!بھارت کی میزبانی پر تعصب اور ’ہائپر نیشنل ازم‘ کا الزام

میچ کے دوران ‘جئے شری رام’ کے نعروں کا کیا جواز ہے؟

نور اللہ جاوید، کولکاتا

کھیل کے جذبہ پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے محرکاتحاوی!
عالمی میڈیا کے تجزیوں میں بھارت کی منفی تصویر۔ شائقین کا رویہ 2036 میں اولمپک کی میزبانی کی دعویداری کو کم زور کرسکتا ہے
عالمی کرکٹ کپ کے فائنل میں ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد عالمی میڈیا میں بھارتی حکومت اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کے آمرانہ مزاج اور بھارتی شائقین کے متعصبانہ رویوں پر زبردست تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں کرکٹ کا زعفرانائزیشن ہوچکا ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ میگزین کو بھارت میں کرکٹ کے سیاسی کرن پرNarendra Modi has seized and politicised Indian cricket کے عنوان سے رپورٹ شائع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ فرانس کے بڑے میڈیا ہاوسیس میں ایک france 24 نےCricket politics: India’s Modi basks in World Cup success کے عنوان سے رپورٹ شائع کی اور الجزیرہ نے تو 2023 کے عالمی کپ کو ’’بی جے پی کا عالمی کپ’’ (The BJP’s World Cup) تک قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں بھی بھارت میں کرکٹ کی موجودہ صورت حال پر تفصیل سے رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ خود بھارت میں بھی ٹیم انڈیا کی شکست اور عالمی کپ سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں آن پڑی کہ ’’پنوتی‘‘ کی وجہ سے بھارت کی شکست ہوئی یا پھر یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ اگر میچ احمد آباد کے بجائے کولکاتا اور ممبئی میں ہوتا تو بھارت کی جیت یقینی تھی؟کیا عالمی میڈیا کے اعتراضات کو ’’انگور کٹھے ہیں‘‘ کہہ کر رد کر دیا جائے اور اپوزیشن رہنماوں کی بیان بازیوں کو انتخابی حکمت عملی اور سیاسی دشمنی کے باعث حقائق سے چشم پوشی قرار دے کر ناقابل اعتنا قرار دے دیا جائے، یا پھر بھارت میں کرکٹ کے سیاسی کرن اور کرکٹ کو ہائپر نیشنل ازم سے جوڑنے کے الزامات کا معروضی جائزہ لیا جائے؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت میں کرکٹ سب سے مقبول ترین کھیل ہے۔3لتیس سال قبل مشہور ہی مصنف اور صحافی اشیش نندی نے اپنی کتاب“The Tao of Cricket‘‘ کے آغاز میں ہی بہت ہی معنی خیز جملہ لکھا تھا کہ’’ کرکٹ بھارتی کھیل ہے مگر حادثانی طور پر اس کو انگریزوں نے ایجاد کیا ہے‘‘۔ اشیش نندی کے تیس سال قبل کہے گئے اس جملے کا آج کے حالات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات صد فیصد سچ معلوم ہوتی ہے کہ کرکٹ کے فروغ میں بھارت کا سب سے اہم کردار ہے۔ کرکٹ کے شائقین کی سب سے بڑی تعداد بھارت میں ہے۔2018 کے عالمی کپ میں ٹی وی پر بھارت کے کرکٹ شائقین کی تعداد اسی ملین تک پہنچ گئی تھی اور اس مرتبہ اس کی تعداد میں اضافے ہی ہونے کا امکان ہے۔ ظاہر ہے کہ نشریاتی حقوق سے ہونے والی آمدنی سب سے زیادہ بھارت میں ہوتی ہے۔ رخصت پذیر عالمی کپ سے اشتہارات سے ہونی والی آمدنی کے اعداد وشمار اب تک سامنے نہیں آئے ہیں تاہم، ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل تخمیہ لگایا گیا تھا کہ اشتہارات کی آمدنی بیس سے بائیس بلین روپے کے درمیان ہوسکتی ہے۔ جو انگلینڈ میں منعقدہ گزشتہ عالمی کپ سے کم از کم اڑتالیس فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کے پانچ سالہ نشریاتی حقوق چھ بلین ڈالر میں فروخت کیے تھے۔ یہ کل آمدنی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی آمدنی سے چوالیس زیادہ تھی۔ بھارت نے بے تحاشا آمدنی، عددی قوت اور جغرافیائی وسعت کا کرکٹ پر اپنی اجارہ داری کے طور پر استعمال کیا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر اس طرح کے دعوؤں کی بھرمار ملے گی کہ آئی سی سی بھارت کے روپے سے چلتی ہے۔ ظاہری طور پر اس میں سچائی بھی ہے۔ دنیا میں سب سے مہنگا کرکٹ لیگ (آئی پی ایل) بھارت میں ہی منعقد ہوتا ہے اور کھلاڑیوں کو مہنگی قیمتیں بھارت میں ہی ملتی ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں کرکٹ کھلاڑیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آئی پی ایل کا حصہ بنیں۔ تاہم کرکٹ پر بھارت کی اجارہ داری اور آئی سی سی انتظامیہ بھارت کی مضبوط پکڑ حالیہ برسوں میں نہیں ہوئی ہے بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اب اس میں کیا فرق واقع ہوا ہے؟
اگرچہ بھارت نے عالمی کپ کی میزبانی پہلی مرتبہ نہیں کی ہے۔ سب سے پہلے اس نے 1987 میں عالمی کپ کی میزبانی کی تھی، اس کے بعد 1996 اور 2011 میں بھی وہ عالمی کپ کی میزبانی کر چکا ہے۔ بھارت میں کرکٹ اور بھارتی شائقین پر گہری نظررکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھارت کی میزبانی میں منعقد ہونے والے گزشتہ تین عالمی کپوں کی اپنی اپنی خصوصیات رہی ہیں۔ 1987 میں کرکٹ شہری علاقوں سے نکل کر دیہی علاقوں تک پھیل گیا۔1996 کا عالمی کرکٹ کپ مالی اصلاحات کا مظہر تھا جس کا آغاز 1991 میں کیا گیا تھا۔ اس ورلڈ کپ کو پیپسی اور کوکا کولا کے درمیان ایک زبردست اشتہاری جنگ کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان دونوں پروڈکٹس کو بھارتی مارکیٹ میں بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہے۔ 2011 میں منعقدہ عالمی کپ بھارت میں ایک اور تبدیلی کا گواہ بنا۔ بھارت کرکٹ انڈسٹری نے ایک نئے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ، انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی شروعات کیا تھا۔ اس میں امریکی طرز کا فرنچائز ماڈل استعمال کیا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ایک نیا اعتماد بھی تھا جس کی بدولت بھارت نے دوسری مرتبہ عالمی کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کے بعد 2023 کا عالمی کپ سب سے بڑا ایونٹ تھا جس کی بھارت میزبانی کر رہا تھا۔ اس میں دنیا کے دس بہترین کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں۔ کھلاڑیوں کو سہولتوں کی فراوانی، اسٹڈیمس، رکھ رکھاو کے اعتبار سے انتظامات بہتر تھے۔ اس کے ذریعہ بھارت نے 2034 اولمپک کی میزبانی کی دعوے داری کی طرف ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کسی حد تک یہ ثابت کر دیا کہ اولمپک جیسے کیثرالجہت کھیلوں کی میزبانی کے لیے بھارت کے پاس درکار صلاحیت اور انفراسٹکچر موجود ہے۔
تاہم 2023 کا عالمی کپ دیگر عالمی کپوں کے مقابلے میں کئی معنوں میں الگ تھا اور یہی فرق تنازع کا سبب اور سوالوں کی زد میں ہے۔ کرکٹ میں سیاسی لیڈروں کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پنڈت نہرو کے دور میں ہی اس کی شروعات ہوگئی تھی۔ انفرادی طور پر سیاست داں، بورڈ کے عہدیدار کے طور پر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ این سی پی کے سربراہ شرد پوار بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی دونوں کی سربراہی کر چکے ہیں، مگر مودی کے دور حکومت میں کرکٹ بورڈ پر کنٹرول اور اس کے سیاسی استعمال کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ اگرچہ عالمی کپ آئی آئی سی کا ایونٹ ہے مگر وزیر اعظم مودی کے طاقت ور حلیف وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ ہر طرف چھائے رہے۔ اس سال مارچ میں احمد آباد کے ’’نریندر مودی اسٹیڈیم‘‘ میں انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا ٹسٹ میچ سے پہلے انڈیا-آسٹریلیا کرکٹ کے پچھتر سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم مودی اور ان کے آسٹریلوی ہم منصب انتونی البانی نے گولف کارٹ کے ذریعہ پورے اسٹڈیم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسی ہزار بی جے پی کارکنوں کو مفت داخلہ دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2020 میں اسی اسٹیڈیم میں مودی نے امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا والہانہ استقبال کیا تھا۔اس سال عالمی کپ میں افتتاحی میچ، فائنل مقابلہ اور بھارت کی اہم ٹیموں کا مقابلہ بشمول پاکستان اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے میچ کی میزبانی اسی اسٹڈیم میں رکھ کر شعوری طور پر مودی کو مرکز توجہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔انگریزی اخبار بزنس اسٹینڈرڈ (Business Standard) کے بنگلہ دیشی نژاد صحافی جنت النعیم پیال کی رپورٹ کے مطابق اگر بھارت فائنل مقابلے میں فاتح ہوتا تو اسے روہت شرما کی جیت سے کہیں زیادہ نریندر مودی کی کرشماتی شخصیت کی جیت قرار دیا جاتا۔ بی جے پی نے اندرون خانہ یہ تیاری کرلی تھی کہ عالمی کپ کی جیت کو مودی کی جیت میں تبدیل کرکے چھ ماہ قبل قومی انتخابات کا اعلان کردیا جاتا۔ جنت النعیم کے اس تجزیہ کو اگر فائنل مقابلے سے قبل بھارت کے ٹی وی نیوز چینلوں کے کوریج کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں مکمل سچائی نظر آتی ہے کہ اس پورے عالمی کپ کو مودی کپ اور ہندوتوا کی جیت سے جوڑ دیا گیا تھا۔ ’’جے شری رام‘‘ کے نعروں کے ذریعہ دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں کی ہورڈنگ پر بھارتی میڈیا اور کرکٹ انتظامیہ کی خاموشی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
غیر ملکی شائقین کے ویزا کے اجرا میں تاخیر، بین الاقوامی مقابلہ کے میچوں کے شیڈول میں تاخیر، آخری وقت میں پچ کی تبدیلی، پاکستانی کھلاڑیوں کے ویزا کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر اور پاکستانی کرکٹ شائقین کو ویزا نہ دینے کی پالیسی، پاکستانی کھلاڑیوں کے کھانے پر غیر ضروری رپورٹنگ اور 1996 اور 2011 کے عالمی کپ کے فائنل مقابلے کی شان دار میزبانی کرنے والے موہالی اسٹڈیم میں عالمی کپ کے مقابلے نہ کروانے کی پالیسی جیسے کئی معاملات ہیں جو اس عالمی کپ کو متنازع بناتے ہیں۔ مگر میدان میں میچ کے دوران بھارت کے کرکٹ شائقین اپنی پسندیدہ ٹیم کے حق میں جس طریقے سے ہلڑ بازی اور متعصبانہ رویے کا اظہار کر رہے تھے وہ کسی بھی صورت میں کرکٹ شائقین کا رویہ نہیں ہوسکتا۔ تاہم غیر ہندوستانی میچوں کے دوران کرکٹ شائقین کی غیر موجودگی اس دعوے کی نفی کر رہی تھی کہ بھارت میں کرکٹ کسی مذہب سے کم نہیں ہے۔ متحد ہ عرب امارات سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار خلیج ٹائمز میں ٹیم انڈیا کے سابق کرکٹر اور بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ گوتم گمبھیر نے غیر ہندوستانی میچوں میں شائقین کی غیر موجودگی اور میدان میں شائقین کی ہلڑ بازی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہمارا ٹرن آؤٹ انتہائی غیر معمولی رہا ہے جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ کیا ہم واقعی اس کھیل سے محبت کرتے ہیں یا ہمیں صرف ہندوستانی سپر اسٹارز اور ان کے آس پاس کا جنون پسند ہے؟ ہم نے احمد آباد میں ٹاس کے موقع پر بابر اعظم کو بُلایا اور باہر جانے والے پاکستانی بلے بازوں پر غیر ضروری نعرے لگائے۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ایک ایسا معاشرہ جس نے دنیا کو ’’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کا تصور دیا تھا، اس قدر متضاد ہے۔ اگر ہمیں 2036 کے اولمپک کھیلوں کی بولی جیتنی ہے تو ہمیں زیادہ غیر جانب دارانہ انداز اپنانا ہوگا‘‘۔
