روادار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر کو بھی قبول کر لیا جائے: جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ

نئی دہلی، اگست 7: جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ہفتہ کے روز کہا کہ دوسروں کی رائے کو قبول کرنے یا برداشت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کو بھی قبول کرنا چاہیے۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا ’’غلطیاں کرنا، دوسروں کی رائے کو قبول کرنا اور برداشت کرنا کسی بھی طرح اندھی مطابقت نہیں ہے۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کھڑے نہ ہوں۔‘‘

جسٹس چندر چوڑ نے یہ تبصرے گجرات نیشنل لاء یونیورسٹی میں کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔

اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے جج نے طلبا کو مشورہ دیا کہ نظریات کے سیاسی، سماجی اور اخلاقی تصادم کے بڑھتے ہوئے شور اور کنفیوژن کے درمیان انھیں اپنے ضمیر اور منصفانہ وجوہ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ’’طاقت سے سچ بولیں۔ ناقابل بیان معاشرتی ناانصافیوں کے مقابلہ میں اپنا حوصلہ برقرار رکھیں اور ان کے تدارک کے لیے اپنی خوش قسمتی اور استحقاق کا استعمال کریں۔‘‘

جسٹس چندر چوڑ نے طلبا سے یہ بھی کہا کہ انھیں قانون اور انصاف میں کنفیوژ نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا ’’آپ کے کیریئر کے کئی موڑ پر، آپ کو احساس ہوگا کہ جو قانونی ہے وہ شاید غیر منصفانہ ہے، جب کہ جو جائز ہے وہ ہمیشہ قانونی نہیں ہوسکتا ہے۔ آپ کو قانون اور انصاف کے درمیان فرق کی اہمیت کو یاد رکھنا چاہیے اور انصاف کو آگے بڑھانے کے لیے قانون پر تنقید کرنی چاہیے۔‘‘