
ماہِ رمضان کے بعد بھی جسم پر روح کی حکمرانی ہو
رمضان کے روزے، اس بڑے روزے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جو پوری زندگی پر محیط ہے
ڈاکٹر ساجد عباسی، حیدرآباد
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو چیزیں عطا فرمائی ہیں: جسم اور روح۔ روح کے اندر اخلاقی حس اور عقل و شعور ودیعت کیے گئے ہیں، جبکہ انسان کو ایسا برتر جسم دیا گیا ہے جس سے وہ اعلیٰ اعمال انجام دے سکتا ہے۔ دوسری طرف، حیوانات کو جسم و جان کے ساتھ محض جبلت عطا کی گئی ہے، جس کے تحت وہ مخصوص غذا، طرزِ زندگی اور نسل بڑھانے کے دائرے تک محدود رہتے ہیں۔ لیکن انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دیتے ہوئے فکر و عمل کی آزادی دی گئی اور زمین پر بے شمار نعمتوں سے نوازا گیا، جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال کر سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انسان کو زمین پر نعمتوں کے ساتھ اختیار دے دیا گیا تو وہ ان کا غلط استعمال کرے گا، جس سے زمین میں فساد برپا ہوگا اور خونریزی ہوگی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جو کچھ میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔” اسی حکمت کے تحت اللہ نے انسان کو آزمایشی دور سے گزارنے کا فیصلہ کیا۔
سوال یہ ہے کہ یہ امتحان کیوں؟ اس کا مقصد ان لوگوں کا انتخاب ہے جو اپنی عقل کو صحیح استعمال کرکے اللہ کی نشانیوں اور احسانات کو دیکھ کر، بغیر دیکھے اپنے رب کو پہچانیں، اس کی بندگی کریں اور اپنی خواہشات پر قابو رکھیں۔ وہی لوگ کامیاب ہیں جو خود کو اللہ کے حضور جواب دہ سمجھتے ہیں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے تحت یہ کائنات تخلیق کی اور انسان کو پیدا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى”
(النازعات: 40-41)
ترجمہ: "اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بری خواہشات سے روکا، اس کا ٹھکانا جنت ہے۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ حقیقی کامیابی جنت میں داخلہ ہے، چاہے دنیاوی زندگی آزمائشوں اور مصائب سے بھری ہو۔ اس کامیابی کے لیے انسان کو اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانا ہوگا اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی، تاکہ اس کا حیوانی وجود اس کے روحانی و اخلاقی شعور کے تابع رہے۔
اسی ضبطِ نفس کو پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کو فرض کیا ہے، اور یہی صفت "تقویٰ” کہلاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی عقل مند ایسی سواری پر نہیں بیٹھتا جس کی لگام اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ جب تک انسان جانوروں پر سوار ہوتا تھا، اس کی لگام اس کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن جدید دور میں بھی ہر سواری میں بریک لازمی ہوتا ہے، کیونکہ بغیر بریک کے گاڑی تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ انسان، جو لامحدود خواہشات اور بے شمار وسائل رکھتا ہے، اگر ضبطِ نفس کے بغیر رہے تو وہ اپنی زندگی کو حادثات سے کیسے بچا سکتا ہے؟ بدقسمتی سے، آج اکثر لوگ اپنی زندگی کی گاڑی بغیر بریک کے چلا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ظلم و ناانصافی، قتل و غارت، عصمت دری اور بین الاقوامی جنگوں جیسے اخلاقی حادثات پیش آ رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے روزوں کے ذریعے انسان میں ضبطِ نفس کی وہ طاقت پیدا کرنا چاہی ہے جو زندگی میں بریک کا کام کرتی ہے۔ جس طرح کوئی بھی سمجھدار شخص بغیر بریک کے گاڑی نہیں چلا سکتا، اسی طرح کوئی بھی انسان ضبطِ نفس کے بغیر کامیاب زندگی نہیں گزار سکتا۔ جو لوگ اللہ کے منکر ہیں، وہ درحقیقت اپنی خواہشات کی اندھی پیروی کرنا چاہتے ہیں، اور اسی کا نتیجہ معاشرتی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج انسانی معاشرہ ظلم، ناانصافی اور قتل و غارت سے بھرا ہوا ہے۔ اگر انسان اپنی خواہشات کو قابو میں نہ رکھے تو وہ خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور دوسروں کو بھی۔ جیسے ایک بے قابو گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا کر تباہی مچا دیتی ہے، ویسے ہی خواہشات کے بے لگام طوفان انسان کی اخلاقی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزے انسان میں ضبطِ نفس پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی خواہشات پر قابو پا کر حقیقی کامیابی حاصل کر سکے۔