پاکستانی ٹیم کے ڈائریکٹر مکی آرتھر نے بھارتی شائقین کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت میں کھیلنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ بھارتی شائقین آئینہ دکھا کر مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو پریشان کرتے رہے ہیں مگر اس مرتبہ ان کا رویہ سب سے الگ تھا۔ ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ آئی سی سی ایونٹ ہے۔ احمد آباد میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مقابلہ کے دوران بھارتی کرکٹ شائقین کے متعصبانہ رویے کو دیکھ کر مجھے فخر محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ پسند کی ٹیم کے لیے تالیاں بجانے اور نعرے لگانے میں کوئی برائی نہیں ہے مگر مخالف ٹیم کی تذلیل، ہلڑ بازی اور ان کے کھیل میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔بھارتی شائقین کرکٹ کے جارحانہ رویے کی ایک تاریخ رہی ہے۔
1996 کے عالمی کپ کے دوران کولکاتا کے ایڈن گارڈن میں انڈیا اور سری لنکا کے درمیان کھیلے گئے سیمی فائنل مقابلے کے دوران بھارتی کرکٹ شائقین کی جانب سے پانی کے بوتلیں پھیکنے کی وجہ سے میچ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس طرح کے نظارے اب دیکھنے کو نہیں ملتے مگر احمد آباد میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑی محمد رضوان جب وہ آوٹ ہو کر پویلین لوٹ رہے تھے، تب بھارتی کرکٹ شائقین نے نہ صرف جے شری رام کے نعرے لگائے بلکہ پی اے سسٹم نے غیر ضروری طور پر فلاپ فلم ’’آدی پرش‘‘ کا فلاپ گانا ’’جے شری رام‘‘ بجا کر بھارتی کرکٹ شائقین کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کہ یہ کھیل اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔ ’’دی انڈیا فورم‘‘ میں بنگلورو سے تعلق رکھنے اسپورٹس صحافی شاردا اوگرا نےA Cricket World Cup by India and about India کے عنوان سے شائع شدہ اپنے مضمون میں بھارتی حکومت، بورڈ کے رویے کی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ احمد آباد میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مقابلے کے دوران ٹیم انڈیا کو نارنجی رنگ کی جرسی پہنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم، اسے بعد میں رد کر دیا گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ دراصل یہ مکمل طور پر سیاسی پراجیکٹ تھا۔ اس کے ذریعہ پورے مقابلے کو ہندو بھگوا بمقابلہ مسلم گرین بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
فائنل مقابلے میں بھارت کی شکست کے بعد ایوارڈ کی تقسیم کے دوران غیر معمولی تاخیر کی گئی۔ ایوارڈ فنکشن کی شروعات ہوئی تو ہر طرف فاتح ٹیم کے لیے تالیاں بجانے کے بجائے ہر طرف کوہلی کوہلی کے نعرے گونج رہے تھے۔ فائنل میں جب ٹریوس ہیڈ نے سنچری اسکور کی اور حسب روایت اپنا بیٹ اٹھایا تو ان کا خیر مقدم خاموشی سے کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے ایک لاکھ افراد کے ہاتھوں کو ان کی پیٹھ کے پیچھے باندھ دیا ہو، اور ان کے ہونٹ سی دیے ہوں۔ یا پھر کوویڈ کے دوران خالی اسٹڈیم میں مقابلہ ہو رہا ہے۔ اصل طوفان بدتمیزی فائنل مقابلے کے بعد سوشل میڈیا پر کی گئی۔ آسٹریلیائی کھلاڑیوں کی بیویوں کا پیچھا کیا گیا۔ سوشل میڈیا، بدمعاش محب وطنوں کی آخری پناہ گاہ میں تبدیل ہوگیا۔ گلین میکسوئل کی اہلیہ وینی رمن جو بھارتی نژاد ہیں انہیں ٹرول کیا گیا۔ آخر انہیں سامنے آکر ان بد تمیزیوں کا جواب دینا پڑا۔ سینچورین ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ جیسیکا کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا۔
