‘تفریق اور نفرت انگیز مباحث سے نیوزچینلوں کی معتبریت میں کمی آئی ہے ،بغیرتحریف کے خبروں کو دکھاناصحافیوں کا فریضہ ‘

اصل صحافت حقائق کو سامنا لانا ، سچائی کو من و عن پیش کرنا اوراپنے خیالات کو پیش کرنے کے لئے تمام فریق کو برابرکا موقع دینا اورانہیں مناسب پلیٹ فارم مہیاکراناہے ۔نیز اپنی باتوں کو شائستہ اور مہذب انداز میں پیش کرنا بھی صحافتی اخلاقیات کا اہم جزء ہے۔

نئی دہلی، 21؍ستمبر2022: اطلاعات ونشریات کےمرکزی وزیرانوراگ سنگھ ٹھاکرنے آج اطلاعات ونشریات (آئی اینڈ بی)کے مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹرایل مروگن ، اطلاعات ونشریات کے سکریٹری اپوروا چندراور اے آئی بی ڈی کی ڈائریکٹرمحترمہ فلومینا گناناپراگاسم کی موجودگی میں 47ویں سالانہ اجتماع اور نشریات کی پیش رفت سے متعلق ایشیائی بحرالکاہل  انسٹی ٹیوٹ فاربراڈ کاسٹنگ ڈولپمنٹ(اے آئی بی ڈی) کے 20ویں اجلاس کا افتتاح کیا۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے جناب ٹھاکرنے کہاہے کہ مرکزی دھارے کی میڈیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے نئے دورسےنہیں بلکہ مرکزی دھارے کی میڈیا کو اپنے ہی چینلوں سے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کی خبریں چینلوں پر دکھائی جا رہی ہیں اور جس طرح کے مباحثے ہو رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا قرین قیاس ہوگا کہ میڈیا کے اداروں کو خود سے ہی خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے آگے کہاکہ اصل صحافت حقائق کو سامنا لانا ، سچائی  کو من و عن پیش کرنا اوراپنے خیالات کو پیش کرنے کے لئے تمام فریق کو  برابرکا موقع دینا اورانہیں مناسب پلیٹ فارم مہیاکراناہے ۔

انھوں نے آگے کہاکہ آج کل ایسے مہمانوں کو مدعو کیاجاتاہے جو سماج میں تفریق پیداکرتے ہیں ، غلط بیانیوں کی تشہیرکرتے ہیں اوراونچی آواز میں اپنی بات رکھتے ہیں ، جس کی وجہ سے چینل کی معتبریت کو نقصان پہنچتاہے ۔ مہمان ،لب و لہجہ اورویژول کے تعلق سے آپکا فیصلہ سامعین کی آنکھوں میں آپ کی معتبریت کو واضح کرتاہے ۔ناظرین آپ  کاشودیکھنے کے لئے ایک لمحہ رک سکتے ہیں لیکن آپ کے  اینکر، چینل  یا برانڈاور خبروں کے ذرائع کی شفافیت پرکبھی بھروسہ نہیں کرپائیں گے ۔

وزیرموصوف نے اس موقع پر موجودبراڈکاسٹرز سے اپیل کی کہ وہ ایسے ٹی وی مباحثوں کو روکیں جن سے سماج میں تفریق پیداہورہی ہو نیز ایسے خیالات کو ٹی وی پردکھانے سے گریز کریں جن سے سماج میں نفرت اورتشدد کو فروغ ملے نیز مہمانوں کو  بلانے کے اپنے معیارات بھی طے کریں ۔

سامعین کے سوال کا جواب دیتے ہوئےموصوف نے کہاکہ ‘‘کیانوجوان ایسی ٹی وی خبروں کو دیکھناچاہتاہے کہ جس میں شورشرابہ ہواور عوام کے مفاد میں نہ ہویاخبروں کو غیرجانب داری کے ساتھ پیش نہ کیا جا رہا ہو یابحثوں میں آگے بڑھنے کی مسابقت اور ہوڑ لگی ہو، اس پر اپنا وقت دینا چاہے گا’’ ؟

