
شائستہ اسحاق شیخ—،درزی کی بیٹی کا میڈیکل کالج تک کا سفر
مدنی ہائی اسکول اردو میڈیم کی طالبہ کا غیر معمولی کارنامہ
محمد مجیب الاعلیٰ
جب مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کوئی طالبہ اپنی محنت اور عزم سے کامیابی کے منازل طے کرتی ہے تو اس کی کہانی نہ صرف متاثر کن ہوتی ہے بلکہ پورے سماج کے لیے ایک نئی روشنی، امید اور جذبہ و تحریک بن جاتی ہے۔ شائستہ اسحاق شیخ کی کامیابی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے—مغربی ممبئی کے علاقے گورے گاوں میں ایک چھوٹے سے کرایے کے مکان میں رہائش پذیر ایک درزی کی بیٹی نے یہ ثابت کر دیا کہ خواب نہ غربت کے اسیر ہوتے ہیں، نہ حالات کے قیدی بلکہ وہ صرف عزم و حوصلے اور جہدِ مسلسل کے تابع ہوتے ہیں۔
شائستہ ایک سادہ مگر باہمت گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے والد درزی ہیں جنہوں نے سلائی مشین کی دھڑدھڑاہٹ کو اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے ساز بنا دیا۔ اگرچہ تنگ دستی نے ان کے گھر کے سامنے ڈیرے ڈال دیے تھے مگر انہوں نے خون پسینے کی کمائی سے شائستہ کے خوابوں اور درخشاں مستقبل کی آبیاری کی۔ شائستہ کے دل میں بچپن ہی سے ایک ڈاکٹر بننے کا خواب پنپ رہا تھا جو بالآخر اس کی محنت اور والدین کی عرق ریزی و دعاؤں کی بدولت شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔
اردو میڈیم اسکول کی طالبہ شائستہ نے ابتدا ہی سے ایک ہونہار طالبہ کے طور پر خود کو منوایا۔ پڑھائی میں وہ ہمیشہ ممتاز رہی۔ اس نے SSC کے امتحان میں شاندار 87.2 فیصد نمبرات حاصل کیے اور بارہویں جماعت میں بھی اول درجے سے کامیابی پائی۔ لیکن اصل امتحان NEET UG 2025 — کا انتظار کر رہا تھا جس کے بغیر اس کا خواب پورا نہ ہو سکتا تھا۔ شائستہ کے لیے یہ راستہ مشکک ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں۔ مالی تنگی کے باوجود والد نے بھاری فیس ادا کرکے دو سال کوچنگ دلائی پھر اردو میڈیم سرکاری امدادی درس گاہ ’مدنی ہائی اسکول‘ کے پرنسپال عامر انصاری اور اساتذہ کی محنت و توجہ نے اپنا رول ادا کیا اور یوں شائستہ نے 512 نمبرات کے ساتھ آل انڈیا رینک 39,136 حاصل کر کے شاندار کامیابی پائی، جس کے نتیجے میں اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج واشم میں MBBS میں داخلہ مل گیا۔
یہ کامیابی شائستہ کی انفرادی کامیابی سے کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ لمحہ اس کے اسکول کے لیے بھی غیر معمولی فخر کا باعث بنا۔ شائستہ کا مادرِ علمی مدنی ہائی اسکول (اردو میڈیم) ممبئی میں برسوں سے متوسط و پسماندہ طبقوں کے بچوں کو تعلیم کی روشنی فراہم کر رہا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود یہ ادارہ اپنے طلبہ کی صلاحیتیں نکھارنے اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع دلانے میں نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے۔ جناب عامر انصاری نے بتایا کہ گزشتہ سال اسی اسکول کے چار طلبہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں MBBS میں داخلہ حاصل کیا تھا اور اس سال شائستہ اسحاق شیخ سمیت تین طلبہ نے یہ شاندار کامیابی دہرائی۔ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر معیار اور محنت کو شعار بنا لیا جائے تو اردو میڈیم اسکول بھی شاندار نتائج دے سکتے ہیں۔
