بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات کا مستقبل

این سی سی۔جماعتِ اسلامی اتحاد نے بی این پی کے اقتدار کے خواب بکھیر دیے

نور اللہ جاوید

پڑوسی ملک بنگلہ دیش گزشتہ ایک سال سے بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ’’مانسون انقلاب‘‘ کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا طویل اقتدار 5 اگست 2024 کو زوال کا شکار ہوگیا اور وہ ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئیں۔ حسینہ ایک برس سے بھارت میں پناہ گزیں ہیں۔
محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے فروری 2025 میں عام انتخابات کا اعلان تو کر دیا ہے مگر صورت حال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابات کے طریقۂ کار اور ایوانِ بالا کے اراکین کے ضوابط پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ ایک طرف خالدہ ضیا کی قیادت والی پی این بی، نشستوں کی بنیاد پر اراکینِ ایوانِ بالا کے انتخاب کی حامی ہے تو دوسری طرف بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی اور نو تشکیل شدہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی ووٹ فیصد کی بنیاد پر انتخاب کے حق میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اختلافات اور نئی سیاسی صف بندی نے بنگلہ دیش کے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جن بنیادوں پر ’’مانسون انقلاب‘‘ برپا ہوا جن وجوہات پر حسینہ کے خلاف عوامی ناراضگی ابھری تھی اور جن وعدوں اور اصلاحات کے عزم کے ساتھ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی تھی، کیا ایک برس میں ان اہداف کو پورا کرلیا گیا ہے؟
ماہرینِ سیاست کے مطابق گزشتہ ایک برس میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے کچھ شعبوں میں پیش رفت ضرور کی ہے۔ حسینہ کے زوال کے بعد اقلیتوں پر حملوں اور بھارت سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ نئی دہلی اور بیجنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوئی ہیں۔ گزشتہ برس مانسون انقلاب کے فوری بعد ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ڈھاکہ کا دورہ کر کے سب کو حیران کردیا تھا اور اب اگست 2025 کے دوسرے ہفتے میں محمد یونس نے ملائشیا کا دورہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، معیشت، تعلیم اور سرمایہ کاری کے اہم شعبوں میں معاہدے ہوئے۔ اس کے تحت بنگلہ دیش اور ملائشیا کی افواج خلیجِ بنگال میں مشترکہ مشقیں کریں گی جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔
بنگلہ دیش کے صنعت کار اب بھارت اور چین کے ساتھ ساتھ ملائشیا اور انڈونیشیا کی طرف بھی دیکھنے لگے ہیں۔ دوسری جانب ملائشیا کے سرمایہ کار اور کاروباری ادارے بنگلہ دیش کو اپنی بڑی مارکیٹ سمجھنے لگے ہیں، جو بھارت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ بنگلہ دیش بھارتی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم منڈی رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بہت زیادہ تھا۔ مغربی بنگال اور تری پورہ کے شہروں بشمول کولکاتا اور اگرتلہ میں واقع ہسپتالی اور تجارتی سرگرمیاں بڑی حد تک بنگلہ دیشیوں پر انحصار کرتی تھیں۔ لیکن دونوں طرف بڑھتی پولرائزیشن، خصوصاً بھارت میں "بنگلہ دیشی” کے نام پر نفرت انگیزی نے تعلقات کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
جہاں تک عبوری حکومت کی کامیابی اور اہداف کی تکمیل کا سوال ہے، اس کا اندازہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (TIB) کی حالیہ رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے اندرونی حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی، بالخصوص امن و امان کی صورتِ حال بدترین ہے۔ اس رپورٹ میں یونس حکومت کی مختلف شعبوں میں کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ سیاست، عوامی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اصلاحاتی اقدامات میں بد عنوانی، بد انتظامی اور انتظامی مسائل بدستور موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2024 سے جون 2025 کے درمیان سیاسی تشدد میں 121 افراد ہلاک اور 5,189 زخمی ہوئے۔ صرف جولائی 2025 میں 15 افراد ہلاک اور 661 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسینہ کے طویل دورِ اقتدار میں عوامی لیگ سے وابستہ رہنما، کارکن اور حامی بھتہ خوری، سنڈیکیٹ اور غیر قانونی وصولی میں ملوث تھے۔ مگر بغاوت کے بعد سے سیاسی رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں عوامی لیگ کی جگہ بآسانی پُر کر لی ہے اور بھتہ خوری کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔ صرف ڈھاکہ میں 53 ٹرمنلوں سے روزانہ تقریباً 2.12 کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ اصلاحات کی تمام تر کوششوں کے باوجود سیاسی کارکنان اور لیڈران ملک بھر کے کاروباری علاقوں پر قابض ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ من مانی مقدمات، حراست اور ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انصاف کا نظام بھی مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوسکا۔ عدلیہ میں سیاسی تقسیم بدستور برقرار ہے اور عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوا۔ متعدد اصلاحاتی ایجنڈے تجویز کرنے کے باوجود زیادہ تر جماعتیں داخلی جمہوری طرزِ عمل اپنانے میں ناکام رہی ہیں۔ سرکاری ادارے اور ان کے عملے بھی شدید تقسیم کا شکار ہیں۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سوشل ویلفیئر اینڈ ریسرچ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور جرائم کے تجزیہ کار ڈاکٹر توحید الحق اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ پولیس فورسز کو اب عوام اعتماد کی نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ انہیں محافظ کے بجائے ظالم سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے پولیس افسران کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ فورسز کے اندرونی اختلافات بھی گہرے ہیں۔ عوامی لیگ کے زوال کے بعد سیاسی بنیادوں پر طویل عرصے سے حاشیے پر رکھے گئے افسران کو ترقی دی گئی جب کہ پچھلی حکومت میں اہم کردار ادا کرنے والے افسران کو پش بیک کا سامنا ہے۔ مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے قائم مقامی مخبر نیٹ ورکس بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور اب مجرم پولیس سے خوفزدہ نہیں رہتے۔
یہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ مانسون انقلاب کو ایک سال گزر جانے کے باوجود اصلاحات کے وعدے ادھورے ہیں۔ سیاسی اصلاحات اور اتفاقِ رائے نامکمل ہیں۔ بڑھتی ہوئی لاقانونیت نے مانسون انقلاب کے مقاصد کو زائل کردیا ہے اور یہ شکوک و شبہات جنم دیے ہیں کہ آیا آئندہ انتخابات واقعی آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے یا نہیں۔ اپنے قیام سے اب تک بنگلہ دیش کی سیاست تناؤ اور تشدد کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔
عوامی لیگ کے منظرنامے سے غائب ہونے کے بعد بی این پی اور جماعتِ اسلامی، جو طویل عرصے تک حلیف رہے تھے اب حریف بن چکے ہیں۔ بی این پی کو یہ امید تھی کہ عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں وہ سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے آسانی سے اقتدار میں آ جائے گی مگر جماعتِ اسلامی اور نو تشکیل شدہ جماعت این سی سی کے درمیان اتحاد نے بی این پی کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔
بی این پی قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے حق میں ہے اور اس کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے لیکن وہ طلبہ تنظیمیں جنہوں نے "مانسون انقلاب” کی قیادت کی تھی اور این سی سی کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی تجاویز کو خالدہ ضیا کی جماعت قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ بی این پی کا مؤقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے کا اختیار عبوری حکومت کو نہیں بلکہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی منتخب حکومت کو ہے۔ اس کے برعکس جماعتِ اسلامی اور این سی سی کا مؤقف ہے کہ انتخابات سے قبل تمام اصلاحات نافذ ہونی چاہئیں اور انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ حسینہ کے خلاف بغاوت کے دوران ریاستی کریک ڈاؤن میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور انتخاب سے قبل ساختی اصلاحات کے نفاذ کا یہ اتحاد پُر زور مطالبہ کر رہا ہے۔
عوامی لیگ کے بعد جس جماعت کی زمینی پکڑ مضبوط ہے اور جس کی گرفت مختلف شعبوں میں نمایاں ہے، وہ جماعتِ اسلامی ہے۔ حسینہ کے دورِ اقتدار میں شدید ریاستی جبر اور پابندیوں کے باوجود جب اس کے قائدین غلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی، دلاور حسین سعیدی اور محمد قمرالزمان کو 1971ء کی جنگِ آزادی کے دوران پاکستانی فوج کی اعانت اور جنگی جرائم کے الزامات کے تحت متنازعہ بین الاقوامی جرائم ٹربیونل (ICT) کے ذریعے پھانسی دی گئی یا طویل حراست میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جماعت اسلامی نے اپنا وجود برقرار رکھا۔ بلکہ حسینہ اور ان کی جماعت کا یقین ہے کہ "مانسون انقلاب” کے پیچھے بھی جماعت اسلامی کا ہاتھ تھا، یہی وجہ تھی کہ احتجاج کے دوران اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
مقامی صحافیوں کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی اب ایک اہم سیاسی طاقت کے طور پر ابھری ہے اور اس کے ارکان نے پبلک یونیورسٹیوں اور ریاستی اداروں میں کلیدی عہدوں پر جگہ بنالی ہے۔ اس کے برعکس بی این پی کی طلبہ تنظیم "جتیوتبادی چھاترا دل” تعلیمی اداروں سے غائب ہوتی جا رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم "اسلامی چھاترا شبر” کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسلامی چھاترا شبر اور این سی سی کے اتحاد نے نوجوانوں کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
15 اگست کو شیخ مجیب الرحمن کی شہادت کے موقع پر ملک گیر خاموشی اس سیاسی منظر نامے میں تیزی سے آتی تبدیلی کی علامت تھی۔ عوامی لیگ کی غیر موجودگی، حسینہ کے طویل دورِ اقتدار میں ظلم و جبر، ماورائے عدالت سیاسی کارکنوں کے قتل اور مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی نے عوام کو نہ صرف حسینہ سے بدظن کیا بلکہ شیخ مجیب الرحمن اور ان کی تحریک سے بھی متنفر کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی بنگلہ دیش کی داخلی سیاست ہی نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ تعلقات پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔
خارجہ پالیسی کے موضوع پر مشہور جریدے فارن پالیسی میں شوشانت سنگھ کا مضمون "How India Alienated Bangladesh” (بھارت نے بنگلہ دیش کو کیسے الگ کیا) دونوں ملکوں کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ کی کئی پرتیں کھولتا ہے۔ شدت پسندی اور مذہبی جنون بھارت کے علاقائی مفادات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر فروری میں ہونے والے انتخابات میں جماعتِ اسلامی اور "مانسون انقلاب” کی قیادت کرنے والی نو تشکیل شدہ طلبہ جماعت اقتدار میں آتی ہے تو بھارت کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

 

***

 مغربی سرحد پر پہلے ہی پاکستان اور چین کی موجودگی نے بھارت کی سلامتی کو چیلنج کر رکھا ہے، مشرق میں میانمار داخلی خلفشار کے باعث آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کیا بھارت اس صورت حال میں بنگلہ دیش کے ساتھ دشمنی کا متحمل ہوسکتا ہے؟ یاد رہے کہ نیپال اور سری لنکا کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات میں پہلی جیسی گرمجوشی باقی نہیں رہی۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025

hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |