
دلی سے بہار تک ’’ووٹ چور گدی چھوڑ‘‘ جیسے نعروں کی گونج، راہل گاندھی کی ووٹ ادھیکار یاترا جاری
نائب صدر جمہوریہ کا انتخاب دو نظریات کی لڑائی، انڈیا بلاک کے امیدوار سدرشنن ریڈی کا بیان، جمہوریت دباؤ میں!
محمد ارشد ادیب
عباس انصاری کو ہائی کورٹ سے راحت، عمر انصاری جیل منتقل، مختار انصاری خاندان کو قانون پر پورا بھروسہ
فتح پور مقبرہ تنازعہ، مالکانہ حق کا مقدمہ، ہندو تنظیمیں مندر بتا کر فرقہ وارانہ رنگ دینے میں مصروف
اتراکھنڈ کے مدرسوں کا وجود خطرے میں، نیا قانون نافذ ہوتے ہی مدرسہ بورڈ کا خاتمہ!
راجستھان سے مہندر کمار نامی پاکستانی جاسوس گرفتار، مین اسٹریم میڈیا خاموش! ۔
بریلی میں تین بنگلہ دیشی خواتین گرفتار، جعلی دستاویزات بنانے پر مستقل کارروائی کا آغاز
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہنگامہ خیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا تاہم نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن پر سیاست جاری ہے دونوں امیدوار جنوبی ہند سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا سیاسی پس منظر بالکل مختلف ہے۔ انڈیا بلاک کے امیدوار بی کرشن ریڈی کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں کسی پر نجی حملہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ الیکشن کا وقار مجروح نہ ہو ان کے مطابق رادھا کرشنن اور میرے بیچ کوئی نجی لڑائی نہیں ہے یہ دو نظریات کی لڑائی ہے ہم کبھی ایک دوسرے سے ملے بھی نہیں ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں یہ چناؤ دو نظریات کے درمیان ہی رہے، انڈیا امیدوار رادھا کرشنن آر ایس ایس کے رکن رہے ہیں میں ان سے نہیں بلکہ اس نظریے سے اتفاق نہیں رکھتا جس سے وہ جڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت دباؤ میں ہے۔ واضح رہے وزیر داخلہ امت شاہ نے سلوہ جوڈم سے متعلق کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سدرشن ریڈی وہی ہیں جنہوں نے بائیں بازو کی انتہا پسندی اور نکسلواد کی حمایت والا فیصلہ دیا تھا۔کرشن ریڈی نے اس کی تردید کی ہے۔
’’ووٹ چور گدی چھوڑ‘‘ انتخاباتی فہرستوں میں گڑبڑی کا معاملہ پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے لیکن اس بار پارلیمانی اجلاس کے آخری دن اپوزیشن اس قدر حملہ آور ہو گئی کہ اس نے وزیراعظم کے سامنے ہی ووٹ چوری گدی چھوڑ کا نعرہ بلند کر دیا وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے بھی تڑی پار واپس جاؤ کے نعرے لگائے گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق شمالی بھارت میں ہوا کا رخ بدل رہا ہے خاص طور پر بہار میں ایس آئی آر کے دوران ووٹ کٹنے سے عوام میں بھاری ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی ووٹ ادھیکار یاترا میں بھی یہی نعرے گونج رہے ہیں انہیں عوام کی زبردست حمایت مل رہی ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر میں آدھار کارڈ دستاویز کے طور پر قبول کرنے کی واضح ہدایت دی ہے سیاسی پارٹیوں کو حذف شدہ ناموں کو فہرستوں میں دوبارہ شامل کرانے میں متحرک کردار ادا کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔اپوزیشن کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
راہل گاندھی کی امارت شرعیہ بہار میں حاضری
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ مونگیر میں واقع خانقاہ رحمانیہ کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے اپوزیشن کے دیگر لیڈروں کے ساتھ امیر شریعت مولانا فیصل ولی رحمانی سے بھی ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ایس آئی آر کے ساتھ دستور کے تحفظ پر گفتگو ہوئی۔ یاد رہے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے 40 برس پہلے 1985 میں اس خانقاہ کا دورہ کیا تھا تاہم جے ڈی یو اور بی جے پی اس معاملے میں ہندو مسلم پولرائیزیشن کا کارڈ کھیل سکتی ہیں۔
سنبھل شاہی مسجد مقدمہ
سپریم کورٹ نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد معاملے میں فی الحال جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عبادت گاہ تحفظ سے متعلق سے 1991 کا قانون مسجد کے خلاف ہندو فریق کے مقدمے میں مانع نہیں ہے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت عظمی میں اپنے دلائل پیش کیے جس پر ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ سنبھل کی مسجد آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ محفوظ یادگار ہے اس لیے یہ اس ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر ہے انہوں نے اس سلسلے میں عدالت کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے کی کاپی اگلی سماعت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں گیان واپی مسجد بنارس اور متھرا کی شاہی عید گاہ سمیت ملی تنظیموں کی کئی درخواستیں زیر التوا ہیں سب کی نگاہیں اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔
مختار انصاری خاندان کی آزمائش
مئو صدر اسمبلی کے رکن عباس انصاری کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے راحت مل گئی ہے، کورٹ نے ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں ملی دو سال کی سزا کو معطل کر دیا ہے اس فیصلے کے بعد عباس انصاری کی اسمبلی رکنیت بحال ہونے کی پوری امید ہے۔ عباس فی الحال ضمانت پر جیل سے باہر ہیں تاہم ان کے چھوٹے بھائی عمر انصاری کو غازی پور جیل سے کاسگنج منتقل کر دیا گیا ہے۔ عمر انصاری پر اپنی موروثی جائیداد کو چھڑانے کے لیے اپنی ماں کے فرضی دستخط بنانے کا الزام ہے۔ مختار انصاری کی بیوہ افشاں انصاری پر گینگسٹر ایکٹ لگی ہوئی ہے اور کورٹ سے انہیں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ عمر انصاری مئو سیٹ سے امیدواری کی تیاری کر رہے تھے جو ان کے بھائی کو سزا ملنے کے بعد نااہل قرار دیے جانے سے خالی ہوئی تھی تاہم عباس انصاری کی رکنیت بحال ہونے سے یہ داؤ خالی چلا گیا۔ ذرائع کے مطابق عمر انصاری نے اپنے والد کی جیل میں مشتبہ موت کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دی ہے عمر انصاری کے چچا اور غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کے مطابق اسی عرضی کے سبب عمر انصاری اپنے سیاسی حریفوں کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں۔ تاہم، ان کے خاندان کو قانون پر پورا بھروسہ ہے۔ یاد رہے کہ انصاری خاندان کے علاوہ رام پور کے اعظم خان کا خاندان اور سنبھل کی برق فیملی بھی سیاسی حریفوں کے نشانے پر ہے۔ اس سے پہلے الٰہ آباد کے عتیق احمد اور سیوان کے سابق رکن پارلیمان شہاب الدین کا سیاسی انجام سب کے سامنے ہے۔ ملی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اپنے دم پر الیکشن جیتنے والے مسلم خاندانوں کو منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ سیاسی ایوانوں سے مسلم نمائندگی کو کم کیا جا سکے۔
فتح پور مقبرہ معاملہ
یو پی کے فتح پور میں واقع نواب عبدالصمد خان مقبرہ معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ مقبرے سے متصل زمین کے دعویدار وجے پر تاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں مقبرے سے کوئی مطلب نہیں ہے مقبرہ سے متصل زمین پر ان کے مالکین حق کا مقدمہ سِول عدالت میں چل رہا ہے۔ وجے پرتاب کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے شکنتلا مان سنگھ سے یہ زمین 1970 میں خریدی تھی جس کا بیع نامہ ان کے پاس موجود ہے۔ ان کے مطابق 2007 میں زمین پر تنازعہ شروع ہوا اور 2012 میں وقف بورڈ میں اس کا اندراج ہو گیا جس کے خلاف سِول عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہندو تنظیموں نے مقبرے کو مندر بتاتے ہوئے پچھلے دنوں قبضے کی ناکام کوشش کی تھی جن کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملے میں اتر پردیش وقف بورڈ کی خاموشی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ سرکاری دستاویزوں میں گاٹا نمبر 753 منگی مقبرو کے نام پر درج ہے محمد انیس اس کے متولی ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے مقبرے کی مرمت کروا دی ہے اور حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ میں اسے پولیس کی ناکامی اور انتظامیہ کی چوک تسلیم کیا گیا ہے۔
اتر اکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کا معاملہ