خواہشاتِ نفس پر کنٹرول کیسے حاصل ہو؟ ایسا کنٹرول زندہ شعور و احساس سے پیدا ہوتا ہے کہ اللہ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ میں سب سے چھپ سکتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپ نہیں سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو میرے دل میں پیدا ہونے والے ارادوں اور نیتوں تک کو جانتا ہے۔ یہ احساس کہ ہر فرد اپنے اعمال کے لیے اللہ کے پاس جوابدہ ہے، یہی سب سے مؤثر بریک ہے جو انسان کی زندگی کی گاڑی کو اخلاقی حادثات سے بچا سکتا ہے۔
یہ سوال کہ کب اور کن برائیوں سے اپنے نفس کو روکا جائے، اس کی تفصیل کون دے سکتا ہے؟ انسان کے خالق سے بڑھ کر کون اخلاقی حدود کے بارے میں بتلا سکتا ہے جو انسان کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور اس کی فطرت کے ہر پہلو سے بخوبی واقف ہے؟ روزوں میں اللہ تعالیٰ نے دو بنیادی شہوات کا انتخاب کیا ہے: ایک ہے شہوتِ شکم اور دوسری ہے شہوتِ فرج۔ پہلی انسانی جسم کی بقا کے لیے ضروری ہے اور دوسری انسانی نسل کے تسلسل کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان شہوات کو بقدرِ ضرورت رکھا ہے۔ بھوک کی شدت رزق کی تلاش پر ابھارتی ہے جس کی بنا پر انسان محنت پر آمادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح شہوانی خواہش کی شدت کی بنا پر آدمی نکاح کر کے ایک خاندان کو بسانے کے لیے مشقت اختیار کرتا ہے۔
اگر انسان کو بھوک کا احساس نہ ہو تو وہ غذا کے لیے جستجو نہیں کرے گا اور ہلاک ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر انسان میں جنسی خواہش نہ رکھی جاتی تو وہ نکاح کر کے ایک خاندان کو آباد کرنے کی بھاری ذمہ داری قبول نہ کرتا۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں خواہشات کو انسان کی بنیادی ضروریات بنایا ہے، وہیں وہ چاہتا ہے کہ یہ خواہشات اخلاقی ضابطوں کی پابند بنائی جائیں۔ انسان بھوک مٹانے کے لیے اپنا پیٹ بھرے لیکن ناجائز طریقے سے مال نہ کمائے۔ چوری، رشوت، ڈکیتی، دھوکہ دہی اور ظلم کے ذریعے مال نہ کمائے بلکہ محنت اور حلال طریقوں سے روزی کمائے۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ جنسی خواہش کی تکمیل کرے لیکن نکاح کے حصار میں رہ کر۔
سوال یہ ہے کہ اتنی زوردار خواہشات پر قابو کیسے پایا جائے؟ گاڑی جس تیز رفتاری سے جا رہی ہو، اسی قدر زوردار بریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر مرد و عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں، غیر محرم مرد و خواتین خلوت میں ملاقاتوں سے پرہیز کریں تاکہ ناجائز تعلقات پیدا نہ ہوں، جن کے نتیجے میں شوہر اور بیوی کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے، ذہنی سکون برباد ہو جاتا ہے، شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور خاندان تباہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کو ضرورت سے زیادہ بھرنے کی نہ ختم ہونے والی حرص انسان کو ناجائز مال کمانے کی دوڑ میں اندھا بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشی جرائم کیے جاتے ہیں اور امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر بنتے چلے جاتے ہیں۔
