دلی کی نئی وزیراعلیٰ؛ متنازعہ نفرتی ٹویٹوں کو ڈیلیٹ کرنا پڑا

یو پی اسمبلی میں اردو پر تنازعہ، سماج وادی پارٹی اور دیگر برادران وطن، اردو کی حمایت میں

0

محمد ارشد ادیب

سنگم کے آلودہ پانی پر مرکزی اور یو پی آلودگی بورڈ کی رپورٹ میں تضاد،این جی ٹی میں ہوگا فیصلہ
مدھیہ پردیش میں بلڈوزر نا انصافی کے بعد باعزت بری شفیق انصاری
جموں و کشمیر اور یوپی مغرب میں نشہ مخالف مہم۔مہاکمبھ کے رنگ تنازعوں کے سنگ
قومی دارالحکومت دلی کے اسمبلی انتخابات کی کامیابی سے بی جے پی کی مرکزی قیادت بے حد خوش ہے، وزیراعظم نریندر مودی سمیت پارٹی کے بڑے لیڈر جیت کے بعد اپنے بیانات میں اس خوشی کا اظہار کر چکے ہیں۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس بھی اس بات سے مطمئن ہے کہ چلو اچھا ہوا دلی سے عام آدمی پارٹی کا صفایا ہو گیا۔ دیر سویر پنجاب میں بھی اس کی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس مل جائے گی۔ تاہم، انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتیں یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ اگر انڈیا بلاک کی حلیف جماعتیں اسی طرح ایک دوسرے کو نیچا دکھاتی رہیں تو گٹھ بندھن کا کیا ہوگا؟جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دلی کے نتائج آنے کے بعد اپنے ایک طنزیہ ٹویٹ میں اس کا اظہار بھی کر دیا۔ دلی میں وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتائج ہی کچھ ایسے تھے کہ ہنسنا تھا یا رونا تھا سمجھ نہیں آیا، اور رونا میں پسند نہیں کرتا۔دراصل انڈیا بلاک ان دنوں عجیب مخمصے میں مبتلا ہے اس کی حلیف جماعتوں کو نہ ہی ہنستے بن رہا ہے اور نہ ہی روتے!
دہلی کی وزیراعلیٰ کو متنازعہ ٹویٹس ڈلیٹ کرنے پڑے
دلی میں بی جے پی کی مرکزی قیادت نے جیت کے بعد گیارہ دنوں تک صلاح و مشورہ کیا اس کے بعد ریکھا گپتا کو دلی کی نویں وزیر اعلیٰ کا تاج پہنایا گیا۔ ریکھا گپتا کہ حلف لیتے ہی ان کے متنازع ٹویٹ اور نفرتی بیانات سوشل میڈیا میں وائرل ہونے لگے۔ ریکھا گپتانے ان کی تردید کرنے کے بجائے متنازعہ ٹویٹ کو ڈلیٹ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر لوگ مزے لے رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ نریش مینا نے ایکس پر لکھا” مودی جی کو گالیاں دینے والے ہی کیوں پسند آتے ہیں؟ دلی سرکار میں وزیر بنانے کے لیے” بھوجپوری فنکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے طنز کیا کہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ دلی کی جنتا کو مبارک باد دوں یا ہمدردی جتاوں؟ منیش سنگھ نے ایکس پر لکھا ریکھا گپتا کے پرانے ٹویٹ لگا کر بی جے پی والوں کو شرمندہ نہ کریں وہاں تو زوال ہی عروج کا راستہ ہے۔ ریکھا گپتا کی کابینہ میں وزیر بنائے گئے دیگر ارکان پر بھی خوب چٹکلے بن رہے ہیں۔ بہرحال دلی میں 27 سال بعد بی جے پی کی دھماکے دار واپسی ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ بی جے پی خواتین کی مخالف ہے۔ریکھا گپتا نے خاتون وزیراعلی کے طور پر بی جے پی وزرائے اعلی کے خالی خانے کو پر کر دیا ہے۔ بھلے ہی کچھ لوگ اسے خانہ پری سے تعبیر کر رہے ہوں۔
یو پی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اردو پر تنازعہ
اتر پردیش میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اس کی جھلک دیکھنے اس وقت دیکھنے کو ملی جب یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ایوان میں کارروائی کے دوران اردو کے نام پر اس قدر بر افروختہ ہو گئے کہ انہوں نے اردو کو مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے اپوزیشن پر مولوی اور کٹھ ملا بنانے کا الزام لگا دیا۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاب گڑھی نے ایکس ہینڈل پر اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا "جس زبان نے انقلاب زندہ باد اور جے ہند کا نعرہ دیا ،محبت اور بغاوت کے گیت گائے گئے آج یو پی کے سی ایم اسی زبان کو کٹھ ملا کی زبان کہہ رہے ہیں۔ انہیں کوئی بتائے کہ اردو کٹھ ملا کی نہیں بلکہ آنند نارائن ملا کی زبان ہے جنہوں نے کہا تھا:
ملا بنا دیا ہے اسے بھی محاذ جنگ
اک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی
دراصل یو پی اسمبلی میں کام کاج کی سرکاری زبانوں میں اوہدی اور دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ انگریزی کو شامل کرنے کی تجویز پر اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے اردو اور سنسکرت کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اس پر وزیراعلی بھڑک گئے اور اپوزیشن پر انگریزی مخالف ہونے کے ساتھ دوغلے پن کا الزام لگا دیا۔ اردو کی بقا اور تحفظ کے لیے سرگرم سماجی کارکن عبدالنصیر ناصر نے ہفت روزہ دعوت سے فون پر خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اسمبلی ہاؤس میں اردو زبان پر ہونے والے تنازعے کے بعد ماتا پرساد پانڈے سے ملاقات کی اور انہیں یاد دلایا کہ اردو کو دوسری زبان کا درجہ دینے سے متعلق یو پی سرکار کا حکم نامہ موجود ہے۔ ہندی ساہتیہ سمیلن نے اسے کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی بنچ نے 2014 کے ایک فیصلے میں سرکاری درجے پر مہر لگا دی۔ ماتا پرساد پانڈے نے یوم مادی زبان کے موقع پر ڈاکٹر اے پی جی عبدالکلام سنٹر لکھنؤ میں منعقدہ پروگرام میں کہا کہ ان کے والد نے بچپن میں انہیں بھی اردو سکھائی تھی۔ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی مادری زبان میں بنیادی تعلیم کو ترجیح دینے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ زبان کو کسی خاص مذہب سے جوڑنا غلط ہے، اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہوتی تو بنگلہ زبان کے نام پر بنگلہ دیش پاکستان سے کیوں علیحدہ ہوتا؟ یوگی آدتیہ ناتھ کے متنازعہ بیان کے بعد اردو کی حمایت اور وکالت میں برادران وطن کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے جو اہل اردو کے لیے باعث مسرت اور اردو زبان کے فروغ کے لیے فال نیک ثابت ہو سکتی ہے۔
مہاکمبھ کے رنگ تنازعوں کے سنگ
پریاگراج کے سنگم پر مہاکمبھ کا آغاز شاہی اکھاڑوں کے اشنان میں مشہور ماڈل ہرشا رچھاریہ کو جلوس میں شامل کرنے کے تنازعہ سے ہوا تھا بعد میں فلمی اداکارہ ممتا کلکرنی کو پیسہ لے کر مہا منڈلیشور بنانے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ مہاکمبھ کے انتظامات پر اپوزیشن کے ساتھ سنتوں مہنتوں نے بھی سوالات اٹھائے۔ مرکزی پالیوشن بورڈ کی رپورٹ نے ریاستی حکومت کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ رپورٹ کے مطابق پریاگراج میں سنگم کے پاس لیے گئے پانی کے نمونوں میں اتنی آلودگی ہے کہ اسے پینا تو دور کی بات، یہ نہانے کے بھی قابل نہیں ہے۔ حالانکہ یوپی آلودگی بورڈ نے این جی ٹی میں سماعت کے دوران اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اس کا کاؤنٹر کیا ہے۔اس لیے این جی ٹی نے 28 فروری تک نئی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم، انتظامیہ نے 144 سال بعد کی ایسی تشہیر کی ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ خواص بھی مقدس ڈبکی لگانے والوں میں شامل ہو گئے۔ کمبھ کے اختتام سے پہلے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔ کاوش عزیز نام کے ایکس ہینڈل پر دعویٰ کیا گیا کہ مہاکمبھ میں اشنان کرنے والی خواتین کی ویڈیوز دو سے تین ہزار روپے تک آن لائن فروخت کی جا رہی ہیں۔ ٹیلی گرام انالیٹکس پلیٹ فارم ڈیلی میٹرو کے حوالے سے یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ 12 جنوری سے 18 فروری کے درمیان اوپن باتھنگ سرچ ٹرم میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ ٹیلی گرام پر گنگا ریور اوپن باتھنگ جیسے ناموں سے پرائیویٹ گروپ بھی بنائے گئے ہیں۔ سنجے داس نام کے ایک صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا” اس کا مطلب کمبھ میں لوگ پاپ دھونے نہیں گئے تھے بلکہ پاپ بڑھانے کے لیے گئے تھے شرم آنی چاہیے ان ہندوؤں کو جنہوں نے یہ ویڈیو اپلوڈ کی اور بھیج بھی رہے ہیں۔ لعنت ہے۔ "اشنان کرنے والی خواتین کی یہ ویڈیو اپلوڈ کرنے کے الزام میں الگ الگ مقامات سے اجول تیلی، چند پرکاش اور پراج پاٹل نام کے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کامران علوی کو نہانے کے قابل اعتراض ویڈیو پھیلانے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ یوپی پولیس کے ایک افسر نے 100 سے زیادہ میڈیا اکاؤنٹس کی پہچان کرکے کارروائی کرنے کا اعتراف کیا ہے اپوزیشن لیڈر اکھلیش یادو نے اس معاملے میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہاکمبھ میں خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے میں بی جے پی حکومت ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اب تک لوگ گنگا جل لے کر سچ بولتے تھے اب اتر پردیش کی بی جے پی سرکار کے ذریعے ہی جھوٹ بولا اور بلوایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ این جی ٹی میں مرکز اور ریاستی بورڈ کی رپورٹوں میں فرق ہے۔
بلڈوزر نا انصافی کا شکار سابق کونسلر عدالت سے باعزت بری
ایم پی کے ضلع راجگڑھ میں سارنک پور بلدیہ کے سابق کونسلر شفیق انصاری بلڈوزر نا انصافی کا شکار ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایک مقامی خاتون نے شفیق کے خلاف عصمت ریزی کی جھوٹی شکایت کی۔ اس پر مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے گھر کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا۔ شفیق کے مطابق گھر مسمار کرنے سے پہلے انہیں جواب دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ راج گڑھ کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے انہیں عصمت دری کے الزام سے بری کر دیا۔ عدالت نے پایا کہ الزام لگانے والی خاتون نے دیر سے شکایت کی اور خاتون اور اس کے شوہر کی گواہی میں تضاد بھی ہے۔ عدالت سے باعزت بری ہونے کے بعد شفیق انصاری اپنے تباہ شدہ مکان کے معاوضے کے لیے قانونی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس کے سبب سازش کے تحت انہیں پھنسایا گیا ہے۔ ان کا 2000 مربع فٹ کا مکان غیر قانونی تجاوزات کے نام پر مسمار کر دیا گیا وہ معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔ یو پی سے لے کر راجستھان اور گجرات تک بلڈوزر نا انصافی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے گائیڈ لائن بھی جاری کی گئی ہے اس کے باوجود اس طرح کے واقعات قانون پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔
نشے کے خلاف سماجی مہم
جماعت اسلامی ہند نے حلقہ مغربی اتر پردیش میں 14 فروری سے 23 فروری تک نشہ مخالف مہم کا اہتمام کیا۔اس دوران نشے سے پاک سماج بنانے کے لیے حلقے کے مختلف شہروں میں عوامی پروگرام، گلیوں اور محلوں میں نشہ مخالف بیداری ریلیوں کے علاوہ متعدد سرگرمیاں انجام دی گئیں۔بریلی کے ناظم شہر احمد عزیز خان نے ہفت روزہ دعوت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نشہ مخالف مہم میں سماج کے ہر طبقے کا ساتھ مل رہا ہے۔ عوام اس بات سے پریشان ہیں کہ خاندان کے خاندان نشے کی لعنت سے برباد ہو رہے ہیں۔
ادھر ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت پی ڈی پی نے بھی منشیات کے خلاف دستخطی مہم شروع کی ہے۔ پارٹی لیڈر التجا مفتی نے سری نگر میں دستخط کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے شراب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر میں بے روزگاری کے سبب شراب اور منشیات کی وبا جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔ نوجوان بڑی تعداد میں نشے کی طرف مائل ہو رہے ہیں اسے روکنے کے لیے پارٹی کے رکن اسمبلی محمد فیاض نے ریاستی اسمبلی میں پرائیویٹ بل بھی پیش کیا ہے۔ یہ دستخطی مہم اس بل کی حمایت میں چلائی جا رہی ہے واضح رہے کہ شمالی بھارت کے صوبہ پنجاب میں شراب اور منشیات کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ سب پریشان ہیں۔ نشے کی لت ایک سماجی برائی ہے لاکھوں جوانوں اور گھرانوں کی صحت اور زندگی کے ساتھ ان کی دولت بھی برباد ہو جاتی ہے۔اسے روکنے کے لیے پورے سماج کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 02 مارچ تا 08 مارچ 2025