یہ بل اکثریتی تسلط کا اظہار،پوری طاقت سے بل کے خلاف لڑیں گے: محمود مدنی

نئی دہلی ،02 اپریل :۔

پارلیامنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے  کے بعد مسلم تنظیموں نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیاجارہے وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ حکومت اپنی عددی برتری کے بل پر اسے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل  میجوریٹورین اپروچ اور غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔ اس بل کو زبردستی ایوان میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتی حقوق  کو غصب کرنے کی کوشش ہے  جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔انھوں نے جس طر ح اس کو بنایا ہے ، اور جس ارادہ اور رویہ کے ساتھ اس کو  پیش کررہے ہیں ، وہ مسلمانوں کا معاملہ مسلمانوں کے خلاف ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی، مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

بطور اقلیت، میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بل ناقابل قبول ہے، اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی  اور ہم ہر قانونی اور پرامن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