تقویٰ کی صفت ہی انسان کو اخلاقی حدود میں رکھ سکتی ہے، جس کی بدولت انسان کی روح، جسم پر حکمران ہوتی ہے۔ ملک کی ترقی میں بھی تقویٰ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تقویٰ ذمے دار شہری پیدا کرتا ہے جو اپنی ضروریات کی تکمیل میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کرتے ہیں۔ وہ خود غرض نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ اسلام نے عبادات کا جو نظام بنایا ہے، اس کے ذریعے افراد کی ایسی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے جس سے بہترین انسان وجود میں آتے ہیں۔ نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے اور برے اور فحش کاموں سے روکتی ہے۔ روزہ انسان کے اندر ضبطِ نفس اور اخلاقی ڈسپلن پیدا کرتا ہے، جس سے وہ نفسانی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے۔ زکوٰۃ کا نظام معاشرے کے کمزور افراد کو اٹھانے اور انہیں خود کفیل بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ماہِ رمضان میں روزے کے ذریعے ایسی اخلاقی مشق کروائی جائے کہ ہر دن بارہ چودہ گھنٹے یہ احساس پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ روح کے جسم پر غلبے کی یہ تربیت انسان کے اندر ضبطِ نفس پیدا کرتی ہے، جو روزہ دار کو معاشرے کے لیے نافع اور خیر خواہ بناتی ہے۔ روزے کی مشق کسی بھی ملک کے لیے بہترین شہری پیدا کرتی ہے، جن کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔
ماہِ رمضان میں تقویٰ کی جو صفت پیدا ہوتی ہے، اسے گیارہ مہینے کیسے باقی رکھا جائے؟ روح کی جسم پر حکمرانی کی جو مشق کروائی گئی، اس کے اثرات رمضان کے بعد بھی کیسے باقی رہیں؟ اسلام چاہتا ہے کہ جس طرح ایک دن کا روزہ صبح سے شام تک رکھا جاتا ہے اور شام کو افطار کر کے مکمل کیا جاتا ہے، اسی طرح پوری زندگی کو بھی روزے کی طرح گزارا جائے اور آخرت میں اس طویل روزے کا افطار کیا جائے۔ آخرت کی افطار اتنی عظیم ہوگی کہ وہاں انسان کو وہ کچھ ملے گا جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
انسان کی زندگی محدود ہے، لیکن اس کی خواہشات لامحدود ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے کوئی نقصان اور غم لاحق نہ ہو، وہ بیمار نہ ہو، وہ بوڑھا نہ ہو، ہمیشہ جوان رہے اور اسے کبھی موت نہ آئے۔ کیا کسی ایک بھی انسان کی یہ لامحدود خواہشات اس دنیا میں پوری ہو سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں! یہ پوری ہو سکتی ہیں، لیکن اس جہاں میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد کی زندگی میں۔ اور صرف ان لوگوں کے لیے پوری ہو سکتی ہیں جو دنیا میں روزہ دار کی طرح زندگی گزاریں، قدم قدم پر اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے۔
رمضان کے روزے، اس بڑے روزے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جو پوری زندگی پر محیط ہے۔ یہ حقیقت اگر ذہن نشین رہے تو رمضان کے اختتام پر مسلمان رمضان کے اثرات کو باقی رکھ سکیں گے۔ عید کی نماز کے بعد بھی مسجدوں کی رونقیں باقی رہیں گی، نیکیوں کا موسم بعدِ رمضان بھی جاری رہے گا۔
رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قیام و صیام کے بدلے ہر روز ہمارے گناہوں کو معاف کیا اور نیکیوں کو بڑھایا۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو شبِ قدر کا ایسا تحفہ عطا فرمایا کہ جس نے اس ایک رات میں عبادت کی، اس کو 83 سال سے زیادہ عبادت کا ثواب ملا۔ اختتامِ رمضان پر اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے نجات دلا کر جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
کیا ہم اس استحقاق کو کھونا پسند کریں گے؟ کیا ہم اگلے رمضان کو پانے کی امید میں خواہشاتِ نفس کی خاطر تقویٰ کی روش سے دستبردار ہونا گوارا کریں گے؟ کیا ہمیں یقین ہے کہ اگلا رمضان ہمیں ملے گا؟ کیا پرہیزگاری صرف رمضان کے لیے مطلوب ہے؟ کیا رمضان میں ہم اللہ کے وفادار بندے ہیں اور رمضان کے بعد شیطان کی پیروی کریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ” (البقرہ: 175)
اللہ ہمیں رمضان کے بعد بھی تقویٰ کی روش پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین
***
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 مارچ تا 05 اپریل 2025