کرکٹ کے سیاسی کرن اور کھیل کے مقابلے کو سیرو تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے بھارت کی عظمت و رفعت سے جوڑنے کی کوششوں پر مختلف انگریزی اخبارات میں کالم لکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار اوجیت پاٹھک کا یہ تبصرہ بہت ہی اہم ہے۔ ’’جس طرح زہریلے ٹیلی ویژن نیوز چینلز ایک کرکٹ میچ کو بھارت اور پاکستان کے درمیان کو جنگ میں بدل دیتے ہیں۔ اس میں شامل بدصورتی کے بارے میں سوچیے۔ اگر کرکٹ کی اس جنگ میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ ہمارا ’’ہتھیار‘‘ بنتا ہے تو یہ ہماری اجتماعی تنزلی، ہماری وحشیانہ جبلتوں، ہماری عصبیت زدہ مذہب اور کسی کھیل کو کھیل کے طور پر دیکھنے کی ہماری نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ آج کل کسی پاکستانی کرکٹر کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہنا بہت مشکل ہے کیونکہ آپ کو ہمیشہ ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیے جانے کا خدشہ رہتا ہے؟ حیرت کی بات نہیں کہ جب ہندوستان اور پاکستان کرکٹ کھیلتے ہیں تو ہائپر نیشنلزم کا محرک ہر طرح کی نفسیاتی اور ثقافتی جارحیت کا باعث بنتا ہے‘‘۔
بھارت میں سٹہ بازی اور جوا، انڈسٹری میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ کرکٹ کو لے کر بڑے بڑے دعوے ہیں۔ ایک طرف کرکٹ کو مذہب اور ’ہندو بالادستی‘ سے جوڑنے کی کوشش جاری ہے تو دوسری طرف بھارت میں کرکٹ کے مقابلے جوا اور سٹہ بازی کے سب سے بڑے مواقع بنتے جا رہے ہیں۔ عالمی کپ کے دوران غیر سرکاری این جی او ’’تھنک چینج فورم‘‘ کی رپورٹState of the betting & gambling Industry in India کے عنوان سے شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’انڈین پریمیئر لیگ جیسے بڑے ایونٹس کے دوران تین سو چالیس ملین سے زیادہ ہندوستانی سٹہ میں حصہ لیتے ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل نے آن لائن گیمنگ پر اٹھائیس فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریگولیٹری پابندیوں کے باوجود، ہندوستان کی سٹے بازی اور جوئے کی مارکیٹ میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستانی بیٹنگ مارکیٹ (آن لائن اور آف لائن ملا کر) 2018 میں ایک سو تیس بلین امریکی ڈالر تھی۔ کرکٹ بٹنگ اس شعبے پر حاوی ہے، جس کا تخمینہ ہر ہندوستانی پر دو سو ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کرکٹ بھارت میں کھیلوں پر بٹنگ پر حاوی ہے، کھیلوں کی سٹے بازی کی تقریباً اسی سے نوے فیصد آمدنی کرکٹ سے آتی ہے۔ 2023 کے آخر تک کرکٹ بٹنگ انڈسٹری کی مالیت دو بلین ڈالر سے زیادہ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) جیسے بڑے ایونٹس کے دوران، رپورٹ بتاتی ہے کہ تین سو چالیس ملین سے زیادہ ہندوستانی بٹنگ میں حصہ لیتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کی آن لائن جوئے کی مارکیٹ میں 2023 سے 2027 تک 8.59 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھنے کا تخمینہ ہے۔ اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2027 تک ہندوستان کی آن لائن جوئے کی مارکیٹ میں تقریباً 12.17 ملین صارفین ہوں گے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی آف شور بٹنگ انڈسٹری کی تیزی سے ترقی کے نتیجے میں حکومت کی آمدنی میں خاطر خواہ نقصان ہوگا۔ جی ایس ٹی کے نئے نظام کے تحت، قانونی صنعت ہر سال آمدنی سے محروم ہو جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ آن لائن گیمنگ جو بیشتر سٹہ اور جوئے پر مشتمل ہوتی ہے پر پابندی لگانے کے بجائے ٹیکس لگا کر قانون کا درجہ دینے کی کوشش کی کیوں جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ٹیکس عائد ہونے کے بعد ٹیکس سے بچنے کے لیے غیر قانونی سائٹس کا اضافہ ہونا فطری ہے۔ ایک طرف کرکٹ کھلاڑیوں کو ہیرو اور بھارت کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ہمارے یہ ہیروز نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کرنے کے بجائے اپنی آمدنی کے لیے جوئے اور سٹہ بازی کو فروغ دینے والے اشتہارات کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اخلاقی دیوالیہ پن اور کیا ہوسکتا ہے؟ درحقیقت یہ تصور کرنا بے وقوفی ہے کہ کرکٹ کے یہ ستارے بے لوث محب وطن ہیں جو ہماری قوم کی غیر مشروط خدمت کر رہے ہیں۔ یہ نہ بھولیں کہ ورلڈ کپ میں رنر اپ کے طور پر ہندوستانی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے تقریباً سولہ کروڑ روپے کا انعامی پرس ملے گا۔ اس کا موازنہ کرگل میں تعینات فوجی جوان کے تنخواہ کے پیمانے سے کریں جسے ہم بالفاظ دیگر اپنا ’’نجات دہندہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
