جماعت اسلامی ہند نے یوپی اور دیگر ریاستوں میں مسلمانوں پر پولیس کے مظالم کی مذمت کی، حراستی تشدد اور مسلمانوں کے گھروں کی مسماری کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا

- الإعلانات -

نئی دہلی، جون 13: جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے جھارکھنڈ کے رانچی، اتر پردیش کے پریاگ راج اور ملک کے دیگر مقامات پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز تبصروں کے خلاف مسلمانوں کے مظاہروں پر پولیس اور انتظامیہ کی زبردستی کی شدید مذمت کی ہے۔ اور حراست میں تشدد، پولیس کی زیادتیوں اور مکانات کی مسماری پر غیر جانبدارانہ عدالتی کارروائی اور قصورواروں کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

امیرِ جماعت سید سعادت اللہ حسینی کی طرف سے پیر کو جاری کیے گئے ایک میڈیا بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’10 جون کو مسلمانوں کے جمہوری احتجاج کے سلسلے میں اتر پردیش اور جھارکھنڈ میں پولیس نے جو کچھ کیا ہے، وہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔’‘‘

انھوں نے مسلم کمیونٹی سے اپیل کی کہ ’’پرامن احتجاج کرنے کے اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے سماج دشمن عناصر اور جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے جال میں نہ آئیں۔‘‘

تازہ شمارہ

پریاگ راج میں سماجی اور سیاسی کارکن جاوید محمد کے گھر کو مسمار کیے جانے کے فوراً بعد جے آئی ایچ کے صدر نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’اس عمل کا کوئی مہذب معاشرہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا‘‘ اور یہ کہ ’’پولیس خود ہی کھلم کھلا قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’کسی کے گھر کو محض اس لیے گرانا کہ وہ حکومت کی ان پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، جنھیں وہ وسیع تر عوامی مفاد کے خلاف سمجھتا ہے، یا اپنی شکایت کے اظہار کے لیے احتجاج کرنے والے کو گولی مار دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل تصور ہے۔‘‘

امیرِ جماعت نے کہا ’’ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ملک کے لوگوں کو غلط پیغام دیتا ہے جس سے ان میں مزید بے چینی پیدا ہوتی ہے اور حکومت کی غیر جانبداری پر ان کا اعتماد کم ہوتا ہے۔‘‘

جناب حسینی نے کہا ’’اگر یوپی حکومت کو قانون کا کوئی احترام ہے تو اسے (جاوید محمد کے) نقصان کی تلافی کرنی چاہیے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘

انھوں نے رانچی میں پولیس کی فائرنگ کی آزادانہ عدالتی تحقیقات اور غلطی کرنے والے اہلکاروں کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

امیر جماعت نے کہا ’’اگر توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف بروقت اور مناسب کارروائی کی جاتی تو یہ ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہوتے۔ اور یہ بھی کہ اگر پتھر بازی کی جس طرح کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جیسا کہ دکھایا گیا ہے، تو واقعات کے اس پورے سلسلے میں کسی نہ کسی قسم کی سازش بھی نظر آتی ہے۔‘‘

انھوں نے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جے آئی ایچ نے محسوس کیا کہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں ایک معروف سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن جاوید محمد کے خلاف کی گئی کارروائی انتقامی سیاست کی مثال ہے۔

انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ جاوید اور ان کے اہل خانہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان میں سے کسی نے جمعہ (10 جون) کے احتجاج میں حصہ لیا تھا اور یہ بھی کہ گرایا گیا مکان بھی ان کی اہلیہ کا تھا، ان کا نہیں۔