
پروفیسر نعیمہ خاتون کی وائس چانسلری: تاریخی تقرری اور قانونی کشمکش
اے ایم یو کی پہلی خاتون وائس چانسلر کے تقرر کو سپریم کورٹ میں چیلنج
ابو منیب
تصور کیجیے ایک تاریخی یونیورسٹی کا منظر، جہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نام کی قدیم عمارتیں گزشتہ سو سال سے علم و دانش کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔ اسی ماحول میں، اپریل 2023 میں ایک نئی کہانی رقم ہوئی جب پروفیسر نعیمہ خاتون، ماہر نفسیات اور یونیورسٹی کی دیرینہ استاد، پہلی خاتون وائس چانسلر کے طور پر منتخب ہوئیں۔ یہ تقرری گویا ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھی، جو صنفی برابری کی خوشبو لیے ہوئے آیا تھا اور صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو کی منظوری نے اس پر حتمی مہر ثبت کر دی تھی۔ مگر جس طرح ہر دلچسپ کہانی میں ایک موڑ آتا ہے اسی طرح اس کہانی میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا جب پروفیسر مظفر عروج ربانی اور پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے مئی 2025 کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں اس تقرری کو برقرار رکھا گیا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ پروفیسر نعیمہ خاتون کے شوہر، پروفیسر محمد گلریز جو اس وقت عارضی وائس چانسلر تھے،بان کی ایگزیکٹو کونسل کی میٹنگ میں موجودگی سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوا، جو تقرری کے عمل میں غیر جانبداری کو داغدار کرتا ہے۔
18 اگست 2025 کو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی اور چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں بنچ نے اس تقرر کو کھنگالنا شروع کیا۔ عدالت نے خاص طور پر اس نکتے پر انگلی اٹھائی کہ پروفیسر گلریز نے اس میٹنگ کی صدارت کی جہاں ان کی اہلیہ کا نام زیر بحث تھا۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب ہم کالجیم میں بیٹھتے ہیں اور کسی جونیئر وکیل کا نام آتا ہے تو ہم خود کو الگ کر لیتے ہیں۔ اب جب بیوی کا نام ہو تو شوہر کی شرکت سے تو شکوک و شبہات کا طوفان اٹھنا لازمی ہے! بات صرف درست ہونے کی نہیں، درست دکھائی دینے کی بھی ہے۔ یہ ریمارک فطری انصاف کے اصولوں کو ایک ادبی جھلک دے کر پیش کرتا ہے، جیسے کوئی شاعر کہے کہ :
عدل کی شمع جلے سب کے لیے
مگر اس کی لو داغ سے پاک رہے
درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے معاملے کو مزید گرم کر دیا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ پروفیسر گلریز کا ووٹ فیصلہ کن تھا؛ اگر وہ ووٹ نکال دیا جائے تو پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری کا معاملہ ہی الٹ جاتا۔ کپل سبل کی ٹیم—جس میں ایڈووکیٹس نظام پاشا، عظیم احمد، سدھارتھ کوشک، اوستیکا داس، عارف علی اور مادھو دیپک شامل تھے—نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ عمل قدرتی انصاف کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل عائشہ بھاٹی نے پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری کو تاریخی اور ان کی تعلیمی خدمات کو نمایاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقرری جزوی انتخاب اور جزوی تعیناتی کا امتزاج ہے، جسے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر اعتراض واقعی اصولی ہوتا تو پرووسٹ (Provost) جیسی دیگر تقرریوں کو کیوں چیلنج نہیں کیا گیا؟ انہوں نے درخواست گزاروں کے اعتراضات کو محض ’’جانبداری کے خدشات‘‘ قرار دے کر مسترد کیا۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی عدالت کے سامنے دلیل پیش کی کہ بعض اوقات عمل کے تقاضوں کے تحت شمولیت ناگزیر ہوتی ہے، جس کی بنیاد ٹاٹا سیلولر کیس میں دیے گئے اصول پر ہے۔ لیکن عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور واضح کیا کہ انتخابی و تعلیمی اداروں میں شفافیت لازمی ہے تاکہ فیصلوں پر کوئی شبہ نہ رہے۔
سماعت میں ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب بنچ کے رکن جسٹس کے ونود چندرن نے خود کو کیس سے الگ کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں نیشنل لا یونیورسٹی کے کنسورشیم کے چانسلر تھے جب پروفیسر فیضان مصطفیٰ جو اس کیس میں درخواست گزار ہیں اور ایک نامور قانونی ماہر—کو چنا گیا، نیشنل لا یونیورسٹی کا وائس چانسلر منتخب کیا گیا تھا۔ ’’میں نے فیضان مصطفیٰ کو منتخب کیا تھا، اس لیے میں الگ ہو سکتا ہوں،‘‘ اس پر سالیسٹر جنرل نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا مگر چیف جسٹس نے کیس کو نئی بنچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تاکہ عدالتی عمل کی شفافیت پر کوئی داغ نہ لگے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری خواتین کی ترقی کی علامت ہے۔ اگر وہ برقرار رہتی ہے تو یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن اگر چیلنج کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایک سبق بن جائے گا۔
اس تقرری پر سماجی اور سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کی قیادت کی علامت ہے اور الزامات محض سیاسی ہیں۔ ناقدین اسے گورننس کی کمزوری قرار دیتے ہیں۔ میڈیا نے متوازن رائے پیش کی ہے کہ یہ موقع ہے تعلیم کے شعبے میں شفافیت کو آگے بڑھانے کا، اگرچہ اس پر اقلیتی ادارے کی حیثیت کے سبب کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔
اگر سپریم کورٹ تقرری منسوخ کرتی ہے تو نئی پالیسیوں کی راہ کھلے گی، جیسے لازماً الگ رہنے کا اصول، جو شفافیت کو بڑھائے گا مگر خواتین کی نمائندگی کو وقتی دھکا لگ سکتا ہے۔ اور اگر تقرری برقرار رہتی ہے تو یہ خواتین کی قیادت کی بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ پورا معاملہ تعلیم، قانون اور برابری کے کئی پہلوؤں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری کی کہانی یا تو شفافیت کی جیت بنے گی یا پھر ایک سبق چھوڑ جائے گی۔ اب فیصلہ سپریم کورٹ کے نئے بنچ کے ہاتھ میں ہے، اور یہی فیصلہ بھارت میں تعلیمی اداروں کے مستقبل کے توازن کو بھی طے کرے گا۔
***
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025