خبرونظر

پرواز رحمانی

’’انڈیا‘‘ کیا ہے
اٹھارہ جولائی 2023 کا دن اس لحاظ سے تاریخی اور یادگار ہے کہ اس دن اپوزیشن پارٹیوں نے ایک بڑی میٹنگ کی اور باہم اتحاد قائم کیا اور اس اتحاد کا نام ’’انڈیا‘‘ رکھا۔ بس یہی غضب ہو گیا۔ اس نام پر حکمراں بی جے پی اس قدر چیخ و پکار کرنے لگی کہ دیگر تمام آوازیں دب کر رہ گئی ہیں۔ دراصل ’’انڈیا‘‘ ایک پورے نام کا مخفف ہے۔ پورا نام ہے ’’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوژیو الائنس‘‘۔ یہ نام سن کر بی جے پی کانپنے لگی، بدحواس ہوگئی اور اول فول بکنے لگی۔ اس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اپنا نیا نام یہی کیوں رکھا، کیا کوئی اور نام نہیں ہو سکتا تھا؟ وزیر اعظم سمیت بی جے پی لیڈر، مخالف لیڈروں کو مختلف قسم کی گالیاں دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے سنتے ہی کہا ’’نام سے کیا ہوتا ہے، انڈیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھی تھا، انڈین مجاہدین میں بھی ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا میں بھی ہے‘‘۔ اس بیان کے بعد بی جے پی کے سبھی چھوٹے بڑے لیڈر شور مچانے لگے۔ اس میں مجاہدین اور فرنٹ کے نام جوڑ کر پی ایم نے خاص حلقے میں کچھ زیادہ ہی جوش بھر دیا تھا۔ لوک سبھا میں ایک ممبر نے دستور ہند سے لفظ انڈیا ہی حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ انڈیا سے الرجی کی وجہ جو بھی ہو، واقعہ یہ ہے کہ اس لفظ نے پوری بی جے پی کو تلملا کر رکھ دیا ہے۔ سیاست میں نام اور اصطلاحیں وضع کرنے کی مہارت بی جے پی کے پاس تھی، مگر اس بار کانگریس نے اسے شکست دے دی اور ایسا کاری وار کیا کہ پارٹی کے چھکے چھوٹ گئے۔ بد حواسی کا عالم یہ ہے کہ اس کے لیڈر اول فول بکنے میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا بک رہے ہیں۔ اپوزیشن کا حملہ اس قدر زبردست ہے کہ حکمرانوں کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی ہے۔

حکمراں کیوں پریشان ہیں
اور کیوں نہ ہو۔ اپوزیشن کی مہم بھی کچھ کم نہیں ہے۔ انڈیا کا لفظ وہ بھی بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ کرکٹ میں وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کو ہرانا آسان نہیں، آج تک کوئی نہیں ہرا سکا۔ انڈیا ہی جیتے گا۔ یہ باتیں سن کر بی جے پی آگ بگولا ہو جاتی ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ ادھر منی پور کے مسئلہ میں بھی بی جے پی بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں حکومت پر عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی ہے۔ اس پر جلد ہی بحث ہونے والی ہے۔ حکومت کا سب سے مشہور اور کامیاب اقلیت مخالف حربہ ہے۔ اس بار بھی یہی ہوگا۔ دیکھنا ہے اپوزیشن میں کتنی قوت ہے۔ منی پور اور انڈیا پر حکومت کے لوگ عدالت عظمیٰ کو گالیاں بک رہے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ آر ایس ایس اور مودی کے مابین بھی دراڑ پڑ گئی ہے۔ مبصرین بتاتے ہیں کہ سنگھ چاہتا تو ہے کہ بی جے پی کامیاب ہو لیکن ضروری نہیں کہ مودی ہی وزیر اعظم رہیں۔ ادھر مودی نے برسر اقتدار رہنے کا پورا منصوبہ بنا رکھا ہے خواہ اس کے لیے سنگھ کو چھوڑنا پڑے۔ ایک بیان میں مودی کے تیسرے ٹرم کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان بھی کر دیا ہے جب انہوں نے کہا کہ وہ تیسرے ٹرم میں بھارت کو دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت بنا دیں گے۔ پچھلے دنوں سنگھ کے ترجمان آرگنائزر نے صاف لکھا کہ 2024 کے انتخابات مودی اور ان کی تصویر پر نہیں جیتے جاسکتے، اس کے لیے ریاستوں کی لیڈر شپ کو آگے لانا پڑے گا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ خود بی جے پی کے اندر سے مودی سے بیزار لوگوں کا ایک بڑا حلقہ پیدا ہوگیا ہے۔

آگے کیا ہوگا
کشتی سنگھ کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ، جسے اب ہٹا دیا گیا ہے۔ پہلوان لڑکیوں کے سلسلے میں اس کے پاس کچھ ایسے ثبوت ہیں جن کی بنیاد پر وہ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کو بلیک میل کرسکتا ہے۔ اسی لیے لیڈر اس کے خلاف کچھ بول نہیں رہے ہیں۔ اسی طرح مالدار اڈانی اور مودی کے درمیان لین دین کے کچھ معاملات ہیں جن پر مودی، اڈانی کے خلاف زبان نہیں کھول رہے ہیں۔ آزاد مبصرین کہتے ہیں کہ گزشتہ دس سال میں مودی اور ان کے قریبی ساتھیوں نے کئی قسم کے بڑے بڑے اسکینڈل کیے ہیں۔ یہ حقائق نیچے تک پہنچے ہیں، اس لیے آج مودی کے ساتھ صرف وہی لوگ ہیں جو ان اسکینڈلوں میں شامل ہیں یا جنہیں مذہبی اقلیتوں، دلت طبقوں اور پچھڑی ذاتوں سے ازلی دشمنی ہے۔ ورنہ پارٹی کی اکثریت، پارٹی اور سنگھ سے سخت بیزار ہے۔ اسی لیے مبصرین کہتے ہیں کہ 2024 کے الیکشن بی جے پی کے لیے جیتنا بہت مشکل ہے۔ اسی لیے مودی اور ان کے قریبی ساتھی سخت بوکھلائے ہوئے ہیں۔ اب اپوزیشن نے اپنے اتحاد کا نام ’’انڈیا‘‘ رکھ کر انہیں مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پہلے مودی اپنے آگے کسی کو گنتے نہیں تھے، مگر اب چھوٹے چھوٹے لیڈروں کو جوڑ رہے ہیں۔ انتخابی امتحان کا پہلا مرحلہ تو پانچ ریاستوں میں انتخابات کا ہے جن سے تصویر کسی حد تک صاف ہوجائے گی، پھر اپریل یا مئی میں لوک سبھا کے الیکشن کا دنگل ہے۔ جس کے بعد تصویر پوری طرح سامنے آجائے گی۔ پورے ملک کا نقشہ صاف ہو جائے گا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ کیا ملک کو اسی طرح چلایا جائے گا جس طرح چلایا جا رہا ہے یا کوئی بڑی مثبت تبدیلی ہونے والی ہے۔