درجنوں معصوموں کی ہلاکتوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی کا نفاذ

نئی دہلی، اگست 8: اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان تین دن تک جاری رہنے والے تشدد کے بعد جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ مئی 2021 میں 11 دن کی لڑائی کے بعد حالیہ جھڑپوں میں 15 بچوں سمیت 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق، فلسطینی اسلامی جہاد (پی یو جے)کے باغیوں نے کہا کہ مصری ثالثوں کی پہل پر بات چیت کے بعد مقامی وقت کے مطابق 23.30 بجے سے جنگ بندی نافذ کردی گئی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم یائر لیپڈ کے دفتر نے جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ میں اسرائیل اورفلسطینی تنظیم حرکۃ الجہاد الاسامی کے درمیان اتوارکی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے (2030 جی ایم ٹی) سے جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جنگ بندی مصرکی ثالثی کی کوشش کے نتیجے میں ممکن ہو پائی ہے۔

جہاداسلامی کے ترجمان طارق سلمی نے کہا کہ ”ہم مصرکی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جو اس نے ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے کی ہیں”۔

اسرائیلی فورسز نے قبل ازیں اختتام ہفتہ پرفلسطینیوں کے اہداف پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں اس کے شہروں کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں سے حملے شروع ہوگئے۔

فلسطینی اور مصری ذرائع نے اس سے قبل بھی جنگ بندی کے اطلاق کا وقت دیا تھا اورفلسطینی مزاحمتی تنظیم حرکۃ الجہادالاسلامی نے اسرائیل کے ساتھ گذشتہ تین روز سے جاری مسلح تنازع کے خاتمے کے لیے مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

حرکۃ الجہادالاسلامی کے سینرورکن محمدالہندی نے اتوار کی شب ایک بیان میں کہا کہ کچھ دیرقبل مصرکے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کا مسودہ طے پاگیا ہے۔اس میں مصر کادو قیدیوں باسم السعدی اور خلیل عودہ کی رہائی کے لیے کام کرنے کاعزم بھی شامل ہے۔

تنظیم کی سیاسی شاخ کی ایک سینر شخصیت سعدی کو حال ہی میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے سےگرفتارکیا ہے۔اس کے ایک اورعسکریت پسند عودہ بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔

مصر کے ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کی پیش کش پررضامندی ظاہرکردی ہے جبکہ مصرکی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ ایک فلسطینی عہدہ دار نے بتایا کہ اس کا اطلاق شب 20:00 بجے (1900 جی ایم ٹی)سے ہوگا۔

جمعہ کے روز لڑائی چھڑنے کے بعد سے غزہ میں اسرائیل کی اس نئی جارحیت کا بنیادی ہدف جہاداسلامی کے جنگجو اور ٹھکانے ہی رہے ہیں۔اسرائیلی فوج اور فلسطینی تنظیم غزہ میں سرحد پار فضائی بمباری اور راکٹ باری کا تبادلہ کررہے ہیں اورغزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔نیز جہادِاسلامی نے اپنے ایک سینیرکمانڈر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔

جہاداسلامی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ القدس بریگیڈز (یروشلم بریگیڈز) سلامتی کونسل کے رکن اورغزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے کے کمانڈرخالد منصور کی شہادت کا سوگ منا رہی ہے۔وہ گذشتہ روز (ہفتہ کو) اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔القدس بریگیڈز اس فلسطینی تنظیم کا مسلح ونگ ہے۔

دریں اثنا حماس کے زیرانتظام غزہ میں صحت حکام کی جانب سے فراہم کردہ تازہ اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ’اسرائیلی جارحیت’کےآغاز سے اب تک شہید ہونے والوں میں 15 کم سن بچّے اور چارخواتین بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ311 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہےکہ اس کے پاس اس بات کے”ناقابل تردید”شواہد موجود ہیں کہ ہفتے کے روزغزہ کے شمالی شہرجبالیہ میں عسکریت پسندوں کا ایک غیراہدافی راکٹ گراتھا اور وہی ر اکٹ متعدد بچّوں کی ہلاکت کا ذمہ دار تھا۔فوری طورپریہ واضح نہیں ہو سکا کہ جبالیہ کیمپ میں ہونے والے واقعے میں کتنے بچّے مارے گئے ہیں۔