
مبصر :ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی
گزشتہ چند سالوں میں ابھر کر سامنے آنے والے نئے تخلیق کاروں کی اگر بات کی جائے تو کئی سارے ناموں میں علیزے نجف کا نام سر فہرست نظر آتا ہے، ان کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں، ان میں سے ایک اہم وجہ ان کی زود نویسی ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ لکھنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بھی کافی متحرک و سرگرم رہتی ہیں اور اپنے خیالات کا بے باکی سے اظہار کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے یہاں پائے جانے والے موضوعات کا تنوع بھی ان کی شہرت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ قلمی دنیا میں نووارد ہوتے ہوئے بھی انہوں نے خود کو تھکنے نہیں دیا، انہوں نے اپنے مطالعہ اور لکھنے کی خداداد صلاحیت کو وسعت دیتے اور اسے بروئے کار لاتے ہوئے الگ الگ موضوعات پر تسلسل کے ساتھ لکھا اور خوب لکھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ علیزے نجف کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے جن موضوعات کو بھی چھیڑا اس کا حق ادا کردیا ۔ یہ ایک اچھے و ہمہ جہت تخلیق کار کی خوبی ہے کہ وہ خود کو کسی خاص موضوع تک باندھ کر نہیں رکھتا بلکہ حالات کے تقاضوں کے تحت وہ سبھی اہم پہلوؤں پر انہماک سے مطالعہ کرتا ہے اور پھر غور و فکر کے ذریعے نتائج اخذ کرتے ہوئے ایک اچھی تحریر کے ذریعے عوام و خواص کی رہنمائی کرتا ہے، مقصد ان میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مختلف موضوعات پر موجود تحریریں علیزے نجف کی ہمہ جہتی وہمہ گیری کی عکاسی کرتی ہیں۔ ملک و بیرن ممالک کے اخبارات و رسائل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ان کے مضامین تسلسل سے شائع ہو رہے ہیں۔
زیر نظر کتاب ’’کیا ہم زندہ ہیں؟‘‘ ان کی بہترین سوچ و فکر کی ترجمان ہے۔ یہ کتاب سیلف ہیلپ کے موضوع پر لکھی گئی ہے جس میں بنیادی انسانی نفسیات پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب مسلسل مقبولیت اور شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اس کتاب پر کئی بڑی ذی علم معزز شخصیتوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علیزے نجف کو داد و تحسین پیش کیا ہے۔
’’کیا ہم زندہ ہیں؟‘‘ کو دراصل نفسیاتی ادب پر لکھی گئی منفرد نوعیت کی تخلیق کہا جاسکتا ہے، مجھے امید ہے کہ اس کا مطالعہ اردو قارئین کے لیے ازحد مفید ثابت ہوگا۔ جیسے جیسے آپ کتاب کا مطالعہ کرتے جائیں گے مصنفہ کے ذوق اور ان کے مطالعہ کی وسعت، گہرائی اور گیرائی سے واقف ہوتے جائیں گے۔ میں نے انہیں بہت زیادہ تو نہیں پڑھا، لیکن اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی بار یہ احساس ہوا کہ انہیں پڑھتے رہنا چاہیے۔ تربیتی انحطاط و اخلاقی تنزلی اور مادیت پرستی کے اس عہد میں اگرچہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے بہت نام کمایا ہے، تہہِ زمین سے لے کر افق تک کمندیں ڈالتے ہوئے اس نے غیر معمولی دریافتیں بھی کی ہیں لیکن اپنی ذات کے اندر وہ بہت سی کشمکش شکار ہو گیا ہے، اس ذہنی انتشار نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر بے راہ روی، بدسلوکی، مایوسی اور ناکامیوں نے بھی انسان کو پریشان کیا ہوا ہے۔ اس میں ناخواندہ طبقے کے ساتھ پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے، علیزے نجف اپنی اس کتاب کے ذریعے انہی بنیادی مسائل پر گفتگو کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ان کا حل بھی بتا رہی ہیں جس کے ذریعے ایک پرسکون اور خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے، ایک طرح سے انہوں نے ’’کیا ہم زندہ ہیں؟‘‘ کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ خود پر کام کرنا کس قدر ضروری ہے اور ذہنی صحت کس طرح ہماری خوشیوں کو متاثر کرتی ہے۔
کتاب کا یہ اقتباس دیکھیں:
’’بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی بیماریاں سبھی کو نہیں ہوسکتیں، خاص طور سے ان لوگوں کو تو بالکل بھی نہیں ہوتیں جو تمام بنیادی وسائل اور آسائشوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔یہ صرف انہیں کو ہوتی ہیں جن کے حالات اچھے نہیں ہوتے یا جنہیں بچپن میں ٹراموں کے ساتھ جینا پڑا ہو۔غیر موافق حالات میں رہنے والے لوگ ہی اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑا جھوٹ ہے۔ ہر طبقے اور معاشرے کے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘‘
علیزے نجف نے مثبت سوچ و فکر کے ساتھ اپنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھنے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔خود کو پہچاننے اور خود پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں کی منفی انداز میں فکر کرنا یا بلیم گیم کھیلنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اس لیے انہوں نے خود شناسی اور خود آگہی پر زور دیا ہے۔ اس کتاب میں کئی اہم موضوعات پر بات گئی ہے، جن کا مطالعہ ہر طالب علم کو کرنے کا مشورہ دینا ایک مبصر کی ذمہ درای ہے۔ کیونکہ مصنفہ نے ’’کیا ہم زندہ ہیں؟‘‘ نامی کتاب سے زندگی کی اہمیت اور مثبت طرز فکر اختیار کرنے کا پیغام دیا ہے۔ کتاب میں شامل مضامین پر نظر ڈالیں تو ’’ناکامی کی ذمے داری‘‘، ‘‘سوچنا ایک آرٹ ہے‘‘، ’’مواقع کبھی ختم نہیں ہوتے‘‘, ’’فیصلہ سازی کی صلاحیت‘‘، ’’اوور تھنکنگ کے مضر اثرات‘‘، ’’ذہنی غربت ایک سنگین مسئلہ‘‘، ’’مقصد زندگی کا تعین‘‘، ’’روحانی ذہانت‘‘، ’’مثبت ذہنی رویہ‘‘،’’خوش رہنا سیکھنا پڑتا ہے‘‘ وغیرہ کافی اہم ہیں، اس کے علاوہ دوسرے مضامین بھی کافی دلچسپ اور کارآمد ہیں۔ کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز (سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی حیدرآباد) نے لکھا ہے جبکہ سائکیاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل کینیڈا نے بھی بہترین انداز میں کتاب سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، اس کے بیک کور و فلیپ کور پر نیورولوجسٹ ڈاکٹر شیخ عبید امریکہ، سائکیاٹرسٹ ڈاکٹر جویریہ سعید آسٹریلیا، جے۔ سی۔ بی۔ ایوارڈ یافتہ فکشن نگار خالد جاوید، معروف اوپینیئن لیڈر قاسم علی شاہ، نیوروکوڈنگ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ثنا یاسر وغیرہ نے اپنے اپنے زاویے سے کتاب میں شامل مضامین کا تجزیہ کرتے ہوئے بہترین خیالات پیش کیے ہیں اور مصنفہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
علیزے نجف نے ’’کیا ہم زندہ ہیں؟‘‘ کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ ’’یہ ایک ایسا سوال ہے جو کسی کو بھی سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ سامنے والا یہ سوچ بھی سکتا ہے کہ میں زندہ ہوں تبھی تو آپ کے سامنے ہوں۔اگر اس کے باوجود یہ سوال پوچھا جارہا ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی اہم وجہ ہوگی۔اس سوال کے جواب کی جستجو میں ہم خود سے متعارف ہونے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔جب ہم خود سے ملتے ہیں تو پھر خود پر کام کرنے کی اہمیت سے بھی واقف ہوتے ہیں۔خود پرکام کرنا ہی ہمارا اصل کام ہے کیونکہ اسے ہمارے سوا کوئی اور کرہی نہیں سکتا۔ خود سے محبت کرنا اور اس کی خوشی پر دھیان دینا بےشک ضروری ہے لیکن اسے خود پسندی میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے:کیونکہ پھر وہ نرگسیت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ایک نفسیاتی بیماری ہے، ماہرین اسے آج کے دور کا ’وبائی رویہ‘کہتے ہیں مغربی معاشرے کے ساتھ اب ہمارا معاشرہ بھی اس طرف تیزی سے جارہا ہے۔‘‘
’’عرض مصنفہ‘‘ میں علیزے نجف نے کئی مضامین کی وضاحت مختصر الفاظ میں بیان کردی ہے جس سے قاری اپنے پسند کا عنوان منتخب کرکے کتاب کے مطالعہ کا آغاز کرسکتا ہے،لیکن جیسے جیسے وہ آگے بڑھے گا مجھے یقین ہے کہ اس کی دلچسپی فزوں تر ہوتی چلی جائے گی اور وہ کتاب ختم کیے بغیر نہیں رک سکے گا، اس کتاب میں متعدد مضامین ایسے ہیں جو ہماری روزمرہ کی عام زندگی سے متعلق ہیں، ان کے بہت سے خیالات سے ہم اتفاق کیے بغیر نہیں رہ سکتے، مجھے پوری امید ہےکہ اس کتاب کو پڑھنے سے قاری کے علم و سمجھ میں اضافہ ہوگا، کتاب کی طباعت معیاری ہے، سرورق بھی دیدہ زیب ہے۔”کیا ہم زندہ ہیں؟” کی اشاعت کا اہل علم نے جس طرح سے خیر مقدم کیا ہے یہ مصنفہ کے لیے واقعی قابل رشک ہے۔ اس خوبصورت پیشکش کے لیے علیزے نجف کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک خواہشات۔
(مذکورہ کتاب کے مبصر دیگر کئی کتابوں کے مصنف ،مشہور صحافی، نائب مدیر روزنامہ انقلاب اور خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے جنرل سکریٹری ہیں)
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 مارچ تا 05 اپریل 2025