دہلی ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر سلمان خورشید کی کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا

نئی دہلی، نومبر 25: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کانگریس لیڈر سلمان خورشید کی کتاب سن رائز اوور ایودھیا : نیشن ہڈ ان آور ٹائمز (Sunrise Over Ayodhya: Nationhood In Our Times) کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت کو روکنے کی عرضی کو مسترد کر دیا۔

ایودھیا فیصلے پر یہ کتاب نومبر میں ایک تنازعہ کا مرکز بنی رہی ہے کیوں کہ اس میں دہشت گرد گروپس آئی ایس آئی ایس اور بوکو حرام سے ’’ہندوتوا کے ایک مضبوط ورژن‘‘ کا موازنہ کیا گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے ردعمل کا سامنا کرنے کے علاوہ دو وکلاء، ونیت جندال اور راج کشور نے اس ماہ کے شروع میں خورشید کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

لائیو لا کی خبر کے مطابق منگل کو ہائی کورٹ ان وکلاء کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جن کے وکیل نے کہا تھا کہ کتاب عوامی امن کو متاثر کر سکتی ہے۔

عدالت نے جواب دیا کہ لوگوں سے کہیں کہ کتاب نہ خریدیں اور نہ ہی پڑھیں۔ عدالت نے کہا ’’لوگوں کو بتائیں کہ یہ بری طرح سے لکھا گیا ہے، کچھ بہتر پڑھیں۔ اگر لوگ اتنے حساس ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کسی نے انھیں پڑھنے کو نہیں کہا۔‘‘

17 نومبر کو دہلی کے ایک ایڈیشنل سول جج نے ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی شکایت پر بھی خورشید کی کتاب کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت کو روکنے سے انکار کر دیا تھا۔

جج نے کہا تھا کہ مصنف اور پبلشر کو کتاب لکھنے اور شائع کرنے کا حق ہے۔