
آخری قسط :رمضان: برکتوں اور شخصیت کی تعمیر کا مہینہ
اعتکاف:خودشناسی ، احتساب ، غور و فکر اور علمی ارتقا کا سنہری موقع
ایس امین الحسن، نئی دہلی
نائب امیر جماعت اسلامی ہند
(ب) اعتکاف: علمی ارتقا اور غور و فکر کا وقت
شخصیت کے ارتقا کی پہلی منزل خود شناسی ہے۔ وہی لوگ حقیقی بلندی حاصل کرتے ہیں جو پہلے یہ جانتے ہوں کہ وہ کون ہیں، ان کی ذات میں چھپی ہوئی صلاحیتیں کون سی ہیں اور کون سی خواہشات ہیں جو ان کی نیکیوں پر ڈاکہ ڈالتی ہیں۔ خود شناسی میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اپنے قلب کے اندر موجود نورِ الہی کی جھلک کودیکھے، یہ جائزہ لے کہ عرفانِ باری تعالیٰ سے اس کا دل منور ہے یااندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اپنے قلب کی حالت کا معائنہ کرنا اور اپنی ذات کی آواز سننا اس عمل کا اہم حصہ ہے۔
لیکن اکثر انسان روزمرہ کی مصروفیات میں ان آوازوں کو سن نہیں پاتے اور اپنی ذات کی گہرائی میں اترنے کی ہمت نہیں کرتے۔ اس کےلیے تنہائی اور سکون ضروری ہوتا ہے۔ پچھلے زمانے میں لوگ اپنی ذات کی اصلاح کے لیے غاروں میں جابیٹھتے تھے، جہاں وہ عبادت اور ریاضت کے ذریعے خدا کی قربت حاصل کرتے تھے۔ اسلام نے اس طرزِ عمل کو راہبانہ قرار دیتے ہوئے ایک عملی اور متوازن راستہ دیا۔ اس نے تعلیم دی کہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی شعورکے ساتھ گزارے اور سال میں ایک بار اعتکاف کے ذریعے اپنی ذات کااحتساب کرے۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے، جہاں انسان اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لے، اپنی خوبیوں پراللہ کا شکر ادا کرے، اور نئی زندگی کا آغاز کرنے کا عزم کرے۔ اعتکاف انسان کو سکون اور خاموشی کا ماحول فراہم کرتا ہے، جہاں وہ اپنی شخصیت کی تعمیر، فکری ارتقا، اور روحانی ترقی کے لیےمنصوبہ بنا سکتا ہے۔
اعتکاف کی تاثیر وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس کی حقیقت سے واقف ہوں۔ لہٰذا جو لوگ اپنی شخصیت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، انہیں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے۔ یہ عمل نہ صرف روحانی بلکہ علمی اور جذباتی نشوونما کا بھی ذریعہ ہے۔
اعتکاف کے دوران:
1. قرآن کو اپنے ساتھ رکھیں اور اس پر غور و فکر کریں۔
2. اپنی زندگی، معاشرے اور حالات کا تجزیہ کریں۔
3. اپنے اندر تخلیقی سوچ پیدا کریں اور اپنی فکری بصیرت کوبڑھائیں۔
علمی ارتقا کے لیے عملی اقدامات
1. اپنے انٹلیکچول لیول(Intellectual Level)کا جائزہ لیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ چار پر کھڑے ہیں اور پانچ پر جانا چاہتے ہیں، توایک مخصوص موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کریں۔
2. رمضان کے دوران 3-4 علمی اہداف طے کریں، جیسے:
کسی ایک سورۃ کا تفصیلی مطالعہ۔
تراویح میں پڑھی جانے والی آیات کا خلاصہ جاننا۔
کسی علمی مجلس یا درس میں شرکت۔
قرآنی موضوعات پر تحقیق، جیسے والدین، بچوں کی تربیت، یا معاشرتی تعلقات۔
3. غور کریں کہ آپ کا علمی ارتقا کس حد تک ہو رہا ہے اور اس کی بنیاد پر رمضان کے بعد بھی اپنے منصوبے کو جاری رکھیں۔
قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کے ذہن کو روشن کرتی ہے، اسکی عقل کو جلا بخشتی ہے، اور اس کہ پڑھنے والے کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ رمضان میں قرآن سے جڑنا آپ کی علمی اور فکری ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اعتکاف کے دوران غور و فکر اورقرآن کا مطالعہ آپ کو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کاموقع فراہم کرے گا۔