جس طریقے سے جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد ایک ملک، ایک خاندان کا نعرہ بے معنیٰ ثابت ہوا اسی طریقے سے عالمی کپ 2023 کے اختتام کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر ابھر سامنے آیا ہے جو ہائپر نیشنل ازم کے رتھ پر سوار ہوکر حکم راں جماعت کے سیاسی عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بن گیا تھا۔ فٹ بال عالمی کپ کے دوران جتنی تعداد میں غیر ملکی شائقین کو ویزے دیے گئے تھے اس کا ایک فیصد غیر ملکی شائقین کو بھارت میں کرکٹ دیکھنے کے لیے ویزے نہیں دیے گئے۔ پاکستانی صحافیوں کو ویزا تو نہیں دیا گیا مگر جن غیر ملکی صحافیوں کو ویزے دیے گئے ان سے تحریری معاہدہ لیا گیا کہ وہ کرکٹ کے علاوہ کسی اور امور پر رپورٹنگ نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال بھارت کی صحافت کی آزادی کی عکاسی کرتی ہے۔
جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے۔ 2023 کے عالمی کپ کو کئی الٹ پھیر اور بڑی ٹیموں کے چھوٹی ٹیموں کے سامنے ڈھیر ہونے کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا۔ فائنل مقابلے میں بھارت کی شکست کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ معمول کا حصہ ہے مگر فائنل سے قبل جس طریقے سے بھارتی میڈیا میں تبصرے اور بیان بازی کی جارہی تھی اس سے یہ لگ رہا تھا کہ فائنل مقابلے میں بھارت کی جیت اسکرپٹ کا حصہ ہے مگر آسٹریلیا نے اسکرپٹ کے تمام منصوبوں کو ناکام کر دیا۔ ’پنوتی‘ جیسی اصطلاح غیر اخلاقی ہو سکتی ہے مگر سوال یہ ہے اگر بھارت فائنل مقابلہ جیت جاتا تو پھر کیا اسے مودی کی قسمت سے نہیں جوڑا جاتا۔19؍ نومبر کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹڈیم میں ٹیم انڈیا کی شکست کوئی غیر معمولی نہیں ہے۔ مگر گزشتہ چھیالیس دنوں کے دوران جس طریقے سے کرکٹ کے مقابلوں کو بھارت کے کرکٹ شائقین، میڈیا اور کسی حد تک حکم راں جماعت نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہم نے صرف اسی ایک مقابلے میں شکست کا سامنا نہیں کیا ہے بلکہ مختلف محاذوں پر ہماری شکست ہوئی ہے۔ کرکٹ میں شکست کی تلافی جلد ہو جائے گی اور ہمارے کھلاڑی جلد ہی اس شکست سے ابھر جائیں مگر ہم نے گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران جس رویے اور انداز کو اپنایا ہے اس کی وجہ سے جو ہمارا تنگ نظری، تعصب اور سنگ دلانہ رویے دنیا کے سامنے آیا ہے وہ اولمپک کی میزبانی کے دعوے کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

 

***

 انڈین پریمیئر لیگ جیسے بڑے ایونٹس کے دوران تین سو چالیس ملین سے زیادہ ہندوستانی سٹہ میں حصہ لیتے ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل نے آن لائن گیمنگ پر اٹھائیس فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ریگولیٹری پابندیوں کے باوجود، ہندوستان کی سٹے بازی اور جوئے کی مارکیٹ میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستانی بٹنگ مارکیٹ (آن لائن اور آف لائن ملا کر) 2018 میں ایک سو تیس بلین امریکی ڈالر تھی۔ کرکٹ بٹنگ اس شعبے پر حاوی ہے، جس کا تخمینہ ہر ہندوستانی پر دو سو ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ (تھنک چینج فورم کی رپورٹ)


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 3 دسمبر تا 9 دسمبر 2023