خطرہ کی گھنٹی جسےنظرانداز کرنے پر اترکاشی کا سانحہ پیش آیا

ماحولیاتی غفلت اور ترقی کے غلط ماڈل کا نتیجہ

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

366 دنوں میں 322 موسمی حادثات 2024 تاریخ کا سب سے گرم سال رہا
گلوبل وارمنگ کی خطرناک دوڑ: 2045 تک زمین دو ڈگری کی حد پار کر سکتی ہے
گلیشیئروں کے پگھلنے سے پیدا ہونے والی تباہی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹریس شدید فکرمند ہیں۔ ان کی تشویش کا سبب وہ سائنسی انتباہ ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس صدی کے آخر تک ہندوکش-ہمالیائی خطے کے 75 فیصد گلیشیئرز تباہ ہو سکتے ہیں۔ یہ گلیشیئرز جو سطح سمندر سے پانچ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہیں، تیزی سے غائب ہونے کے دہانے پر ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے دوران دنیا کے کئی پہاڑی گلیشیئرز مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2023 کے اواخر میں انتونیو گٹریس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کے قریب علاقوں کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ہمالیائی خطے میں گلیشیئروں کے تیزی سے پگھلنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا:
"چین اور بھارت کے درمیان واقع ہمالیائی گلیشیئرز پچھلی دہائی میں 65 فیصد زیادہ رفتار سے پگھلے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ "دنیا کو فوری طور پر حیاتیاتی ایندھن کا استعمال بند کرنا ہوگا۔ گلیشیئروں کے پگھلنے کا مطلب ہے سمندری سطح میں تیزی سے اضافہ اور انسانی آبادی پر بڑھتا ہوا عالمی خطرہ۔ اسی لیے میں دنیا کی چھت سے یہ انتباہ دے رہا ہوں۔”
آج ہمیں گلیشیئروں کے پگھلنے سے بننے والی جھیلوں سے سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے جو ہر سال بڑی تباہیوں کا باعث بنتی ہیں۔ 2013 کی کیدارناتھ میں تباہی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ فی الحال پورا اتر اکھنڈ ماحولیاتی تباہی کے لحاظ سے انتہائی حساس خطہ بن چکا ہے۔ یہ علاقہ ہر سال زیادہ بارش، سیلاب، زلزلے اور تودے گرنے جیسے خطرناک حادثات سے دوچار ہو رہا ہے۔
گلیشیئر جھیلیں اب پہاڑی علاقوں میں بڑے ماحولیاتی چیلنجز کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ اتر اکھنڈ میں اس وقت 266 سے زائد چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں جن میں سے 25 گلیشیئر جھیلیں خطرناک حد تک پھیل چکی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اثر گلیشیئرز کے سامنے موجود مورین (برفانی ملبے کی دیواریں) اور ان کے آس پاس جمع ہونے والا پانی نئی گلیشیئر جھیلیں پیدا کر رہا ہے، جبکہ موجودہ جھیلیں مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہیں۔
سائنس دانوں کی نگرانی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث یہ گلیشیئرز نہ صرف تیزی سے پگھل رہے ہیں بلکہ پیچھے ہٹ بھی رہے ہیں اور ان کے پیچھے چھوڑی گئی وادیوں میں گلیشیئرز کے لائے گئے ملبے سے بنی مورین کے سبب جھیلیں تشکیل پا رہی ہیں جو مسلسل خطرہ بن رہی ہیں۔ کیدار تال، بھیلنگنا اور گوری گنگا گلیشیئرز پہلے ہی بڑی تباہی مچا چکے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق گنگوتری گلیشیئر سمیت ریاست کے پانچ اضلاع — پتھورا گڑھ، چمولی، اترکاشی، باگیشور اور رودرپریاگ — کی 13 گلیشیئر جھیلیں بھی انتہائی خطرناک قرار دی گئی ہیں۔
گلوبل وارمنگ اور کلائمٹ چینج کے لیے ہمالیہ قصوروار نہیں ہے لیکن دنیا میں جس تیزی سے شہری کاری (Urbanization) اور توانائی کی بے تحاشا کھپت نے عالمی درجہ حرارت کو بڑھایا ہے اس کا سب سے بڑا اثر ہمالیہ پر ہی پڑ رہا ہے۔ اب مانسون ہمالیہ کے لیے خوشی نہیں بلکہ خوف لے کر آتا ہے۔ بارش وہاں کے لوگوں کے لیے زندگی کا خوف بن چکی ہے۔
اتراکھنڈ ایک اہم ریاست ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں میدانی علاقوں کا ترقیاتی ماڈل اپنایا جا رہا ہے جو اس خطے کے لیے نہایت غیر موزوں ہے۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اتر اکھنڈ میں حالیہ بادل پھٹنے کے سانحے نے 2023 کی ہماچل پردیش کی تباہی کی یاد تازہ کر دی ہے جب 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور نقصان کا تخمینہ تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ اترکاشی میں بھی ایسے ہی جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔
اب موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت (Global Warming) بے قابو ہو چکے ہیں۔ آئی پی سی سی (IPCC) نے ایک دہائی قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ سب سے پہلے اس کا اثر انٹارکٹیکا اور ہمالیہ جیسے حساس خطوں پر پڑے گا اور آج ہم وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