رمضان کے ان سنہری لمحات کو ضائع نہ کریں۔ قرآن کو اپنے دل ودماغ کا حصہ بنائیں، اپنی عقل کو تحریک دیں، اور اپنے علمی سفرکو رمضان کے دوران ایک نئی بلندی پر لے جائیں۔ یہ وقت ہے اپنی سوچ کو بدلنے، اپنی شخصیت کو نکھارنے، اور اپنی زندگی کو ایک نئے رخ پر ڈالنے کا۔
3.رمضان: سماجی ارتقا اور مواسات کا مہینہ
رمضان المبارک نہ صرف روحانی اور علمی ارتقا کا موقع ہے بلکہ سماجی تعلقات کو مضبوط کرنے اور انسانی خدمت کا بہترین وقت بھی ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر سماج سے الگ تھلگ رہتےہیں، حالانکہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہمیں معاشرتی مسائل میں شامل ہونے اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنےکی دعوت دیتی ہیں۔ یہ مہینہ "مواسات” یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ ہے، جہاں ہم دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں اوران کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔”
صحابہ کرامؓ نے پوچھا: "یا رسول اللہ، اگر ہمارےپاس افطار کے لیے کچھ نہ ہو؟” آپ نے فرمایا:
"ایک کھجور، ایک گھونٹ پانی یا لسی کے ذریعے بھی افطار کرانےوالا اجر کا مستحق ہوگا۔”
یہ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ افطار کرانا صرف مالی استطاعت رکھنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔
سماجی خدمت کے عملی اقدامات
رمضان میں سماجی ارتقا کے لیے ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کےساتھ جڑنا اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرناچاہیے۔ یہاں کچھ قابل عمل تجاویز دی گئی ہیں:
1. لباس کی فراہمی:
اپنے پرانے مگر استعمال کے قابل کپڑے الگ کریں اور ان لوگوں تک پہنچائیں جنہیں ان کی ضرورت ہے۔
2. تعلیمی مدد:
جون کے مہینے میں تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ضرورت مندبچوں کے لیے اسکول یونیفارم، بستے اور دیگر ضروری سامان فراہم کریں۔
3. افطار کا انتظام: روزانہ کسی پڑوسی یا مستحق شخص کے لیےافطار کا اہتمام کریں۔ 30 دن کے لیے 30 مختلف گھروں میں افطارپہنچانے کا منصوبہ بنائیں۔
4. راشن کی فراہمی: رشتہ داروں یا قریبی لوگوں میں سے ایسےپانچ گھرانوں کا انتخاب کریں جو مالی مشکلات کا شکار ہوں اورپورے رمضان کا راشن فراہم کریں۔
5. قرض کی ادائیگی: قریبی دکانوں پر جا کر ان لوگوں کی چھوٹی چھوٹی رقم کے قرضے ادا کریں جو مہینوں سے ادائیگی نہیں کرپائے۔ دکاندار کے ذریعے یہ خدمت خاموشی سے انجام دیں تاکہ ضرورت مندوں کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔
6. معاشرتی مسائل پر غور و فکر: رمضان کے دوران اپنی تنہائی میں یہ منصوبہ بنائیں کہ آپ سماج میں کس طرح مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں، جیسے:
نوجوانوں کے لیے اخلاقی تربیت کے پروگرام منعقد کرنا۔
غربا کے لیے فلاحی منصوبوں کا آغاز۔
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے تعلقات قائمکرنا۔
مواسات کا حقیقی مفہوم
رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم صرف اپنی ذات پر توجہ نہ دیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھیں اور ان کے مسائل کو حل کرنےمیں مدد کریں۔ یہ مہینہ ہمیں غریبوں کی بھوک کا احساس کرنے، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے اور اپنی مالی و جسمانی صلاحیتوں کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سماجی خدمت کے فوائد
1. روحانی مسرت:
جب آپ کسی کے قرض کی ادائیگی کریں گے یا کسی کو افطار فراہم کریں گے تو آپ کو جو دعائیں ملیں گی وہ آپ کے دل میں سکون اورخوشی پیدا کریں گی۔
2. اللہ کی رضا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو اس کے بندوں کوفائدہ پہنچائے۔”
3. سماجی تعلقات کی بہتری:
پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک آپ کے تعلقات کومضبوط کرے گا اور معاشرے میں محبت و اخوت کا پیغام عام کرے گا۔
منصوبہ بندی: سماجی ارتقا کے لیے اہداف
رمضان سے پہلے اپنے سماجی اہداف طے کریں:
1. کتنے لوگوں کی مدد کرنی ہے؟
2. کون سے اقدامات کرنے ہیں؟
3. کتنا وقت اور مال خرچ کرنا ہے؟
سماجی ارتقا کے لیے منصوبہ بنانا ضروری ہے، اس کے نتیجے میں آپ مؤثر اقدامات کرسکیں گےاور رمضان کے بعد بھی آپ کو اس خدمت کے تسلسل میں رہنے کی ترغیب ملے گی۔
یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ رمضان صرف انفرادی عبادات کامہینہ نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ جڑنے اور سماجی خدمت کامہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں انسانیت سے محبت، ہمدردی اور خدمت کادرس دیتا ہے۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کریں، ان کی ضروریات کو پورا کریں، اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔ یہ مواسات کا مہینہ ہے، جو ہمیں سماج کے لیے ایک بہتر انسان بننےکی ترغیب دیتا ہے۔
4. رمضان: جذباتی نشوونما اور خود پر قابو پانے کا مہینہ
موجودہ دور میں مختلف عقائد رکھنے والے گروہوں کے درمیان یا ایک ہی مذہب کے مختلف فرقوں کے درمیان دوری اور مخاصمت کی بنیادی وجہ اختلافات کو ہوا دینے میں جذبات کا استعمال ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی بات کو عقل کی ترازو پر پرکھ کردیکھ سکیں اور صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں۔ یہ معاملہ ذاتی زندگی اور گھریلو زندگی میں بھی غم بھی روپ اختیار کرتا جا رہاہے۔ ازدواجی زندگی میں چپقلش، ماں باپ اور بچوں کے درمیان صبح شام تو تکرار، بھائی بہنوں میں وراثت کے مسائل یا دیگر امور کو لےکر ناراضگیاں، محلے کے دو پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی یہ سب جذبات کے عدم توازن کے شاخسانے ہیں۔
جو لوگ اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھتے ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جذبات انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔ کسی معاملے میں وہ عقل سے موقف اختیار نہیں کرتے بلکہ جذبات کے عینک چڑھا کر معاملات کو دیکھنےکے عادی ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں سیدھے سادے مسائل بھی پیچیدہ نظر اتے ہیں۔ اج کی دنیا کے مشکل ترین کاموں میں جذباتی توازن پیدا کرنا ایک کام ہے۔ جذبات سے انسان خالی نہیں ہو سکتاالبتہ اسے یہ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ جذبات کو اپنےقابو میں کیسے رکھے گا، کب اس کا اظہار کرے گا اور کس اسکیل پراس کا اظہار معقول ہوگا۔ اج کے دور میں یہ ایک ہنر ہے اور یہ سیکھنے سے اتا ہے اور سیکھنے کا منصوبہ اور عمل اوری کا پلان بنانا ضروری ہے۔ رمضان المبارک کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ مومنوں کو روزے کے ذریعے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی تعلیم و تربی تدیتا ہے۔ رمضان المبارک نہ صرف عبادات، علمی ترقی، اور سماجی تعلقات کا مہینہ ہے بلکہ یہ جذباتی نشونما اور خود پر قابو پانے کےلیے بھی ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ ایک مومن کو صبر، استقامت، اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی عملی تربیت دیتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ بے ہودہ بات نہ کرےاور نہ شور مچائے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔”
