ہلدوانی میں پولیس کی سفاکانہ کارروائی قابل مذمت : امیر جماعت اسلامی ہند

جماعت اسلامی ہند اور جمیعت علماء ہند کے مشترکہ وفد کا دورہ ہلدوانی اور متعلقہ افسروں سے ملاقاتیں

نئی دلی (دعوت نیوز ڈیسک)

فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے جیسی تمام کوششوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے لیے ملت کے تمام افراد آگے آئیں
’’ پولیس حکام ہلدوانی میں منظم طریقے سے مسلمانوں کو ہراساں کررہے ہیں تاکہ سماج میں فرقہ وارانہ تفریق پیدا کرکے اپنے آقاؤں کے حقیر سیاسی مفادات کی تکمیل کا سامان کرسکیں۔‘‘ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے ہلدوانی میں پولیس کی سفاکانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلدوانی ریلوے اسٹیشن سے متصل اراضی پر مبینہ غیر مجاز قبضے کا تنازعہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، اس کے باوجود اچانک وہاں پر موجود ایک مدرسے کو منہدم کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ وہاں پر مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے خلاف پولیس نے جس طرح وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں5 مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں، یہ عمل انتہائی قابل مذمت ہے۔ پولیس کا یہ رویہ نہ صرف پولیس کے پیشہ وارانہ تقاضوں سے متصادم ہے بلکہ کسی بھی مہذب معاشرے کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ مبینہ طور پر اس موقع پر مشین گنوں کا استعمال کیا گیا اور سینکڑوں راؤنڈ اس طرح فائر کیے گئے گویا پولیس کسی دشمن فوج کا مقابلہ کر رہی ہو۔
امیر جماعت نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’متعدد ریاستی حکومتوں کی طرف سے حالیہ عرصے میں ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد مسلم عوام کو مشتعل کرنا اور ان کو تشدد پر آمادہ کرنا معلوم ہوتا ہے، چاہے وہ مساجد کی مسماری ہو، مسلم علما کی گرفتاری ہو، مسلم پرسنل لا میں بے جا مداخلت ہو، بلڈوزر ایکشن سے املاک کی تباہی ہو یا مسلمانوں کے خلاف ہیٹ کرائم کرنے والے مجرموں کی پشت پناہی ہو۔ ان تمام معاملات میں سخت قوانین کا، مسلمانوں کو ہدف بنا کر استعمال بالکل واضح اور نمایاں ہے۔ گویا مسلمانوں کو ہراساں اور دہشت زدہ کرنے کے لیے قانون کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ یہ خطرناک رجحان ہماری جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے تباہی کا باعث بنے گا‘‘۔
ہلدوانی میں صورت حال کو بہتر بنانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ ’’جب جنوری 2023 میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے اسی کیس میں یہ واضح حکم دیا تھا کہ ’راتوں رات 50 ہزار لوگوں کو اکھاڑ پھینکا نہیں جاسکتا۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے، کوئی قابل عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے‘ اس واضح حکم کے باوجود ضلع نینی تال انتظامیہ کی طرف سے یہ قابل مذمت کارروائی مکمل طور پر غیر ضروری، جانبدارانہ اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی سراسر خلاف ورزی ہے‘‘۔
امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’سول سوسائٹی اور جماعت اسلامی ہند کے قائدین کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ہلدوانی کا دورہ کیا اور ایک رپورٹ درج کرائی جس میں بے دخلی کے عمل کی پیروی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا گیا ہے‘‘
واضح رہے کہ ہلدوانی کے فرقہ وارانہ تشدد سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علما ہند کے ایک مشترکہ وفد نے پچھلے دنوں متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور وہاں کے حقائق معلوم کیے۔ اس وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر جناب ملک معتصم خاں، اسسٹنٹ سکریٹری لئیق احمد خان اور جمعیت علما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی شامل تھے۔ وفد نے ’ایس ڈی ایم‘ سے ملاقات کرکے وہاں کی صورت حال سے آگاہ کیا اور مسلمانوں کی من مانی گرفتاریوں اور ان کے نوجوانوں کو دھمکیاں دینے اور ہراساں کیے جانے پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس ملاقات کے دوران پولیس انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وفد نے اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو اس پر روک لگانی چاہیے اور اس پہلو پر خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ کوئی بھی اس واقعے کا سیاسی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ملاقات کے دوران وفد نے کہا کہ وہ متاثرین کو صبرو تحمل سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں، اب انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی کسی کو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دے۔ وفد نے ڈی ایم اور کمشنر سے ملاقات کرنے کی بھی کوشش کی۔ وفد نے ملاقات کے دوران ایس ڈی ایم سے درخواست کی کہ وہ متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دیں تو اس سے معاشرے میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور ان میں پایا جانے والا خوف و ہراس اور بے اطمیانی دور ہو گی۔ وفد نے پولیس پر حملہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا، ساتھ ہی اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ حملہ آوروں میں مسلم مخالف عناصر بھی ہوسکتے ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے یہ کام کیا ہو۔
امیر جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ انہدام کی مہم کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ریلوے حکام اور عوام کے درمیان بات چیت سے خوشگوار تصفیہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔ سپریم کورٹ کو انتظامی مشینری اور سیاسی قیادت کی جانب سے کیے جانے والے متعصبانہ اور جانب دارانہ سلوک کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے کے لیے ذمہ دار افسروں کی فوری معطلی اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔نیز، ملک کے عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس خطرناک رجحان کے خلاف آواز اٹھائیں اور فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے اور ہندوستانی سماج کے کسی بھی طبقے کو اس طرح ظلم کا نشانہ بنانے اور انہیں ہراساں کرنے کی تمام کوششوں کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے لئے آگے آئیں۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 18 فروری تا 24 فروری 2024