انصاف کسی بھی جمہوریت پسند معاشرے کی بنیاد ہے۔ جس سماج میں انسانوں کے لیے انصاف نہ ہو ایسے سماج کو جمہوری کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انصاف کی اصل روح یہ ہے کہ وہ وقت پر ملے۔ لیکن ہمارے ملک کے عدالتی نظام کا المیہ یہ ہے کہ انصاف اکثر اتنی تاخیر سے ملتا ہے کہ وہ انصاف نہیں رہتا بلکہ ظلم بن جاتا ہے۔ ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے ملزم کمال احمد کی کہانی اس کی سب سے درد ناک مثال ہے۔ برسوں تک جیل میں قید رہنے کے بعد حراست ہی میں ان کی موت ہوگئی۔ آخر کار جب عدالت نے فیصلہ سنایا تو وہ تمام الزامات سے بری قرار دیے گئے، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ یہ فیصلہ ان کے لواحقین نے ان کی قبر پر جا کر سنایا۔ یہ منظر دراصل پورے نظام پر ایک فردِ جرم ہے; اس نظام پر جو ایک بے گناہ انسان کے قبر میں اترنے تک انتظار کرتا ہے اور اس کے بعد اس کی بے گناہی کا اعلان کرتا ہے۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ پورے ملک کے عدالتی نظام کے لیے ایک پریشان کن سوال ہے۔
کمال احمد کے کیس میں انصاف تاخیر کا شکار ہوا، اتنی تاخیر کہ وہ اپنی بے گناہی کا فیصلہ سننے کے لیے زندہ ہی نہ رہا۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ برسوں کس جرم کی سزا بھگتتا رہا؟ آج جب کہ عدالت نے اسے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے تو اب کون ان برسوں کی قید، ذلت اور بالآخر جیل میں موت کا حساب دے گا؟ تاخیر کے اس نظام نے نہ صرف ایک بے گناہ انسان کو در گور کر دیا ہے بلکہ اس کے وارثوں کو بھی ہمیشہ کے لیے ایک گہرا زخم دے گیا ہے۔ یہ تاخیر عدلیہ کی سست روی نہیں بلکہ انصاف کا قتل ہے اور ایسے فیصلے انصاف کے بجائے عدالتی نظام کی کمزوری و بے بسی کے شاہ کار ہیں۔
یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے۔ سی اے اے کا احتجاج اور دہلی فسادات کے بعد گرفتار کیے گئے کئی ملزمین بھی پچھلے پانچ برسوں سے بغیر کسی سنوائی کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ نہ چارج شیٹ فائل ہوتی ہے اور نہ مقدمے کا آغاز ہوتا ہے۔ جج ان کی ضمانت کی عرضی کو کسی سماعت کے بغیر ہی مسترد کر دیتے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ان میں سے کسی کے بھی ساتھ کمال احمد جیسا المیہ نہ پیش آئے۔ لیکن اگر انصاف کے فیصلے زندہ لوگوں کو سنانے کے بجائے ان کی قبروں پر سنائے جانے لگیں تو یہ انصاف نہیں انصاف کا مذاق ہے۔
ہمارے ملک میں عدالتی کارروائیوں کی تاخیر کا یہ مسئلہ انتہائی تشویشناک صورت اختیار کرچکا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عدلیہ خود اپنے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ میں تقریباً ستر ہزار، ہائی کورٹوں میں کم و بیش ساٹھ لاکھ اور ماتحت عدالتوں میں چار کروڑ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں۔ ہر دن نئی فائلیں کھلتی ہیں اور پرانے مقدموں پر دھول کی تہیں چڑھتی رہتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غریب اور بے سہارا لوگ برسوں جیل میں سڑتے رہتے ہیں جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ فوری ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ تاخیر کاغذات کے علاوہ لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں بربادی کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔
عدالتی تاخیر صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ کمال احمد کے گھر میں چھائی ہوئی خاموشی، دہلی فسادات کے ملزمین کے عزیزوں کی آنکھوں میں مایوسی و محرومی کے آثار اور ان کے رشتہ داروں و بیوی بچوں کی آہیں اور فریادیں چیخ چیخ کر ہم سے کہہ رہی ہیں کہ یہ محض مقدمے نہیں، ہزاروں خاندانوں و نسلوں کی تباہی و بربادی کی تاریخ کا ریکارڈ ہیں۔ کمال احمد کی والدہ نے برسوں بیٹے کے لیے دعائیں کیں، اس کی بیوی نے امید کے چراغ جلائے رکھے، مگر جب فیصلہ آیا تو وہ قبر میں جا چکا تھا۔ یہ منظر صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ ہر اس خاندان کا نوحہ ہے جس کے پیارے برسوں کی عدالتی تاخیر کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں۔
ہمیں اس پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم اپنے ملک میں جمہوریت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے عدالتی نظام میں اصلاحات ضروری و ناگزیر ہیں۔ یہ لازمی ہے کہ مقدمات کے فیصلوں کے لیے ایک مدت طے کی جائے۔ عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھائی جائے اور سماعت کے عمل کو تیز بنایا جائے۔ زیر التوا مقدمات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی عدالتی بنچیں قائم کی جائیں۔ ملزمین کو بغیر عدالتی کارروائی کے برسوں قید میں رکھنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی عدلیہ کو بھی سیاسی دباؤ اور تفتیشی کمزوریوں سے آزاد کیا جائے۔
کمال احمد کی قبر پر سنایا گیا یہ فیصلہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ عدالتی نظام واقعی اپنے شہریوں کو انصاف دینے کے قابل بھی ہے؟ تاخیر سے ملنے والا انصاف، انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔ اگر ہمارا ملک واقعی ایک زندہ جمہوریت ہے تو اسے اپنے عدالتی نظام میں نئی جان ڈالنا ہوگا تاکہ مقدمات جلد از جلد فیصل ہوں ورنہ مستقبل میں انصاف کے فیصلے قبرستانوں میں سنائے جانے لگیں گے اور زندہ انسانوں کا سماج ہمیشہ ان کے سامنے شرمسار رہے گا۔
اگلی اسٹوری