنا یقینی ہے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ، بینکنگ اور کسٹمر سروس جیسے شعبے خود کار ہونے کے سبب متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، AI ڈیولپرز، ایتھیکل AI ایکسپرٹس، ڈیٹا سائنس دانوں اور سائبر سیکیورٹی پروفیشنلز جیسے نئے شعبے ابھر کر سامنے آئیں گے۔
کمپنیاں بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی کہ مزدوروں کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق تربیت دے کر روزگار فراہم کیا جا سکے۔
اب توقع کی جا رہی ہے کہ پیرس کانفرنس کے بعد اقوام متحدہ، یونیسکو اور دیگر عالمی ادارے AI کے ضابطے اور رہنما اصول طے کریں گے تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ کم ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ AI کی ترقی میں متوقع تبدیلیاں۔ AI کی اختراع اور تحقیق میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ مثال کے طور پر:
طبی میدان میں: AI پر مبنی علاج، بیماریوں کی تشخیص، روبوٹک سرجری اور انفرادی علاج کے نئے طریقے متعارف ہوں گے۔
تعلیم کے شعبے میں: AI سے چلنے والی اسمارٹ کلاس رومز، آن لائن ٹیوٹرنگ اور انفرادی تعلیمی مسائل کے حل کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
ماحولیاتی تحفظ میں: AI اسمارٹ انرجی مینجمنٹ کے ذریعے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اب اگلی AI کانفرنس بھارت میں منعقد ہونے جا رہی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت ٹیکنالوجی کے انقلاب میں ایک مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کانفرنس میں 60 سے زائد ممالک نے AI کے مستحکم اور ترقی یافتہ اعلامیے پر دستخط کیے لیکن امریکہ اور برطانیہ نے اس عمل سے دوری اختیار کی ہے۔
اے آئی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ایمانوئل میکروں کے ساتھ فرانسیسی صدارتی طیارے میں جنوبی فرانس کے یاسوئی تک سفر کیا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے جوہری توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا جس کے تحت ڈیزائن سے لے کر پیداوار تک کا مکمل عمل مشترکہ طور پر انجام دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں 10 اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسمارٹ ماڈیولر ری ایکٹرز اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی ترقی شامل ہے تاکہ انہیں دوسرے ممالک کو فروخت کیا جا سکے۔
مزید برآں، دونوں ممالک نے دفاع، خلائی حکمت عملی اور غیر فوجی جوہری اصلاحات میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا اور سہ فریقی ترقیاتی معاہدے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ پر بھی دستخط کیے۔ وزیراعظم مودی نے بھارت کے دفاعی نظام میں فرانس کے تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی کمپنی کے ذریعے بھارت کے "پیناک راک لانچر” کی تیاری، دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور بھارت کی مستقل رکنیت کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم مودی نے فرانسیسی کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ وہ ترقی کا اہم حصہ بنیں۔ اگر فرانسیسی کمپنیاں اس پر لبیک کہتی ہیں تو بھارت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔ اس موقع پر مودی اور میکروں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال شفافیت کے ساتھ کیا جائے اور اس کے فوائد امیر و غریب سبھی ممالک تک پہنچیں۔
فرانسیسی دورے کے بعد وزیراعظم مودی امریکہ پہنچے جہاں انہوں نے وہائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے مختلف امور پر بھارت کے موقف کو سنجیدگی سے سنا اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی منعقد ہوئی۔ امریکی صدر نے مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "بھارت کے ٹیرف کو کم کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے تجارتی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔” ٹرمپ نے بھارت میں زیادہ درآمدی محصولات (ٹیرف) پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شکایات دہرائیں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "مودی اور ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اختلافات کو پس پشت ڈال دیا اور تجارتی امور پر اتفاق رائے پیدا کیا۔”
اس کے باوجود، دونوں ممالک نے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 500 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عہد کیا۔ باہمی تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے، ٹیکس میں کمی اور بازاروں تک بہتر رسائی کے لیے ایک دو طرفہ تجارتی معاہدے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تاکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ یاد رہے کہ بھارت نے 2024 میں امریکہ کے ساتھ 130 ارب ڈالر کا تجارتی حجم حاصل کیا جس میں آئی ٹی پرزہ جات، سونا، ہیرا، اور کارما سمیت دیگر اشیاء کا قابلِ ذکر حصہ تھا۔
نیا دفاعی معاہدہ
اس دورے میں بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک نیا دفاعی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت امریکہ بھارت کو اپنی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ اس میں آواز سے بھی تیز رفتار 1930 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار رکھنے والا جنگی طیارہ ایف-35 شامل ہے۔ علاوہ ازیں، بھارت کی زمینی فوج کے لیے 500 سے زائد انفنٹری کمبٹ وہیکلز امریکی اسٹرائیکر بکتر بند گاڑیوں سے تبدیل کیے جائیں گے جبکہ بھارتی بحریہ کے لیے چھ پی-8 آئی جنگی طیارے فراہم کیے جائیں گے۔
اس دفاعی معاہدے کے پیچھے امریکہ کی حکمت عملی واضح ہے جو بھارت کو ایک مضبوط اتحادی بنانے اور چین کے خلاف طاقتور بلاک قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حکمت عملی کو COMPACT (Catalyzing Opportunities for Military Partnership, Accelerated Commerce & Technology) کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ تجارتی تعلقات کی مزید بہتری کے لیے ٹرمپ سال کے آخر تک بھارت کا دورہ کریں گے۔
اقتصادی اور سفارتی تعاون
تمام تر چیلنجوں کے باوجود، بھارت مٹیڈزو کاربن کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بننے جا رہا ہے جس سے امریکہ کو غیر معمولی تجارتی فائدہ پہنچے گا۔ دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تکنیکی معاونت کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم مودی نے ٹرمپ کے نعرے "میک امریکہ گریٹ اگین” (MAGA) کی طرز پر "میک انڈیا گریٹ اگین” (MIGA) کا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ MAGA اور MIGA مل کر MEGA (Mutual Economic Growth Agreement) میں تبدیل ہوتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو فروغ دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ "ہم طویل عرصے سے جاری تجارتی تفاوت کو دور کرنے کے لیے مؤثر مذاکرات کا آغاز کریں گے جن پر گزشتہ چار سالوں میں توجہ دی جانی چاہیے تھی۔”
وزیراعظم مودی نے اس دورے کے دوران امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی تارکین وطن کی بلا چوں و چرا ملک واپسی کو تسلیم کر لیا جس پر سفارتی ماہرین نے اسے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے سخت امیگریشن قوانین کے تحت بھارتی شہریوں کی بے دخلی کو قبول کرنا ایک کمزور سفارتی موقف سمجھا جا رہا ہے، جو طویل مدتی طور پر بھارت کے حق میں نہیں ہوگا۔

 

***

 وزیراعظم مودی نے اس دورے کے دوران امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی تارکین وطن کی بلا چوں و چرا ملک واپسی کو تسلیم کر لیا جس پر سفارتی ماہرین نے اسے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے سخت امیگریشن قوانین کے تحت بھارتی شہریوں کی بے دخلی کو قبول کرنا ایک کمزور سفارتی موقف سمجھا جا رہا ہے، جو طویل مدتی طور پر بھارت کے حق میں نہیں ہوگا۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 02 مارچ تا 08 مارچ 2025