ٹی وی چینلوں میں نفرت انگیزی پر مبنی مباحثوں پر سپریم کورٹ برہم، اینکرز کے طرز عمل پر سوال

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے پوچھا کہ نفرت انگیز مباحثوں پر مرکزی حکومت خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟

نئی دہلی،22 ستمبر 2022: سپریم کورٹ نے بدھ کو مین اسٹریم نیوز چینلوں پر بحث کرنے کے انداز پر ناراضگی ظاہر کی، جو اکثر نفرت انگیز تقاریر کو جگہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت سے بھی پوچھا کہ وہ ان نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے پوچھا کہ نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچز) و مباحثوں کے معاملے پر مرکزی حکومت خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟
بنچ نے مرکزی حکومت کے سینئر لاء آفیسر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے ایس جی) کے ایم نٹراج سے پوچھا، ’’کیا مسئلہ ہے؟ ہندستانی حکومت کوئی موقف کیوں نہیں لے رہی؟ حکومت خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ ,
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران یہ ریمارکس بھی دئے کہ مرکزی حکومت کو اس معاملے پر مخالفانہ موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے بلکہ عدالت کی مدد کرنی چاہئے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی دھارے میں شامل ٹی وی نیوز چینلوں کی جم کر سرزنش کی جو اکثر نفرت انگیز تقریر کو اپنے پروگراموں کے درمیان جگہ دیتے ہیں، اور مشاہدہ کیا کہ نفرت انگیز تقاریر سے سیاست دانوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور ٹی وی نیوز چینل نفرت انگیز تقریر کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جو کسی بھی جمہوری ملک کے شایان شان نہیں ہے۔
جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں اور جسٹس ہریشی کیش رائے پر مشتمل بنچ نے کہا، اس طرح، ایک ٹی وی چینل کی بحث میں اینکرز کا کردار "بہت اہم” اور "پیچیدہ ” ہوتا ہے اور مزید کہا کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شو میں مدعو کئے جانے والے مہمان غیرمہذب زبان کا استعمال نہ کرنے پائیں۔

جسٹس جوزف نے کہا کہ اینکر کا کردار بہت اہم ہے۔ مین اسٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا پر یہ تقاریر جو بے قاعدہ ہیں۔ اینکر کا کردار اہم ہے۔ جیسے ہی آپ کسی کو غیرمہذب زبان میں جاتے  دیکھتے ہیں، اینکر کا فرض ہے کہ وہ فوری طور پر دیکھے کہ وہ کیا کرتا ہے "اس شخص کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں”۔
سپریم کورٹ نے ‘ہیٹ اسپیچ’ کے واقعات کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مناسب ہدایات دینے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ تبصرے کیے ہیں۔
بنچ نے کہا کہ غیرمہذب زبان سے سیاستدانوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور ٹی وی نیوز چینل نفرت انگیز تقریر کو پلیٹ فارم دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جہاں اظہار رائے کی آزادی اہم ہے، ٹیلی ویژن پر نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے مثالوں کے ذریعہ اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح برطانیہ میں ایک ٹی وی چینل پر ایسا کرنے پر جرمانہ لگایا جاتا ہےکیوں کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا نیز نفرت انگیز بیانات پر قدغن لگایا جانا اور وہ بھی آن ایئر زیادہ ضروری اور اہم ہے۔

سپریم کورٹ کے حوالے سے ہی ایک اور اہم خبر یہ آـ رہی ہے کہ عدالت عظمی 27 ستمبر سے آئینی بنچ کی سماعت کو یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کرے گی۔
ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ روز تمام ججز کے متفقہ فیصلے کے بعد پانچ ججوں کی آئینی بنچ کی کارروائی کا ‘لائیو ٹیلی کاسٹ’ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
ای ڈبلیو ایس کوٹہ کا جواز، بھوپال گیس سانحہ کیس، داؤدی بوہرہ برادری میں بائیکاٹ کی مذہبی روایت وغیرہ کی سماعت آئینی بنچ کر رہی ہے۔
سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے حال ہی میں ایک خط کے ذریعے چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے دیگر ججوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ای ڈبلیو ایس کوٹہ، حجاب پر پابندی، شہریت ترمیمی قانون وغیرہ سمیت قومی اہمیت کے متعدد مقدمات کی سماعتوں کی براہ راست نشریات فوری طور پر شروع کریں۔
انہوں نے کہا کہ سوپنل ترپاٹھی کیس (2018) میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ہر شہری کے بنیادی حق کے تحت معلومات کی آزادی کے ساتھ ساتھ انصاف تک رسائی کا حق بھی ضروری بتایا تھا۔
اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمن کے آخری دن رسمی بنچ کی کارروائی کو براہ راست نشر کیا گیا تھا۔
گجرات، اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور کرناٹک سمیت کئی ہائی کورٹس نے یوٹیوب پر اپنی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ شروع کردی ہے۔