ہفت روزہ دعوت نے شائستہ اسحاق شیخ سے ان کے تعلیمی سفر، اسکول کے ماحول، اساتذہ کے رول اور گھر کے حالات کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے بچپن ہی سے ڈاکٹر بننے کی خواہش تھی اور خاص طور پر امی بھی یہ کہتے ہوئے میرا شوق بڑھاتی رہیں کہ ’’بیٹی تجھے ڈاکٹر بننا ہے‘‘۔ پھر والد صاحب نے کسمپرسی کے باوجود کبھی تنگی کا احساس ہونے نہیں دیا۔ قسمت سے اسکول اور اساتذہ بھی اچھے ملے، جنہوں نے نہ صرف توجہ اور محنت سے پڑھایا بلکہ اعلیٰ تعلیم کا شوق بھی دلاتے رہے ۔
اسٹدی کے طریقے کے بارے میں سوال پر شائستہ نے بتایا کہ ’’میں روزانہ 8 تا 10گھنٹے پڑھائی کرتی ہوں۔ میری عادت ہمیشہ یہی رہی کہ صبح سویرے اٹھ کر مطالعہ کروں، کیونکہ راتوں کو جاگ کر پڑھنا مجھے پسند نہیں ہے‘‘۔
اس سوال پر کہ طب کے کس شعبے میں ان کی دل چسپی ہے؟ شائستہ نے کہا وہ ایم بی بی ایس کے بعد امراض نسواں میں اختصاص حاصل کرنا چاہیں گی اور نیت یہی ہے کہ لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے قابل بن سکوں۔
اردو میڈیم کی یہ طالبہ اب اپنے محلے کے لیے بھی ایک مثالی کردار بن چکی ہے۔ بچے اسے رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک استاد نے بجا طور پر کہا کہ ’شائستہ نے ثابت کر دیا کہ نہ زبان رکاوٹ ہے نہ غربت؛ اصل سرمایہ تو محنت اور حوصلہ ہے۔‘ اب جب کہ وہ ایم بی بی ایس کی تعلیم کے نئے سفر پر گامزن ہے، اسے بخوبی اندازہ ہے کہ یہ مرحلہ بھی محنت و حوصلے ہی سے طے ہوگا اور جس حوصلے اور لگن نے اسے یہاں تک پہنچایا ہے، وہی جذبہ اسے آگے بھی کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار کرے گا۔ آج وہ پرجوش اور پرعزم ہے کہ ایک دن ڈاکٹر بن کر اپنے وجود سے انسانیت کو بھرپور فائدہ پہنچائے گی۔
اس کہانی کا ایک امید افزا پہلو یہ بھی ہے کہ جن بچوں نے غربت اور تنگ دستی کی سختیوں کو قریب سے دیکھا ہوتا ہے، وہ منزل مراد پر پہنچ کر اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ بھوک، محرومی اور علاج کی مجبوری کیا ہوتی ہے، اسی لیے ان کے دل میں غریب اور بے سہارا انسانوں کے لیے ایک فطری ہمدردی جاگزیں رہتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں علاج اکثر مہنگا اور انسانیت کمیاب نظر آتی ہے، ایسے ڈاکٹروں کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جو دولت پر انسانیت کو ترجیح دیں۔
شائستہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ دین پسند ہے اور نمازوں کی پابندی کرتی ہے۔ اس ہونہار طالبہ کے خاندانی پس منظر اور اس کے عزم و حوصلے کو دیکھ کر دل کہتا ہے کہ وہ یقیناً ایک دن غریبوں کی مسیحا بنے گی۔ اس کی کامیابی میں وہ عقابی روح جلوہ گر نظر آتی ہے جو بلند پروازی کو حیات مستعار کا مقصد سمجھتی ہے۔
اس سوال پر کہ ہفت روزہ دعوت کے قارئین اور طلبہ برادری کو کیا پیغام دینا چاہیں گی، شائستہ نے کہا:
’’بس یہی کہ انسان کی نیت پاکیزہ ہو۔ ہر کام انسانوں کی بھلائی اور اللہ کو خوش کرنے کے لیے کیا جائے۔ اصل اہمیت دولت کو نہیں بلکہ ان اعمال کو دینی چاہیے جو آخرت میں ہمارے لیے ذخیرہ بنیں گے‘‘
***
اردو میڈیم کی یہ طالبہ اب اپنے محلے کے لیے بھی ایک مثالی کردار بن چکی ہے۔ بچے اسے رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک استاد نے بجا طور پر کہا کہ ’شائستہ نے ثابت کر دیا کہ نہ زبان رکاوٹ ہے نہ غربت؛ اصل سرمایہ تو محنت اور حوصلہ ہے۔‘ اب جب کہ وہ ایم بی بی ایس کی تعلیم کے نئے سفر پر گامزن ہے، اسے بخوبی اندازہ ہے کہ یہ مرحلہ بھی محنت و حوصلے ہی سے طے ہوگا اور جس حوصلے اور لگن نے اسے یہاں تک پہنچایا ہے، وہی جذبہ اسے آگے بھی کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار کرے گا۔ آج وہ پرجوش اور پرعزم ہے کہ ایک دن ڈاکٹر بن کر اپنے وجود سے انسانیت کو بھرپور فائدہ پہنچائے گی۔
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025