اگر ہم حالات کا تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں بھی فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے — چاہے وہ ہمالیہ ہو، کیرالا ہو یا چنئی — وہاں تباہ کن حادثات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ قدرت کا استحصال کرنے والے چاہے وہ عام لوگ ہوں یا پالیسی ساز، کسی کو بھی اس کے نتائج سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔
اگر ہم دھرالی کے حالیہ سانحے کا سائنسی زاویے سے جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ نہ تو محض شدید بارش کا نتیجہ تھا، نہ ہی یہ عام فلیش فلڈ جیسا تھا۔ یہ علاقہ جہاں سے دریائے گنگا بہتی ہے، صدیوں سے برفانی تودوں سے توانائی حاصل کرتا رہا ہے مگر ہم نے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو روک دیا ہے۔ ہم نے سائنسی سمجھ بوجھ کے بغیر ان کے کناروں پر بے قابو رہائشی بستیاں تعمیر کر دیں جو خود تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم سیٹلمنٹ میپنگ کریں، اور اگر کوئی امید کی کرن باقی ہے تو وہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم فطرت کے ساتھ بقائے باہم کا راستہ اختیار کریں۔ دھرالی، کیرالا، سکم — یہ تمام سانحات اسی کہانی کو دہرا رہے ہیں۔ دھرالی کی ٹریجڈی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی تک اموات کا درست اندازہ ممکن نہیں، کیونکہ متاثرین میں مقامی افراد بھی شامل ہیں اور سیاح بھی۔ ایک لمحے میں سب کچھ مٹ گیا۔
ڈاؤن ٹو ارتھ میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کو 2024 میں 366 دنوں میں سے 322 دن شدید موسمی حادثات کا سامنا رہا۔ سوال یہ ہے کہ اترکاشی جیسی ٹریجڈیاں اتنی بار اور اتنی شدت سے کیوں رونما ہو رہی ہیں؟
جن لوگوں نے اب تک اعداد و شمار پر غور نہیں کیا ان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 2024 انسانی تاریخ کا سب سے گرم سال رہا ہے۔ جیسے انسانی جسم کا درجہ حرارت محض دو ڈگری بڑھ جائے تو بخار ہو جاتا ہے ویسے ہی زمین کا درجہ حرارت بڑھنا بھی خطرناک اشارہ ہے۔
1850 کے بعد، یعنی صنعتی انقلاب کے آغاز سے زمین کا اوسط درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آئی پی سی سی (IPCC) کے مطابق ہم 2045 سے 2050 کے درمیان دو ڈگری سینٹی گریڈ کی عالمی حدت کو عبور کر سکتے ہیں جو ناقابلِ تلافی ماحولیاتی نقصانات کا پیش خیمہ ثابت ہو ہو سکتا ہے۔
عالمی رہنما گزشتہ 29 سال سے سالانہ COP میٹنگوں میں شرکت کرتے آ رہے ہیں جن کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے لیکن اس کے باوجود ہر سال کاربن اخراج میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ چین اور امریکہ کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ بھارت نے 2070 تک "نیٹ زیرو” کا ہدف مقرر کیا ہے جو حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسے گھر جلنے کے بعد فائر بریگیڈ بھیجی جائے۔ بدقسمتی سے ہم نے خطرے کی ہر گھنٹی کو مسلسل نظرانداز کرنے کی عادت بنا لی ہے۔
پانچ اگست کو بالائی دریائے بھاگیرتھی (گنگا) کی وادی، ضلع اترکاشی میں تین شدید موسمیاتی تباہیاں رونما ہوئیں۔ ان تباہیوں نے خوبصورت ہمالیائی شہر دھرالی، جو دریائے بھاگیرتھی کے کنارے گنگوتری کے قریب واقع ہے، مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ وادی کے نیچے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سیب کے باغات سے مشہور ہرشیل اور اس کے گردونواح کی آبادی بھی شدید متاثر ہوئی اور تقریباً برباد ہوگئی۔
سنٹرل واٹر کمیشن نے دن کے ایک بجے ایک مختصر رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ بادل پھٹنے کے باعث آنے والے اچانک سیلاب نے دھرالی کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مکانات، دکانیں اور بڑی تعداد میں مقامی افراد جو ایک میلے میں شریک تھے، اس سانحے کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس کے بعد سہ پہر تین بجے ہرشیل کی وادی میں دوسری تباہی آئی اور ساڑھے تین بجے ہرشیل کا ہیلی پیڈ مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا، جس کی وجہ سے ریلیف آپریشن میں شدید رکاوٹ پیش آئی۔ اس وقت وہاں سو سے زائد جوان امدادی کاموں میں مصروف تھے۔
نیوز میڈیا کے مطابق پچاس تا ساٹھ ڈگری کے زاویے پر بہنے والا سیلابی ملبہ دھرالی کے بازار کو کھنڈر میں تبدیل کر گیا۔ تقریباً 20 تا 25 ہوٹلیں، درجنوں مکانات اور قدیم و مقدس کیدارناتھ مندر بھی اس ملبے تلے دب گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ابتدائی طور پر پانچ اموات کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 60 تا 70 افراد لاپتہ ہیں، جن میں نو فوجی افسر بھی شامل ہیں۔
