برطانیہ میں ہندو اور مسلم گروپوں میں جھڑپیں،15 افراد زیر حراست

لیسٹر شائر پولیس نے اتوار کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ علاقے میں پولیس کا گشت جاری ہے اور 15 افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

ہندوستان اورپاکستان کے درمیان ایشیا کپ میچ کے بعد برطانوی شہر لیسٹر میں مسلم اور ہندو برادری کے افراد کے درمیان کئی دنوں سے جاری کشیدگی رواں ہفتے عروج پر پہنچ گئی  تھی مگر پولیس کی فوری کاروائی نے حالات کو پرامن بنا دیا ہے۔ کشیدگی میں بھی کمی آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز تشدد اس وقت شروع ہوا جب بڑی تعداد میں ایک گروپ پہلے سے مظاہرہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک دوسرے گروپ نے مقررہ پروگرام کے بغیر ہی مظاہرہ شروع کر دیا۔ 28 اگست کے بعد سے دونوں فرقوں میں یہ تیسری جھڑپیں تھیں۔

لیسٹر شائر پولیس نے اتوار کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ علاقے میں پولیس کا گشت جاری ہے اور 15 افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

لیسسٹر پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ اتوار کے روز مشرقی لیسسٹر سے اس وقت دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا جب غیر اعلانیہ مظاہروں کے دوران دو گروپوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے، "دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک شخص کو تشدد بھڑکانے اور قانون و انتظام میں خلل ڈالنے کی سازش کے شبہے میں جب کہ دوسرے شخص کو تیز دھار والی چیز رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ دونوں ابھی پولیس کی تحویل میں ہیں۔”

پولیس اور کمیونٹی لیڈروں نے لوگوں سے پرسکون رہنے اور قابل اعتراض ویڈیوز شیئر نہ کرنے کی اپیلیں کی ہیں۔

ایک ٹویٹ میں لیسٹر پولیس نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر افسران کو شمالی ایونگٹن کے علاقے میں بھی نوجوانوں کے گروہوں کے جمع ہونے کی اطلاع ملی تھی، جس پر وہ وہاں پہنچی اور مزید نقصان روکنے کے لیے علاقے کو محاصرے میں بھی لیا گیا۔

پولیس نے ٹویٹ میں کہا: ’اس افراتفری کے کمیونیٹی پر اثرات ناقابل قبول ہیں۔ ہم لیسٹر میں تشدد اور لاقانونیت برادشت نہیں کریں گے۔ اور سکون اور بات چیت پر زور دیتے رہیں گے۔‘

پولیس نے حالات میں بہتری لانے میں مدد کرنے والے مقامی لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پورا واقعہ کیا تھا؟

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اتوار کے روز ہونے والی یہ جھڑپیں 28 اگست کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے  ایشیا کپ کرکٹ میچ کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تصادم کے سلسلے کا تازہ واقعہ تھا۔

حالانکہ یہ میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا تھا لیکن دونوں دیرینہ حریفوں کے درمیان پائی جانے والی تلخی لیسٹر میں بھی نظر آئی۔

اتوار کے روز جس جگہ جھڑپیں ہوئیں وہاں مسلم تاجروں کی ملکیت والی متعدد دکانیں ہیں اور اس کے قریب ہی ایک مندر بھی ہے۔

پولیس نے دونوں فرقوں کو ایک دوسرے سے متصادم ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران ایک گروپ نے”جے شری رام” کے نعرے لگائے جب کہ دوسرے گروپ نے جواب میں "اللہ اکبر” کے نعرے بلند کیے۔دونوں گروپوں نے جھڑپیں شروع کرنے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔

مزید جھڑپوں اور کشیدگی سے بچنے کے لیے پولیس نے سکیورٹی  کے سخت ترین انتظامات  کر رکھے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

قبل ازیں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیل گئی کہ ایک مسجد پر حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم لیسسٹر پولیس نے اس افواہ کی تردید کی۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا،”ہم نے سوشل میڈیا پر رپورٹیں دیکھیں ہیں کہ ایک مسجد پر حملہ کیا گیا ہے۔جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد پولیس افسران نے بتایا کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔ ”

پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا،”ہمارے شہر میں تشدد اور بدنظمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا ہے اور حالات اب قابو میں ہیں۔ واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔” پولیس نے صرف ایسی اطلاعات اور ویڈیوز شیئر کرنے کی اپیل کی ہے جن کی جانچ کرلی گئی ہوں اور جو صحیح ہوں۔”