کابینہ نے اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق ایک نئے قانون کو منظوری دی ہے۔ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد مدرسہ تعلیمی بورڈ ایکٹ 2016 ختم ہو جائے گا۔ سرکار اسے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے مقصد سے اٹھایا گیا قدم قرار دے رہی ہے جبکہ مسلم تنظیمیں اسے مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر عمران مسعود نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کے علاوہ اتر اکھنڈ کے وزیر اعلی کے پاس کام ہی کیا بچا ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلی ہریش راوت نے کہا کہ مدرسوں کی اپنی تاریخ ہے جس کی جڑیں آزادی سے جڑی ہوئی ہیں۔ بی جے پی مدرسوں کے معاملے میں تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جمیعت علماء ہند نے اسے دستور مخالف قرار دیتے ہوئے اقلیتی حقوق کے خلاف ورزی بتایا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت 452 مدرسے کام کر رہے ہیں جو نیا قانون نافذ ہونے کے بعد 2026 میں ختم ہو سکتے ہیں۔ اتر اکھنڈ حکومت اس سے پہلے درجنوں مدرسوں کو سیل کر کے بند کرا چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق ریاستی حکومت اقلیتوں کی پہچان اور شناخت سے جڑی چیزوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ریاست کو مکمل طور پر ایک خاص مذہب کے رنگ میں رنگا جا سکے۔
راجستھان میں دلت پچھڑے طبقات کے ساتھ ناانصافی
بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں ریزرویشن پالیسی کی خلاف ورزی کی شکایتیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اتر پردیش میں 69 ہزار تک اساتذہ کی بحالی میں دیگر پسماندہ طبقات کو نظر انداز کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ ان امیدواروں نے لکھنؤ میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے طاقت کے استعمال سے انہیں روک دیا ہے۔ تازہ معاملہ راجستھان کا ہے جہاں آئی اے ایس اہلیتی امتحان میں 14 امیدوار اہل پائے گئے لیکن سلیکشن صرف چار امیدواروں کا ہوا جن کا تعلق جنرل زمرے سے ہے۔ اشوک کمار پانڈے نے ایکس پر یہ خبر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا اہلیت کی بات تو بہت ہوتی ہے لیکن ذات پات کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ہمارے سماج میں چھپائے نہیں چھپتی۔
راجستھان سے مہندر کمار نامی پاکستانی جاسوس گرفتار
راجستھان کے ضلع جیسلمیر سے مہندر کمار نام کے ایک جاسوس کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن سندور کے دوران یہ جاسوس پاکستانی خفیہ ایجنسی کو اہم معلومات فراہم کر رہا تھا۔ ملزم ڈی آر ڈیو کے گیسٹ ہاؤس میں مینیجر تھا اور اس کے پاس اہم سائنس دانوں کی آمد و رفت کی جانکاری رہتی تھی۔ جانچ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے مالی لین دین کے ثبوت ملے ہیں۔ واضح رہے کہ آپریشن سندور سے پہلے پہلگام کے دوران مسلمان کشمیریوں کو کیٹگری میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مہندر کی گرفتاری پر قومی میڈیا خاموش ہے۔
بریلی سے تین خواتین بنگلہ دیشی شہری ہونے کے الزام میں گرفتار
بریلی میں پولیس نے تین خواتین کو بنگلہ دیشی ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تینوں سگی بہنیں ہیں۔ سب سے بڑی منارہ بی پر الزام ہے کہ وہ 1972 میں در اندازی کر کے بھارت آئی اور یاسین نام کے شخص سے شادی کر کے بریلی کے پریم نگر تھانے علاقے میں رہ رہی تھی، ملزمہ نے فرضی دستاویزوں کی بنیاد پر دو پاسپورٹ بھی بنوا لیے اور کئی غیر ملکی سفر کیے پولیس پوچھ تاچھ میں منارہ بی نے بتایا کہ وہ صفائی ملازمہ کے طور پر ملک سے باہر گئی تھی اس کی دونوں بہنیں حافظ گنج تھانہ علاقے میں شادی کے بعد مقیم ہو گئیں۔ ایس پی سٹی بریلی کے مطابق تینوں بہنوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی مزید چھان بین چل رہی ہے۔ فرضی دستاویز میں مدد کرنے والوں کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔ اتر پردیش پولیس فرضی آدھار کارڈ و دیگر دستاویز بنانے والوں کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے۔ اس سلسلے میں سہارن پور سے بھی دو ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025