2012 میں مرکزی حکومت نے دریائے بھاگیرتھی کے گومکھ سے لے کر اترکاشی تک کے علاقے کو "ایکو سینسیٹیو زون” (BESZ) قرار دیا تھا۔ یہ ایک اہم اقدام تھا تاکہ اس خطے کی بنیادی حیاتیاتی حرکات کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم بعد میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس ضابطے میں نرمی برتی، حالانکہ متعدد ماحولیاتی ماہرین، سی سی، اور وزارتِ ماحولیات (MoEF&CC) کی مانیٹرنگ کمیٹی کے ارکان نے بارہا اس پر اعتراضات اٹھائے اور بی ای ایس زیڈ کے نوٹیفکیشن کو برقرار رکھنے کی سفارش کی۔ اس کے باوجود حکومت نے ان سفارشات کو نظرانداز کر دیا۔
یونین منسٹری آف روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز (شمالی زون) نے گرمیوں میں گنگوتری جانے والے سیاحوں کی ٹریفک کو سہل بنانے کے لیے نیشنل ہائی وے کو چوڑا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 2020 میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم ہائی پاورڈ کمیٹی (HPC) کے ایک رکن، جوئیل نے چار دھام منصوبے پر کام کرنے والی کمیٹی کے دیگر اراکین، بارڈر روڈ آرگنائزیشن (BRO) کے انجینئروں اور اتر اکھنڈ و مرکزی حکومت کے اعلیٰ افسروں کو متنبہ کیا تھا کہ اس طرح کی مداخلت سے پہاڑی تودے گرنے کی رفتار میں اضافہ ہوگا، کیونکہ عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کی ایچ پی سی کی حتمی رپورٹ میں واضح طور پر سفارش کی گئی تھی کہ حساس ڈھلوان والے علاقوں میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور وہاں موجود دیودار کے درختوں کو ہرگز نہ کاٹا جائے۔ اس کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ان سفارشات کو نظرانداز کرتے ہوئے چھ ہزار قیمتی دیودار کے درخت کاٹ ڈالے، حالانکہ یہی درخت پہاڑی ڈھلانوں کی مضبوطی اور توازن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔
ماونٹین ریسرچرز نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں اس ہمالیائی خطے کو نہایت حساس قرار دیا تھا اور وہاں خطرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد پر زور دیا تھا۔ ماہرین نے متنبہ کیا تھا کہ پیراگلائیڈنگ ریجن میں ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشنز (HEPs) تعمیر نہیں کیے جانے چاہئیں، نہ ہی انسانی رہائش یا ایسا انفراسٹرکچر بنایا جائے جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے۔ ان کا مشورہ تھا کہ 300 میٹر سلوپ ایریاز میں سڑکوں کی چوڑائی کم سے کم رکھی جائے اور سامان کی نقل و حمل کو محدود کیا جائے، ساتھ ہی ہمالیائی خطے کے شہروں اور قصبوں پر مسلسل تحقیق اور نگرانی جاری رکھی جائے۔
مگر بڑے سرکاری افسران نے ان تجاویز کو محض رسمی بیانات سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ 2013 کی کیدارناتھ ٹریجڈی، تاپوان-وشوگڑھ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے قریب زمین کا پھٹنا اور جوشی مٹھ میں عمارتوں کا تباہ ہونا، یہ سب اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔
ایک عرصے سے ملک کے شہری معاشی ترقی کی دوڑ میں پھنسے ہوئے ہیں، جو ہر فرد کا خواب بن چکی ہے۔ مگر ماحولیاتی تبدیلی ایک خطرے کی گھنٹی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اب ایک مضبوط، متوازن اور محفوظ ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا۔
پھر بھی، ہر کوئی یہی زور دیتا ہے کہ ترقی ضروری ہے۔ حکومتیں زیادہ جی ڈی پی گروتھ چاہتی ہیں، کارپوریٹ کمپنیاں زیادہ منافع اور عوام بڑے گھر اور تیز رفتار گاڑیاں۔ لیکن کوئی اس کی حدود طے کرنے کو تیار نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بغیر بریک کی گاڑی چلانا، اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بشکریہ: روی چوپڑا، ڈائریکٹر، پیوپلس سائنس انسٹیٹیوٹ، دہرہ دون۔(ماخذ: انڈین ایکسپریس، 8 اگست)

 

***

 سپریم کورٹ اور ماہرین کی جانب سے ہمالیہ کے نازک ماحولیاتی توازن کو بچانے کے انتباہات مسلسل نظرانداز کیے گئے، جس کے نتیجے میں ہمالیائی خطہ پہلے سے زیادہ حساس اور غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ بھارت، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک ہے، 2070 تک "نیٹ زیرو” کے ہدف کا اعلان کر چکا ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک یہ ایک تاخیر سے کیا گیا وعدہ ہے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025

hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |