لال قلعہ سے آر ایس ایس کی مدح سرائی جدوجہدِ آزادی کی توہین کے عین مترادف!

آر ایس ایس کو ’’قومی خدمت‘‘ کا ادارہ قرار دینا حقیقی شہداء کی قربانیوں کی تذلیل

زعیم الدین احمد ،حیدرآباد

ساورکر کی تصویر گاندھی جی اور بھگت سنگھ سے اوپر رکھنا تاریخ مسخ کرنے کی ایک اور کوشش
’’یومِ آزادی کو نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘‘ : اپوزیشن کا سخت ردعمل
مسلمان مجاہدینِ آزادی کا کردار دانستہ پسِ پشت ڈالنے کی سازش۔نئی نسل کو حقیقی تاریخ بتانا وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری
ہندوستان کی 79 ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیلوں سے اپنی تقریر میں آر ایس ایس کو ’’سو برس کی قومی خدمت‘‘کا حامل ادارہ قرار دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب آزادی کے دن کی سرکاری تقریر میں اس تنظیم کی کھلی تعریف کی گئی، جس پر اپوزیشن نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’جدوجہدِ آزادی کی توہین‘‘ کہا۔ ساتھ ہی وزارتِ پٹرولیم کے ایک سرکاری پوسٹر میں ساورکر کی تصویر کو گاندھی، بھگت سنگھ اور سبھاش چندر بوس سے اوپر دکھایا گیا۔ اس پورے واقعے نے آزادی کی تحریک کی تاریخ اور اس کے ہیروز کے مقام کو مسخ کرنے کے اندیشے کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔
مودی کی تقریر اور آر ایس ایس کی تعریف
وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں بڑے فخر سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک ادارہ آر ایس ایس سو سال پہلے قائم ہوا تھا۔ سو برس کی یہ قومی خدمت ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ سنگھ کے کارکنوں نے ویکتی نرمان یعنی (کردار سازی) اور راشٹر نرمان یعنی (قومی تعمیر) کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے جس کی تاریخ فخر انگیز ہے۔‘‘
یہ بیانات گویا ایک سرکاری سطح پر آر ایس ایس کو آزادی کی جدوجہد کے مساوی بلکہ بعض جگہ اس سے برتر مقام دینے کی کوشش ہیں۔ اس بیان پر اپوزیشن نے بڑا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
• کانگریس کے جے رام رمیش نے کہا کہ یہ ’’سیکولر آئینی روح کی کھلی خلاف ورزی‘‘ ہے اور مودی دراصل ستمبر کے بعد اپنی قیادت بچانے کے لیے آر ایس ایس کی خوشنودی تلاش کر رہے ہیں۔
• کمیونسٹ پارٹی کے ایم اے بیبی نے کہا کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد اسی تنظیم پر پابندی لگی تھی، آج اس کی تعریف کرنا شہداء کی توہین ہے۔
• آر جے ڈی کے منوج جھا کے مطابق یومِ آزادی کو نفرت کے اشاروں اور تاریخ کے مسخ کرنے کے لیے استعمال کرنا شرمناک ہے۔
• کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے آر ایس ایس کو ’’دنیا کی سب سے بڑی نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والی مشینری‘‘ قرار دیا۔
• ڈی ایم کے کی کنی موژی نے کہا کہ یہ ’’جھوٹ کے ساتھ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش‘‘ ہے۔
ساورکر کی تصویر گاندھی اور بھگت سنگھ سے اوپر کیوں؟
وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ پوسٹر میں وِی ڈی ساورکر کو گاندھی، بھگت سنگھ اور بوس کے اوپر دکھایا گیا۔ ترنمول کانگریس کی ساگریکا گھوش نے کہا: ’’گاندھی کے قاتل سے وابستہ ایک تنظیم کو لال قلعہ سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ایک ایسے شخص کو گاندھی، بوس اور بھگت سنگھ کے برابر کھڑا کیا گیا جس نے برطانوی حکومت سے معافی نامے داخل کیے تھے۔‘‘
سی پی آئی (ایم) کے جان برٹاس نے کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ’’سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی‘‘ ہے، جس کا مقصد ساورکر کو ہیرو بنا کر حقیقی ہیروز کو پس منظر میں دھکیل دینا ہے۔
تاریخی ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ آر ایس ایس نے کبھی آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے بانی ہیڈگیوار اور گولوالکر کا زور ہمیشہ ہندو راشٹر کی تعمیر پر رہا۔ گولوالکر نے صاف کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان اور عیسائی اگر رہنا چاہتے ہیں، تو دوسرے درجے کی حیثیت قبول کریں۔ یہ سوچ آزادی کی تحریک کے مقاصد کے خلاف تھی اور انگریزوں کے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے فارمولے سے میل کھاتی تھی۔
مولانا مودودیؒ کا خطبۂ مدراس اور ہندو قوم پرستی
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مدراس کے خطبہ میں اس حقیقت کو واضح کیا تھا:
’’ہندو قوم پرستی دراصل ایک تنگ نظر اور جابرانہ قوم پرستی ہے، جو ہندوستان کے کروڑوں غیر ہندو باشندوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے پر اصرار کرتی ہے۔ یہ فکر دراصل انگریزوں کی غلامی کے خلاف نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہے۔‘‘
اور کہتے ہیں کہ ’’ہندو قوم پرستی دو ٹانگوں پر کھڑی ہے: ایک ٹانگ انگریزی اقتدار سے نجات اور دوسری ٹانگ مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں ہٹا دی جائیں تو ہندو قوم پرستی زمین پر گر پڑے گی۔‘‘ یہ الفاظ آج کے حالات میں اور بھی زیادہ سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہندوتوا کی پوری سیاست ماضی کی داستانوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے پر قائم ہے۔
آج آر ایس ایس کی تربیت پانے والی قیادت مرکز میں ہے۔ نصابِ تعلیم میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، تاریخ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے اور مسلم مجاہدینِ آزادی کے نام دانستہ حذف کیے جا رہے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ آزادی صرف ہندوؤں کی قربانی سے ملی اور مسلمانوں نے ہمیشہ غدار کا کردار ادا کیا۔ یہ بیانیہ نہ صرف تاریخی بد دیانتی ہے بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور یکجہتی کے لیے خطرہ ہے، اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ہندو قوم پرستی کا ایجنڈا آزادی اور جمہوریت کے برعکس ہے۔
آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ برسہا برس سے مخصوص فکر کے مسلمانوں کے کردار کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس جدوجہد میں پیش پیش تھے:
• ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف عسکری مزاحمت کی اور اپنی جان قربان کی۔
• نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پائی۔
• بہادر شاہ ظفر 1857ء کی جنگِ آزادی کے روحانی و علامتی قائد تھے، جنہیں رنگون میں جلاوطنی اور اذیتیں سہنی پڑیں۔
• مولانا فضل حق خیرآبادی اور ہزاروں علماء نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف فتوے دیے اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
• مولانا ابوالکلام آزاد نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے آزادی کی قیادت کی اور جیلیں کاٹیں۔
• مولانا حسین احمد مدنی نے جمعیت علماء ہند کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کو عوامی تحریک بنایا۔
• خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے عدم تشدد کی بنیاد پر شمال مغربی سرحدی صوبے میں آزادی کی جدوجہد کی قیادت کی۔
• اشفاق اللہ خان نے کاکوری تحریک میں حصہ لیتے ہوئے پھانسی کا پھندا قبول کیا۔
یہ سب نام اور ہزاروں دیگر گمنام شہداء اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آزادی کا خواب صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ سب کا مشترکہ تھا۔
یومِ آزادی کا دن قومی وحدت اور قربانیوں کی یاد کا دن ہوتا ہے۔ مگر وزیر اعظم مودی کی تقریر اور حکومت کے اقدامات نے اس دن کو ایک خاص نظریے کے فروغ کا ذریعہ بنا دیا۔ آر ایس ایس کی تعریف اور ساورکر کو گاندھی و بھگت سنگھ سے اوپر دکھانا تاریخ کی صریح مسخ شدگی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کسی ایک تنظیم یا ایک نظریے کی مرہونِ منت نہیں تھی۔ یہ کسانوں، مزدوروں، علماء، طلبہ، خواتین اور تمام مذاہب و طبقات کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ مسلمانوں کے کردار کو نظرانداز کرنا اور آر ایس ایس کو آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کرنا نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہے بلکہ ہندوستانی آئین کی سیکولر روح پر بھی حملہ ہے۔
آج کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم نئی نسل کو اصل تاریخ بتائیں، ان حقیقی ہیروز کو یاد رکھیں جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں، اور ہر اس کوشش کا مقابلہ کریں جو نفرت و تقسیم کے ذریعے قوم کی وحدت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

 

***

 وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں بڑے فخر سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک ادارہ آر ایس ایس سو سال پہلے قائم ہوا تھا۔ سو برس کی یہ قومی خدمت ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ سنگھ کے کارکنوں نے ویکتی نرمان یعنی (کردار سازی) اور راشٹر نرمان یعنی (قومی تعمیر) کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے جس کی تاریخ فخر انگیز ہے۔‘‘


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 24 اگست تا 30 اگست 2025

hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |