’ایک سال تین ماہ اور 40 میں سے صرف 2 گواہوں کی پیشی‘

2020 میں ہوئے  دہلی فسادمعاملے میں ملزم  شاہ رخ پٹھان نے دہلی ہائی کورٹ سے ٹرائل میں ہو رہی تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے  ضمانت کا مطالبہ کیا

نئی دہلی،20فروری:۔

ملک کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کس رفتار سے ہوتی ہے یہ ملک بھر کی عدالتوں میں برسو ں سے زیر التوا مقدمات کی تعداد سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔انہیں سست رفتار معاملوں میں 2020 میں ہوئے دہلی میں فساد معاملے میں گرفتار ملزم شاہ رخ کے معاملہ بھی شامل ہو گیا ہے ۔اس کیس کی سماعت جس رفتار سے چل رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرائل کو شروع ہوئے ایک سال تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر چالیس  گواہوں میں سے محض دو گواہ کی اب تک پیش کیا جا سکتا ہے ۔ٹرائل میں ہو رہی تاخیر کو دیکھتے ہوئے شاہ رخ پٹھان نے دہلی ہائی  کورٹ میں اپنی ضمانت کی عرضی داخل کی ہے ۔ جس میں ا س نے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست کی ہے۔  شاہ رخ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت انتہائی سست رفتار  سے جاری ہے۔ اگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے۔ اس لیے اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ شاہ رخ پر الزام ہے کہ اس نے فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ایک ہیڈ کانسٹیبل کی طرف پستول سے نشانہ سادھا تھا ۔ اس نے ضمانت کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا اور دعویٰ کیا کہ مقدمے کی سماعت میں کافی تاخیر ہوئی ہے۔ ملزم شاہ رخ پٹھان نے کہا کہ گزشتہ ایک سال اور تین مہینوں میں کیس کے 40 گواہوں میں سے صرف دو سے جرح ہوئی ہے۔

Shahrukh Pathan accused

جسٹس دنیش کمار شرما کے سامنے دلائل رکھے گئے۔ انہوں نے معاملے کی مزید سماعت 2 مئی کو مقرر کی اور پولیس اور پٹھان کے وکلاء سے کہا کہ وہ اپنے دلائل تحریری طور پر پیش کریں۔ پٹھان کے وکیل اخترنے سماعت کے دوران دلیل دی کہ کیس میں دسمبر 2021 میں الزامات عائد کیے گئے تھے، لیکن اب تک استغاثہ کے صرف دو گواہوں سے جرح ہوئی ہے۔ وکیل نے کہا کہ اس نے جنوری 2022 میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی اور یہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے۔

اختر نے مزید کہا کہ پٹھان پر حال ہی میں جیل میں حملہ کیا گیا تھا اور ہائی کورٹ نے انہیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا تھا جہاں سیکورٹی اور دیگر راحت کے لیے ان کی درخواست زیر التوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضمانت کی درخواست 14 ماہ سے زیر التوا ہے ۔

واضح رہے کہ دہلی پولیس نے مارچ 2022 میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم کا خاندانی پس منظر مجرمانہ ہے۔ وہ گواہوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ پٹھان کو 3 مارچ 2020 کو اتر پردیش کے شاملی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت یہاں جیل میں بند ہے۔ ان کے وکلاء نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے کچھ اور مقدمات کا حوالہ دیا جن میں ملزمان کو مقدمے کی سماعت کے دوران ضمانت دی گئی تھی۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ سپریم کورٹ کا بھی ماننا ہے کہ ملزم کو غیر ضروری طور پر جیل میں رکھنا درست نہیں ہے۔ لکھیم پور کیس کے اہم ملزم آشیش مشرا کو اسی بنیاد پر ضمانت دی گئی۔