
اسلام کو حکمت، بصیرت اور عملی اطلاق کے ساتھ پیش کریں: ڈاکٹر جاوید جمیل
’’اسلامی نظام ہی دنیا کے مسائل کا حل ہے‘‘۔ بنگلورو میں دعوتی ورکشاپ کا انعقاد
بنگلورو: (دعوت نیوز ڈیسک)
بہت جلد انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اسلامکس‘ کے قیام کا اعلان
ممتاز مفکر، مصنف اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر جاوید جمیل نے کہا ’’وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام کو پوری دنیا کے سامنے انسانیت کے لیے ہمہ گیر امن کے مکمل نظام کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ کام حکمت، فکری بصیرت، علمی جرأت اور عملی اطلاق کے ساتھ انجام دینا ہوگا‘‘۔ وہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کی جانب سے شفیع مسجد کمپلیکس میں منعقدہ دو روزہ دعوتی ورکشاپ سے کلیدی خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر جمیل نے زور دے کر کہا کہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے اہلِ علم کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کو ہدف تنقید بنائے بغیر علمی جارحیت کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر دنیا کے سامنے رکھیں۔ ان کے مطابق علماء کو رد عمل دینے کے بجائے پیش قدمی کرنی ہوگی اور موجودہ نظامِ فکر و فلسفہ پر بے لاگ تنقید کے ذریعے مسائل کے پس منظر میں کارفرما قوتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
اکانومک فنڈامنٹلزم کی تباہ کاریاں
ڈاکٹر جمیل نے اپنی معروف تھیوری اکانومک فنڈامنٹلزم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ قوتوں نے "انسانی کمزوریوں کو تجارتی مصنوعات” بنا کر انسانیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مذہب کو حاشیے پر ڈال دیا گیا، تخلیق کائنات کو لادینی تصورات کے سہارے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، سماج لا قانونیت، جنگوں اور معاشی نا ہمواری میں گِھر گیا۔ ان کے بقول آج کی جمہوریت دراصل کارپوریٹوکریسی میں بدل چکی ہے، یعنی "کارپوریٹ کی حکومت، کارپوریٹ کے ایجنٹوں کے ذریعے، کارپوریٹ کے لیے”۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی سیکولرزم اگرچہ تمام مذاہب کو اہمیت دیتا ہے مگر مغربی سیکولرزم کی اصل روح مذہب کی مکمل نفی ہے۔ ان کے مطابق جدید معاشی قوتیں مذہب دشمن اس لیے ہیں کہ خدا کا خوف ان کے کاروباری مفادات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
متبادل اسلامی نظام کی پیشکش
ڈاکٹر جمیل نے کہا کہ وقت کا اہم تقاضا ہے کہ اہلِ علم اسلام کے متبادل نظامات اور پروگرام دنیا کے سامنے پیش کریں، جن کی بنیاد ایک ہمہ گیر امن و سکون کے قیام پر ہو۔ ان کے بقول اصل معیار طریقوں کی خوبصورتی نہیں بلکہ نتائج کی خوبصورتی ہے جو نظام انسانیت میں صحت، امن، عدل اور مساوات پیدا کرے وہی حقیقی نظام ہے۔
انہوں نے اسلامی سیاسی نظام کو تھیو-میریٹو-ڈیموکریسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قانون الٰہی ہدایات کے مطابق ہو، صرف ایماندار اور بے داغ کردار کے حامل افراد کو انتخابات لڑنے کی اجازت ہو اور عوام بہترین افراد میں سے اپنے نمائندے منتخب کریں۔
اسلام کے جامع ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید دساتیر صرف بنیادی حقوق اور کبھی کبھار بنیادی فرائض کا ذکر کرتے ہیں، مگر اسلام تین جہتی نظام پیش کرتا ہے: بنیادی حقوق، بنیادی فرائض اور بنیادی ممانعتیں۔
مذہب اور سائنس پر تبصرہ
ڈاکٹر جمیل نے ان لادینی سائنسی فلسفوں کو ہدف تنقید بنایا جو کائنات کو خدا سے الگ کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا خالق و مالک اور قوانینِ فطرت کا نفاذ کرنے والا ہے اور اس کے بغیر کائنات کے منظم وجود کا تصور بھی ممکن نہیں۔
اسلام پر ہونے والے اعتراضات مثلاً عورت کا مقام، قصاص و سزائے موت اور جہاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سب کا جواب حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ جرأتمندانہ انداز میں دیا جانا چاہیے۔
"نہی عن المنکر” کی ہمہ گیر مہم
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں انہوں نے "اپلائیڈ اسلامکس” (Applied Islamics) کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دین کے اصولوں کا اطلاق زندگی کے تمام شعبوں—قانون، تعلیم، سماج، سیاست اور معیشت—میں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ "نہی عن المنکر” کی ایک ہمہ گیر مہم چلائی جائے، جس میں شراب، منشیات، سگریٹ نوشی، جوا، غیر فطری جنسی تعلقات اور دیگر مضر عادات کے خلاف منظم جدوجہد ہو۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ہر سال آٹھ سے دس کروڑ انسانی جانیں انہی ممنوعہ و مضر عادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ خاص طور پر اسقاط حمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض جنسی و شخصی آزادی کے نام پر سالانہ سات کروڑ سے زائد بچوں کا قتل کیا جانا انسانیت کی سب سے بڑی اور مسلسل تباہی ہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں انہوں نے کہا کہ پیغمبر حضرت محمد ﷺ اسلام کے بانی نہیں بلکہ آخری نبی اور خدا کے آخری رسول تھے۔ اسلام کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا تھا اور لفظ "اسلام” کا مطلب ہے "اللہ کے حضور مکمل سرِ تسلیم خم کر کے امن حاصل کرنا”۔ دنیا کے بڑے مذاہب اپنی اصل میں اسلام ہی کے ابتدائی ورژن تھے، البتہ زبان اور خطے کے فرق کی وجہ سے ان کی شکلیں مختلف رہیں۔
ڈاکٹر جمیل نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ جلد ہی انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اسلامکس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سعد بلگامی نے کی اور مسٹر محمد کنہی نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ ورکشاپ میں تقریباً دو سو نمائندگان شریک رہے۔
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025