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ جہاں ایک روحانی عبادت ہےوہیں جذباتی تربیت کی بھی ایک کارگاہ ہے۔ روزہ انسان کو اپنےغصے پر قابو پانے، زبان کو بے جا باتوں سے محفوظ رکھنے، اور اپنی جذباتی کیفیت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کا درس دیتا ہے۔
جذباتی نشوونما کے نفسیاتی پہلو
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، جذباتی نشوونما کا مطلب ہے کہ انسان اپنے جذبات کو پہچانے، انہیں مثبت انداز میں ظاہر کرے، اور مشکل حالات میں اپنے رویے کو متوازن رکھے۔ رمضان ان تمام پہلوؤں پر کام کرنے کا ایک مثالی وقت ہے۔
1. غصے پر قابو پانا:
نفسیات کے مطابق، غصہ اکثر جسمانی اور ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہوتاہے۔ رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ غصے کے وقت خاموشی اختیارکریں، صبر کریں، اور اپنے جذبات کو مثبت عمل میں تبدیل کریں۔ روزےکی حالت میں غصے پر قابو پانے سے جذباتی سکون اور تعلقات میں بہتری آتی ہے۔
2.زبان کی حفاظت:
ماہرین کا کہنا ہے کہ زبان سے نکلنے والے الفاظ ہماری ذہنی اورجذباتی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زبان سے نکلنے والے الفاظ محبت، شفقت، اور ہمدردی کے ہوں۔ جھوٹ، غیبت، اور فضول باتوں سے پرہیز کرنے کی تربیت ہمیں رمضان میں ملتی ہے۔
3. نظر اور خیالات کی حفاظت:
نفسیاتی تحقیق کے مطابق، جو چیزیں ہم دیکھتے ہیں، وہ ہمارےخیالات اور جذبات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ رمضان ہمیں اپنی نظر اورخیالات کو پاک رکھنے کی تربیت دیتا ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے:
"قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّوا۟ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُوا۟ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۗ”
(سورۃ النور: 30)
ترجمہ: "مومنوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔”
4. مثبت جذبات کی ترقی:
رمضان ہمیں مثبت جذبات جیسے صبر، ہمدردی، اور شکر گزاری کوفروغ دینے کا موقع دیتا ہے۔ روزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی مشکلات پر شکر گزار رہیں اور دوسروں کی تکالیف کو محسوس کریں۔
جذباتی نشوونما کے لیے عملی اقدامات
1. غصے کے وقت خاموشی: اگر کسی صورت حال میں غصہ آئے توفوراً خاموش ہو جائیں، روزے کی حالت میں نہ ہوں تو پانی پی لیں، یاجگہ تبدیل کر لیں۔
2. یاد دہانی: دن کے آغاز میں یہ ارادہ کریں کہ زبان کو جھوٹ، غیبت اور فضول باتوں سے محفوظ رکھیں گے۔
3. ذکر اور دعا: جب بھی جذبات قابو سے باہر ہوں تو اللہ کا ذکرکریں اور دعا کریں۔
4. جذباتی احتساب: دن کے اختتام پر اپنے جذبات کا جائزہ لیں اورغور کریں کہ آپ نے کہاں صبر کیا اور کہاں جذبات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
رمضان: تبدیلی کا زرین موقع
رمضان ہمارے لیے اپنی جذباتی زندگی کو بہتر بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم غصے، زبان، نظر، اور رویے کودرست کر کے اپنی شخصیت کو نکھار سکتے ہیں۔ رمضان کے دوران اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر اور مثبت عادات کو فروغ دے کر آپ رمضان کے بعد بھی ایک بہتر انسان بن سکتے ہیں۔
(جاری)
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 02 مارچ تا 08 مارچ 2025