جناب انوراگ ٹھاکرنے  وباء کے  دوران ممبرممالک کو آن لائن جڑے رکھنے اور مسلسل بات چیت کے لئے اے آئی بی ڈی کی قیادت کی ستائش کی ۔ انھوں نے اس بات کا ذکرکیا کہ میڈیکل شعبے ،کووڈ جانبازوں کی مثبت کہانیوں اور سب سے اہم فرضی خبروں پرقدغن لگانے جو وباءسے زیادہ تیزی سے افواہیں پھیلارہے تھے ، میں معلومات کے تبادلے کے ذریعہ ممبرممالک کوبے انتہاء فائدہ ہواہے ۔ جناب ٹھاکرنے اے آئی بی ڈی کی ڈائرکٹرمحترمہ فلومینا ، اے آئی بی ڈی کے جنرل کانفرنس کے صدرجناب مینک اگروال اوررکن ممالک کو مبارکباد پیش کی جنھوں نے ایشیا بحرالکاہل خطے میں کووڈ وباءسے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط میڈیاکی تعمیر میں مل کرکام کیا۔

تقریب کا موضوع ‘‘وباء کے بعد کے دورمیں نشریات کے لئے ایک مضبوط مستقبل کی تعمیر’’پربات کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہاکہ ‘‘اگرچہ براڈکاسٹ میڈیا  ہمیشہ سے صحافت کے مرکزی دھارے میں شامل  رہی ہے ، کووڈ -19کے دورنے زیادہ اسٹراٹیجک طریقے سے ڈھانچے کی تشکیل دی ہے ۔ کووڈ وباء نے ہمیں سکھایاہے کہ کس طرح درست اوربروقت معلومات لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچاسکتی ہیں ۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے مشکل  حالات  میں دنیا کو ایک پلیٹ فارم  پریکجاکیا اور دنیا کو مل کرلڑنے کا جذبہ فراہم کیا۔ وباء کے دوران ہندوستانی میڈیا کے کردارکو ایک کامیاب کہانی کے طورپرپیش کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میڈیا نے یقین دہانی کرائی کہ کووڈ -19سے متعلق بیداری کے پیغامات اہم سرکاری رہنماخطوط اور ڈاکٹروں کے ساتھ مفت آن لائن مشاورت ملک کے ہرگوشے میں موجود ہرفرد تک پہنچے ۔

جناب ٹھاکرنے بہترین معیاری مشمولات کے تبادلے کے شعبے میں تعاون فراہم کرنے کے لئے ممبرممالک سے اپیل کی ۔ اس طرح کے تعاون کے ذریعہ پروگرام کے تبادلے نے دنیا کوایک پلیٹ فارم پرلانے میں مدد کی ہے ۔ ممالک کے درمیان اس طرح کی میڈیا کی شراکت داری نے عوام سے عوام کے رشتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کی ہے ۔

اپنے اختتامی خطاب میں وزیرموصوف نے نشاندہی کی کہ میڈیا کو اپنی خبروں کی نشریات کی تمام شکلوں میں بے پناہ صلاحیت ہے کہ وہ عوام کے تصورات اوران کے خیالات کو کس طرح پیش کرے۔ہمارے صحافیوں اور براڈکاسٹر دوستوں کے لئے ایک مثبت ماحول بناناضروری ہے  تاکہ اصل صحافت کو بروئے کارلایاجاسکے ۔

پرساربھارتی کے چیف ایکزیکیٹو افسراوراے آئی بی ڈی کے صدرجناب مینک اگروال نے اپنے خطاب میں کہاکہ لاک ڈاؤن میں بھی اے آئی بی ڈی تربیتی اورصلاحیت سازی کے پروگرام کو جاری رکھے ہواتھا ۔ گذشتہ سال 24تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیاگیاتھا ، جس میں ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑھتے ہوئے مسائل ، گرین ٹکنالوجی ، پائیدارترقی ، تیز تررپورٹنگ ، بچوں کے لئے پروگرامنگ وغیرہ پرتوجہ مرکوز کی گئی تھی ۔ جناب اگروال نے بتایاکہ سائبرسکیورٹی میں صحافیوں کی ٹریننگ ، براڈکاسٹنگ میں انٹرنیٹ کے اضافے کے ساتھ صحافت لازمی بن گیاہے ۔ انھوں نے کہاکہ اے آئی بی  ڈی نے اپنے تربیتی پروگرام کے ایک حصے کے طورپر اس طرف بھی قدم اٹھایاہے ۔

محترمہ فلومینا گنانا پراگاسم نے بتایاکہ مشمولات میڈیا کے مستقبل کاتعین کررہاہےاورکس طرح کے مشمولات  شیئراورموناٹائز کیاجاتاہے یہ نشریات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ انھوں نے تمام مندوبین اورمختلف تنظیموں کے نمائندوں کا شکریہ اداکیا۔

تقریب کے دوران مرکزی وزیرجناب انوراگ ٹھاکرنے 22-2021کے لئے ایوارڈ پریزنٹیشن کی صدارت کی ۔ 2021کے لئے ستائشی ایوارڈ ریڈیوٹیلی ویژن برونئی کو دیاگیا ۔2022کے لئے ستائشی ایوارڈ اقتصادیات کی وزارت ، سول سروسز ، مواصلات اور کمیونٹی ترقی ، جمہوریہ فجی اور فجی نشریات کارپوریشن کو مشترکہ طورپر دیاگیا۔

کمبوڈیا کےاطلاعات ونشریات کے وزیر جناب خیو خا ن ہرتھ کو 2021کے لئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ  دیاگیا ۔پرسادبھارتی کے سی ای اواور  اے آئی بی ڈی کے صدرجناب مینک اگروال کو 2022کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیاگیا۔ اس موقع پر ہندوستان میں مختلف غیرممالک مشنوں کے سربراہان  ، اے آئی بی ڈی کے رکن ممالک کے  مندوبین پرساربھارتی اور اطلاعات ونشریات کی وزارت ، حکومت ہند کے مختلف ونگس کے افسران بھی موجود تھے ۔

اے آئی بی ڈی کے بارے میں

نشریات کی پیش رفت کے تعلق سے ایشیائی بحرالکاہل ادارہ (اے آئی بی ڈی ) کو یونیسکو کی ماتحتی میں 1977میں قائم کیاگیاتھا ۔یہ الیکٹرانک میڈیا کی ترقی کے شعبے میں ایشیا اور بحرالکاہل کے لئے متحدہ ممالک کی اقتصادی اورسماجی کمیشن کی ایک منفرد علاقائی بین –حکومتی تنظیم ہے جو  متعددممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ ملیشیا کی حکومت اس کی میزبانی کرتی ہے اوراس کا سکریٹریٹ کولالمپورمیں واقع ہے ۔

اے آئی بی ڈی کے فی الحال 26رکن ممالک ہیں جو 43تنظیمیں اور 50ا س سے جڑے اراکین (تنظیمیں )نیز 46ممالک اورخطے  میں نمائندگی کرنے والے  کل 93 کی رکنیت کے ساتھ ایشیا، بحرالکاہل ، یورپ ، افریقہ ، عرب ممالک اورشمالی امریکہ میں 50سے زائد شراکت دارکی نمائندگی کرتے ہیں ۔

اے  آئی بی ڈی کی جنرل کانفرنس (جی سی )اور اس سے جڑے اجلاس ادارے کی سالانہ سرکاری اجتماع ہے ، جنرل کانفرنس میں رکن ممالک ، ادارے سے جڑے  اراکین ، شراکت دار، مشاہدین اور سرکردہ براڈکاسٹرمدعوکئے جانے پر اس میں شریک ہوتے ہیں ۔ رکن ممالک ، ذیلی تنظیمیں اورشراکت دار کو  متعددسرگرمیوں اورپروجیکٹوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیاجاتاہے ۔ اے آئی بی ڈی گذشتہ سال اس پروگرام کانفاذ کیاتھا جس میں مستقبل کے پروجیکٹوں پرغورکیاجاتاہے ۔ ممبرممالک کی ترقیاتی ضروریات پربھی تبادلہ خیال کیاجاتاہے ۔

اطلاعات ونشریات کی وزارت کو اے آئی بی ڈی کی مکمل رکنیت حاصل ہے ۔ پرسار بھارتی ہندوستان کی پبلک براڈکاسٹرہونے کی وجہ سے اے آئی بی ڈی کی مختلف خدمات کو استعمال میں لاتی ہے ۔ ہندوستان میں 1978، 1985اور2003میں گورننگ کونسل میٹنگس (جی سی )کی میزبانی کی تھی اور اب  دوبارہ 19سے 21ستمبر ،2022تک نئی دہلی میں 47واں سالانہ اجتماع /20ویں اے آئی بی ڈی جنرل کانفرنس اور اس سے جڑی میٹنگس 2022کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہواہے ۔