
’مبارات‘ کے ذریعے طلاق میں تحریری معاہدہ لازمی نہیں
گجرات ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ۔ مماثل مقدمات کے لیے ایک ’ نظیر‘
احمدآباد۔ (دعوت نیوز ڈیسک)
گجرات ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرآن مجید اور احادیث کے متعدد حوالوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ مبارات — یعنی باہمی رضامندی سے نکاح ختم کرنے کی شرعی صورت — کے لیے تحریری معاہدہ ضروری نہیں۔ عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لا اور رائج فقہی و عرفی طریقوں کے مطابق اگر میاں بیوی زبانی طور پر علیحدگی پر متفق ہو جائیں تو یہ نکاح فسخ معتبر اور نافذ العمل ہوگا۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید کہا کہ قرآن، حدیث یا مسلم پرسنل لا کی روایات میں کہیں بھی مبارات کے لیے تحریری دستاویز کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ اس کی اصل بنیاد باہمی رضا مندی ہے، اور جب یہ بات کھلے طور پر موجود ہو تو تحریری دستاویز نہ ہونے کے باوجود علیحدگی درست اور غیر قابلِ رجوع سمجھی جائے گی۔
یہ مقدمہ راجکوٹ فیملی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کیا گیا تھا جس میں عدالت نے مبارات کے دعوے کو اس بنا پر مسترد کر دیا تھا کہ اس کے لیے تحریری ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ گجرات ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس این ایس سنجے نے راجکوٹ کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مبارات زبانی باہمی رضا مندی سے بھی مکمل ہو سکتا ہے۔‘‘
عدالت نے کہا کہ مبارات طلاق سے مختلف ہے۔ طلاق عموماً شوہر کی جانب سے دی جاتی ہے اور قابلِ رجوع ہوتی ہے، لیکن مبارات میں جدائی دونوں فریقین کی خواہش پر ہوتی ہے اور ایک بار طے ہو جانے کے بعد یہ غیر قابلِ رجوع ہے۔ مبارات کا مطلب ہے ’’ایک دوسرے سے خلاصی پانا‘‘۔ اس میں جدائی کی پیشکش شوہر یا بیوی، دونوں میں سے کوئی بھی کرسکتا ہے اور دوسری طرف سے قبول ہو جانے پر نکاح منقطع ہو جاتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1937 کی دفعہ 2 میں مبارات کو واضح طور پر باہمی علیحدگی کی ایک جائز صورت قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مبارات خلع سے بھی مختلف ہے، کیونکہ خلع عورت کی طرف سے طلب کیا جاتا ہے جبکہ مبارات دونوں کی طرف سے باہمی طور پر کیا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں سورۂ نساء کی ان آیات کا حوالہ دیا جن میں میاں بیوی کے تعلقات میں صلح و جدائی کے اصول بیان ہوئے ہیں۔
سورۂ نساء آیت نمبر 128 میں فرمایا گیا:
’’اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بد سلوکی یا بے رُخی کا اندیشہ ہو تو دونوں کے درمیان صلح کر لینا کوئی مضائقہ نہیں، اور صلح بہرحال بہتر ہے۔‘‘
سورۂ نساء آیت نمبر 129 میں فرمایا گیا:
’’تم بیویوں کے درمیان مکمل عدل نہیں کر سکتے خواہ کتنی ہی کوشش کرو، لیکن اگر تم اصلاح کر لو اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
سورۂ نساء آیت نمبر 130 میں فرمایا گیا:
’’اور اگر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
عدالت نے نہ صرف مذکورہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا بلکہ ہدایت دی کہ فیملی کورٹ اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کرے اور تین ماہ کے اندر اندر کارروائی مکمل کرے۔ مزید یہ کہ عدالت نے ہدایت دی کہ آئندہ ایسے مقدمات میں فیملی کورٹ فریقین کے بیانات قلمبند کرے اور اگر کوئی معاہدہ (طلاق نامہ، خلع نامہ یا مبارات نامہ) موجود ہو تو اس کی اصل پیش کی جائے۔ اس کے بعد اطمینان ہونے پر عدالت نکاح کے فسخ کا حکم جاری کرے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ایسے مقدمات بار بار فیملی کورٹ میں رد کیے جا رہے تھے اس لیے آئندہ رہنمائی کے لیے یہ فیصلہ بطور نظیر (precedent) تسلیم کیا جائے۔
یہ فیصلہ بجا طور پر قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے نہ صرف ایک اہم فقہی نکتے کی درست تعبیر کی ہے بلکہ شریعتِ اسلامی کی اصل روح اور قرآن و سنت کے واضح اصولوں کو بھی قانونی سطح پر تسلیم کیا ہے۔ مبارات کا معاملہ محض رسمی یا تحریری دستاویزات کا محتاج نہیں، بلکہ اس کی بنیاد باہمی رضا مندی ہے، اور یہی حقیقت عدالت نے اپنے فیصلے میں نمایاں کر دی۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ عدالت نے قرآنِ حکیم کی براہِ راست آیات اور مسلم پرسنل لا کی روایات کا سہارا لے کر یہ اعلان کیا کہ نکاح و طلاق جیسے حساس معاملات میں اصل وزن نیت اور باہمی اتفاقِ رائے کا ہے، نہ کہ رسمی اور ثانوی کاغذی کارروائیوں کا؟ اس کے ذریعے عدالت نے ایک طرف شرعی اصولوں کی پاسداری کی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کے عائلی مسائل میں عدالتی شفافیت اور انصاف کی راہ ہموار کی ہے۔
یقیناً یہ فیصلہ نہ صرف مسلمانوں کے دینی و عائلی حقوق کے تحفظ میں ایک مثبت پیش رفت ہے بلکہ آئندہ ایسے مقدمات کے لیے بھی ایک واضح اور روشن نظیر (precedent) فراہم کرتا ہے۔
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025